کالے قانون کے تحت کشمیریوں کی نظربندی انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی ہے‘سید علی گیلانی

 
0
7392

سرینگر ستمبر 20  (ٹی  این ایس) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظربند کشمیری حریت پسندوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئےکہا ہے  یہ انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی  ہے۔ حریت چیئرمین نے نظربندوں کے حوالے سے تسلیم شدہ قوانین کی بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی جیلوں میں بے حُرمتی اور بڑھتی ہوئی لاقانونیت پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیاہے۔ انہوں نے کہا کہ سینئر حریت رہنما مسرت عالم بٹ، آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، امیرحمزہ اور دیگر سینکڑوں حریت پسند سیاسی رہنماؤں پر لاگوپبلک سیفٹی ایکٹ کو عدالتوں کی طرف سے کاالعدم قراردیے جانے کے باوجودبار بار گرفتار کرنا لاقانونیت کی بدترین مثال ہے۔انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر زوردیا کہ وہ غیر قانونی طور پر نظربند حریت پسند کشمیریوں کی رہائی کے لیے بھارتی حکومت پر اپنا سیاسی اورسفارتی دباؤ بڑھائیں۔۔

۔کشمیرمیڈیا کے مطابق سید علی گیلانی نے  ایک بیان میں کہا کہ بھارتی عدلیہ اور پولیس انتظامیہ کوکشمیریوں کو برس ہا برس تک قیدوبند کی صعوبتوں میں مبتلا رکھنے کی کھلی چھوٹ حاصل ہے۔انہوں نے ان اداروں کی طرف سے قواعد وضوابط کو بالائے طاقت ر کھ کر اپنے ہی قوانین کی خلاف ورزی کو ایک افسوس ناک مذاق قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب عدالت کسی قیدی پر لاگو پبلک سیفٹی ایکٹ کو کالعدم قرار دیتی ہے تو یہ احکامات صرف عدالت کے احاطے تک ہی محدود رہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ عدالت کے حکم نامے میں موجود یہ جملہ کہ ’’اگر ملزم کسی دوسرے کیس میں ملوث نہ ہو‘‘ ملزم کی بار بار گرفتاری کا سبب بنتا ہے اور من گھڑت اور بے بنیاد الزامات کے تحت مقدمات کا ایک نہ رُکنے والا سلسلہ شروع ہوجاتاہے۔