سول و عسکری قیادت پاکستان کی معاشی بحالی کیلئے پرعزم.

 
0
65

.سول و عسکری قیادت پاکستان کے مشکل حالات کے باوجود معاشی بحالی کیلئے پرعزم ہیں، اس سلسلے میں حکومت نے پاکستان کی معاشی بحالی کا قومی پلان تیار کیا ہے جس کے تحت غیرملکی سرمایہ کاری کے راستے میں رکاوٹیں دور کرنے کے سپیشل انوسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) قائم کر دی گئی ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر نے کہا کہ معاشی بحالی کی حکومت کے پلان پر عمل درآمد کی کوششوں کی پاکستان آرمی بھرپور حمایت کرتی ہے اور اسے پاکستان کی سماجی و معاشی خوش حالی اور اقوام عالم میں اپنا جائز مقام واپس حاصل کرنے کی بنیاد سمجھتی ہے۔ وزیراعظم آفس کےاعلامیہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کونسل کا پہلا اجلاس منعقد ہوا جس میں چیف آف آرمی سٹاف، وزراء اعلی، وفاقی وصوبائی وزراء ، اعلی سرکاری حکام نے شرکت کی۔ حکومت نے اعلی سطح کے اجلاس میں پاکستان کی ‘معاشی بحالی’ کی جامع حکمت عملی جاری کر دی ہے۔ ‘اکنامک ریوائیول پلان’ کے عنوان سے تیار کردہ اس قومی حکمت عملی کا مقصد پاکستان کو درپیش موجودہ معاشی مسائل اور بحرانوں سے نجات دلانا اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی صدارت میں غیرملکی سرمایہ کاری کے راستے میں رکاوٹیں دور کرنے کے لئے قائم کردہ ‘سپیشل انوسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل’ (ایس آئی ایف سی) کے پہلے اجلاس میں چیف آف آرمی سٹاف، وزرائے اعلیٰ، وفاقی اور صوبائی وزرا اور اعلی سرکاری حکامِ شریک ہوئے۔ منصوبے کے تحت زراعت، لائیو سٹاک، معدنیات، کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی اور زرعی پیداوار جیسے شعبوں میں پاکستان کی اصل صلاحیت سے استفادہ کیا جائے گا۔ منصوبے کے تحت ان شعبوں کے ذریعے پاکستان کی مقامی پیداواری صلاحیت اور دوست ممالک سے سرمایہ کاری بڑھائی جائے گی۔ منصوبے کے تحت ‘ایک حکومت’ اور ‘اجتماعی حکومت’ کے تصور کو فروغمخمھ دیا جائے گا تاکہ سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں میں حائل تمام رکاوٹیں دور کی جائیں۔ اس منصوبے پر عملدرآمد کو تیز کرنے کے لئے سپیشل انوسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) بنادی گئی ہے جو سرمایہ کاروں اور سرمایہ کاری میں سہولت کے لئے ‘سنگل ونڈو’ کی سہولت کا کردار ادا کرے گی۔ منصوبے کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اشتراک عمل پیدا کیا جائے گا۔ طویل اور دقت کا باعث بننے والے دفتری طریقہ کار اور ضابطوں میں کمی لائی جائے گی۔ تعاون اور اشتراک عمل کا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔ سرمایہ کاری اور منصوبوں سے متعلق بروقت فیصلہ سازی یقینی بنائی جائے گی جبکہ وقت کے واضح تعین کے ساتھ منصوبوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ وفاق اور صوبوں میں ہم آہنگی لائی جائے گی تاکہ ایک ہی معاملے پر دوہری کوششوں کے رجحان کا خاتمہ ہو۔ وفاق اور صوبوں کی اعلی سطح شرکت تمام مشکلات کے باوجود معاشی بحالی کے قومی عزم کا واضح اظہار ہے۔ چشمہ 5 منصوبے میں چینی کمپنی نے 30 ارب روپے کا ڈسکاؤنٹ دیا ہے،سعودی عرب اور قطر بھی پاکستان کی مدد کررہے ہیں۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کو ورثے میں تباہی کے دھانے پر کھڑی معیشت ملی جسے مشکل اور دلیرانہ فیصلوں کے ذریعے بحرانوں سے نکال کر تعمیر و ترقی کی طرف واپس لا رہے ہیں۔ ابھی بہت بڑے چیلنجز ہمارے سامنے ہیں۔ معاشی بحالی کے لئے برآمدات بڑھانے والی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔

