کشمیری قیادت نے ریاست کی خصوصی حیثیت اور مسلم تشخص کو بچانے کی خاطر ایک مربوط احتجاجی کلینڈر جاری کردیا

 
0
558

سرینگر اگست24(ٹی این ایس)مقبوضہ کشمیر کی آزادی پسند قیادت کے اتحاد،مشترکہ مزاحمتی قیادت نے  ریاست کی خصوصی حیثیت اور مسلم تشخص کو بچانے کی خاطر ایک مربوط احتجاجی کلینڈر کا اجراء کیا ہے جس کے تحت کنٹرول لائن کے دانوں اطراف ، یورپ،مشرق وسطیٰ اور دنیا کے دیگر خطوں میں مہم چلائی  جائے گی۔

بھارتی آئین آرٹیکل  35اے کے تحت کشمیر میں غیر ریاستیوں کو وہاں املاک خریدنے اور اور باشندگی اختیار کرنے پر پابندی ہے تاہم مودی حکومت  اسرئیلی طرز پر اب اس قانون کو ختم کرکے ریاست میں بھارتییوں کو آباد کرکے اسکے مسلم تشخص کو ختم کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔

کشمیری عوام اسکے خلاف سخت مزاحمت پر آمادہ ہے چنانچہ حریت پسند قیادت نے اسکے خلاف باقاعدہ احتجاجی کلینڈر جاری کردیا ہے۔سری نگر سے جاری اپنے بیاں میں قیادت نے کلینڈر کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ   25اگست بروز جمعہ کشمیر بار ایسوی سیشن  پرامن احتجاج کرے گی جبکہ اسی روز جملہ ضلعی بار ایسو سی ا یشنز اپنے اپنے مقامات پر احتجاجی مظاہرے کریں گی۔26اگست بروز ہفتہ کو سول سوسائٹی،تاجر تنظیموں،مذہبی و سماجی جماعتوں اور زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افرادپرامن احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کریں گے۔ 27اگست بروز اتوار کو امریکہ، برطانیہ،یورپ ،مشرق وسطیٰ اور پاکستان میں بسنے والے کشمیری احتجاجی مظاہرے کریں گے جبکہ اس روز آزاد کشمیر کے عوام بھی مختلف مقامات پراپنا احتجاج درج کریں گے۔28اگست بروز پیر کودنیا بھر میں رہنے والے کشمیری سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا احتجاج درج کرتے ہوئے اس حوالے سے ایک پٹیشن پر دستخط کریں گے جبکہ اسی روز کشمیر بھر کے طلباء بھی پرامن احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کریں گے۔29اگست بروز منگل کو، جس روز بھارتی سپریم کورٹ آرٹیکل میں 35اے کے حوالے سے دائر عرضداشت کی سماعت کا آغاز ہوگا ، پورے مقبوضہ جموں کشمیر میں ایک روزہ مکمل احتجاجی ہڑتال کی جائے گی۔
سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا ہے کہ آرٹیکل 35اے کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کا بنیادی مقصد  کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے اور یہ مسئلہ براہ راست کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے ساتھ جڑا ہوا ہے اسلئے ہمیں اتحاد اور پامردی کے ساتھ اس کا دفاع کرنا ہوگا۔ میڈیارپورٹ کے مطابق مشترکہ مزاحمتی قیادت نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا جموں وکشمیر میں سٹیٹ سبجیکٹ قانون کا تحفظ کشمیر یوں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اور اسکی حفاظت کیلئے وہ اپنا لہو بھی بہانے سے گریز نہیں کریں گے۔ بیان میں کہا گیا کہ اگر سپریم کورٹ نے اس حوالے سے کوئی منفی فیصلہ سنایا تو ایک بھر پور احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا ہے کہ بھارتی حکمران لگاتار جموں کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی سازشیں رچا رہے ہیں اور وہ اس سلسلے میں کشمیر میں اپنے گماشتوں کو بھی بھر پور طریقے سے استعمال کر رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ کشمیریوں کی تحریک مزاحمت کو کمزور کرنے کیلئے این آئی اے کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ دنیا کا سب سے سب بڑا جمہوری ملک ہونے کا دعویدار بھارت کی فورسز کی طرف سے کشمیریوں کے خلاف چیرہ دستیوں کا سلسلہ عروج پر ہے ۔ بیان میں کشمیریوں پر زور دیا گیا کہ وہ تحریک آزادی کے خلاف بھارتی ریشہ دوانیوں کو ناکام بنانے کے لیے اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق کو مزید مضبوط بنائیں۔