لہذا حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اجتماعی سوچ اپناتے ہوئے موثر عمل درآمد کے لئے وفاق اور صوبوں میں شراکت داری کا انداز اپنایا جائے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ابھی بہت بڑے چیلنج ہمارے سامنے ہیں۔ معاشی بحالی کے لیے برآمدات بڑھانے والی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کلیدی اہمیت رکھتی ہے، لہٰذا حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اجتماعی سوچ اپناتے ہوئے موثر عمل درآمد کے لیے وفاق اور صوبوں میں شراکت داری کا انداز اپنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو اولین ترجیح دی جائے گی اور اشتراک عمل کے ذریعے منصوبوں سے متعلق منظوری کا عمل تیز بنایا جائے گا وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاروں کو اولین ترجیح دی جائے گی اور اشتراک عمل کے ذریعے منصوبوں سے متعلق منظوری کا عمل تیز بنایا جائے گا۔ متوقع سرمایہ کاری سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ نوجوانوں اور خواتین کو روزگار ملے گا، ترقی کے نئے امکانات دیں گے۔ ہماری توجہ نوجوانوں اور خواتین کو اپنی صلاحیتوں کے بھرپور اظہار کے قابل بنانا ہے۔ انہیں با اختیار بنانا ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ آئیں مل کر اپنی بھرپور صلاحیتوں سے کام کرنے کا عزم کریں اور اپنی توجہ بھٹکنے نہ دیں۔ ہم پاکستان اور عوام کا مقدر بدل سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لئے ہمیں مسلسل اور سخت محنت کرنا ہوگی اور سمت برقرار رکھتے ہوئے ملک وقوم کو ترقی اور خوش حالی کے راستے پر گامزن رکھنا ہوگا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور اس کے عوام کا حق ہے کہ انہیں معاشی ترقی اور خوش حالی سے ہم کنار کیا جائے، یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے یہ فرض سونپا ہے۔حکومت کا دعویٰ ہے کہ اقتصادی بحالی کا منصوبہ پاک چین اقتصادی راہداری سے بھی بڑا منصوبہ ثابت ہوگا۔علاوہ ازیں وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ 1200 میگاواٹ کا چشمہ فائیو نیوکلیئر پاور پلانٹ معاہدہ پاک چین دوستی میں ایک اور سنگ میل ہے، مشکل معاشی حالات کے باوجود پاکستان معاشی بحالی کیلئے پرعزم ہے۔1200میگاواٹ کے چشمہ فائیو جوہری بجلی گھرکی تعمیر کی مفاہمتی یاداشت پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی ۔ اس تقریب میں وزیراعظم کی موجودگی میں چین کی نیشنل نیوکلیئر کارپوریشن اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے درمیان مفاہمت کی یاداشت پردستخط کئے گئے۔وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے اس موقع پرکہا کہ چین کی طرف سے سرمایہ کاری، جس کو پاکستان اپنا سب سے زیادہ قابل اعتماد اتحادی سمجھتا ہے، قابل ستائش عمل ہے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ چشمہ فائیو نیوکلیئر پاور پلانٹ معاہدہ پاک چین دوستی میں ایک اور سنگ میل ہے، مشکل معاشی حالات کے باوجود پاکستان معاشی بحالی کےلئے پرعزم ہے۔ چین کی جانب سے3ارب 48کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری مثبت اقدام ہے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ”چین کی طرف سے 4.8 ڈالر کی سرمایہ کاری کا یہ منصوبہ واضح پیغام دیتا ہے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے، جس پر چینی کمپنیاں اور سرمایہ کار اپنا اعتماد اور یقین رکھتے ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ تاخیر کا شکار ہونے پر چین نے ہماری مدد کی، جس کے لیے وہ صدر شی جن پنگ کے بہت ممنون و مشکور ہیں۔وزیر اعظم نے عوام کو اس اہم معاہدے کے طے پا جانے پر دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے اس معاہدے کو ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پاک چین معاشی تعلقات کیساتھ ساتھ دیرینہ دوستانہ روابط کو مزید تقویت ملے گی۔
شہباز شریف کی حکومت کو قرضوں کی ادائیگیوں اور معاشی عدم توازن کے بحران سے نمٹنے کے لیے بہت زیادہ جدو جہد کرنا پڑ رہی ہے،
وزیر اعظم نے چینی شراکت داروں کی طرف سے تازہ ترین پروجیکٹ کے لیے 100 ملین ڈالر کے ڈسکاؤنٹ کی پیش کش کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ہے،
یہ واضح نہیں ہے کہ آیا نئی سرمایہ کاری اُس 65 بلین ڈالر کا حصہ ہے، جس کے لیے چین نے اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا وعدہ کیا ہےگذشتہ ڈیڑھ سال سے پاکستان میں سیاسی رسہ کشی جاری ہے مہنگائی کے ستائے عوام بمشکل زندگی گزار رہے ہیں۔ اس وقت مہنگائی اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے جبکہ اس سے قبل 2022 کی گرمیوں میں ملک کا بیشتر حصہ سیلاب کی نذر ہو گیا جس کے متاثرین کی بحالی کے لیے پاکستان دیگر ممالک کی جانب دیکھ رہا ہے کیونکہ معاشی بدحالی کے باعث پاکستان کے پاس اس وقت ضروری درآمدات کے لیے بھی ڈالرز نہیں ہیں۔’پاکستان کی معیشت ہمیشہ مد و جزر کا شکار رہی ہے۔ گو کہ پاکستان کو ورثہ میں بچے کھچے صرف چند ادارے ملے لیکن اس وقت ایک قابل انتظامیہ موجود تھی جس کی بدولت 1950 تک پاکستانی معیشت ایک مستحکم درجہ اختیار کرچکی تھی۔ کوریا کی جنگ میں پاکستانی کپاس، پٹ سن سے خوب زرِ مبادلہ حاصل ہوا۔ لیکن ملکی معیشت میں تبدیلی1958 کے بعد آئی۔ پاکستان کا دوسرا پانچ سالہ منصوبہ 1965 میں ختم ہوا۔ اس وقت پاکستانی معیشت کو ترقی پذیر ممالک کے لئے ایک ماڈل کی حیثیت حاصل تھی۔ ورلڈ بینک کے مطابق اس وقت جو ممالک پہلی دنیا (ترقی یافتہ ممالک) کا درجہ حاصل کرسکتے تھے، ان میں پاکستان بھی شامل تھا۔ 1965 کی پاک بھارت جنگ کے بعد معیشت میں خرابی پیدا ہوئی لیکن جلد ہی اس پرقابو پالیا گیا اور1968 تک ترقی کی شرح دوبارہ سات فیصد سے زیادہ ہوگئی۔ اس کے بعد حالات خراب ہونا شروع ہوئے۔1972میں جب نئی حکومت برسرِ اقتدار آئی تو اس نے ملک میں بہت سی اصلاحات نافذ کرنے کی کوشش کی لیکن ان کا ردِ عمل منفی ہوا۔ بڑی صنعتوں کو قومیا لیا گیا۔ اس طرح پاکستان میں موجودکئی ایک بڑے صنعت کاروں کو ملک چھوڑنا پڑا۔ اس عمل سے ملک میں صنعتوں کی ترقی کی شرح بہت کم ہوگئی اور اس کا اثر عمومی قومی پیدا وار پربھی پڑا۔ روپیہ کی قدر کم کرنے کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا۔ البتہ بہت سے لوگوں کو مڈل ایسٹ جانے کا موقع ملا۔ اس طرح ملک میں مصنوعی خوشحالی نظر آنے لگی,1980 کے عشرے میں ملک میں سیاسی استحکام رہا، اس لئے دوبارہ ترقی کی شرح بڑھنے لگی لیکن افغان بحران کی وجہ سے ملک میں اندرونی بحران پیدا ہوتا رہا۔ 1988 کے بعد سے آنے والی حکومتوں نے پائیدار ترقی کے بجائے وقتی اقدامات سے عوام کو خوش رکھنے کی کوشش کی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے بعد پھر کبھی بھی پاکستانی معیشت مستحکم نہ ہوسکی۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت کو مسلسل کم کیا جاتا رہا۔ ملک میں ڈیںڈیم نہ بنائے گئے اور سستی بجلی نہ مل سکی۔ ملک آئی پی پیز کے چنگل میںپھنس گیا جس کی وجہ سے نہ صرف توانائی مہنگی ہوئی بلکہ گردشی قرضہ بھی بڑھتا رہا۔9/11 کے بعد پاکستان پر بین الاقوامی پابندیاں ختم ہوئیں بلکہ بہتر ہوئیں،2008تک برسراقتدار رہنے والی حکومت نے معاشی مسائل کو بہت سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش کی۔ اس عرصے میں ترقی کی شرح بڑھ گئی۔ 2006 میں جی ڈی پی میں 8.5فیصد اضافہ ریکارڈ کیاگیا۔ افسو س کہ اس کے بعد پھر جی ڈی پی گرنا شروع ہوگئی۔ روپے کی قدر کم کردی گئی۔ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔
اگر ہم ماضی کا جائزہ لیں تو بہت مایوسی ہوتی ہے۔ آج پاکستان معاشی بحران کا شکار ہوچکا ہے۔ روپیہ اپنی قدر کھوئے جارہا ہے۔ برآمدات میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ معیشت سست روی کا شکار ہے اور ٹیکس آمدنی میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔ جب موجودہ حکومت برسراقتدار آئی تو اسے سب سے بڑا مسئلہ ادائیگیوں کے خسارہ کا درپیش تھا۔ سابقہ حکومت نے برآمدات پرکوئی توجہ نہ دی جو کہ 2013 کے بعد مسلسل گررہی تھیں۔2013میں ہماری برآمدات 25ارب ڈالر تھیں جوکہ 2017 میں کم ہو کر صرف21 ارب ڈالر رہ گئیں۔ اس طرح بجائے اس کے کہ برآمدات بڑھتیں وہ کم ہوگئیں۔ اگر ہماری برآمدات صرف15فیصد سالانہ کے حساب سے بڑھتیں تو2018 تک یہ کم از کم 55 ارب ڈالر ہونی چاہئے تھیں۔ اس طرح ہم خسارے کے بجائے منافعے میں ہوتے۔ اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا خسارہ چین کے ساتھ ہے جو کہ تقریباً14 ارب ڈالر کا ہے۔ اگر چین کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات کئے جاتے کہ وہ پاکستان سے اتنی ہی مقدار میں درآمدات کریں جتنی برآمدات ہیں تو مسئلہ حل ہو سکتا تھا۔ دوسری صورت میں تمام غیرضروری درآمدات پر پابندی لگا دی جاتی اس طرح پاکستان اس درآمدات میں کم ازکم 30فیصد کمی کرسکتا تھا۔ آج اگر ہم بازاروں میں جائیں تو آپ کو فرنیچر، باتھ ٹائلز چاکلیٹ، بسکٹ، کپڑے اور نہ جانے کیا غیر ضروری اشیاء درآمد شدہ ملتی ہیں۔ اگر ان کو بند کردیا جائے تو نہ صرف زرِ مبادلہ کی بچت ہوتی ہے بلکہ ملک میں بھی ان کی پیداوار بڑھے گی۔ اس طرح ہماری جی ڈی پی میں اضافہ ہوگا۔ امپورٹڈ کلچر نے معیشت کا ستیا ناس کردیا ہے۔ افسوس کہ معاملات کو معاشی کے بجائے سیاسی طور پر لیاجا رہا ہے۔ معیشت ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اسے سیاسی طریقے سے حل نہیں کیا جاسکتا۔ یاد رہے کہ پاکستان ایک بہت ترقی پذیر معیشت رہا ہے لیکن صرف سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے آج تباہ حال معیشت کا حامل ہے۔ اگر ہم نے اپنی معیشت کو سنجیدگی سے اور جرأت مندی سے نہ چلایا تو حالات بگڑسکتے ہیں۔ یاد رہے کہ کوئی بھی ملک ایسے حالات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس لئے معاشی سنجیدگی کی اشد ضرورت ہےایک فرد یا ایک ماہر پاکستان کی معیشت کا حل نہیں نکال سکتا۔ سب کو اتفاق پیدا کرنا ہو گا۔ یہ ایک سیاسی جماعت کا کام بھی نہیں۔‘