دنیا بھر میں خلیفہ دوم حضرت عمرؑ کا یوم شہادت منایا جا رہا ہے

 
0
59335

اسلام آباد ستمبر 22 ( ٹی این ایس) حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کا یوم شہادت نہایت عقیدت و احترام سے منایاجارہا ہے انہیں چھبیس ذی الحج کو دوران امامت زخمی کیا گیا تھا ۔عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ وہ ہستی ہیں جن کے قبول اسلام کیلئے خود حبیب اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پرور دگار سے دعا فرمائی تھی۔۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا( اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا) ۔   یہ قول خلیفہ دوئم کی عظمت و شان بیان کرنے کیلئے کافی ہے ۔ آج یکم محرم الحرام حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کا یوم شہادت ہے جو رات کے اندھیرے میں اپنی رعایا کا حال جان کر ان کی مددکرتے تھے۔ عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے جہاں قدم رکھا دین کا پرچم سربلند ۔ کو مضبوط معاشرے،۔مربوط سوسائٹی کا اور فلاحی ریاست کا تصور دینے والے عمر جب ایمان لائے تو مکہ کی گلیوں میں یقین اور سچائی کا جوش اور ولولے کے ساتھ ظہور ہوا۔ اللہ اکبر کی صدائیں گونجنے لگیں۔ اور پہلی بار مسجد الحرام میں اعلانیہ نماز ادا ہوئی۔۔

ان کی خلافت کے ساڑھے دس برس وہ دور ہے جس سے آج بھی دنیا رہنمائی لیتی ہے۔انہوں نے ہی سکھایا کہ ریاست کتنی دیانت دار ہونی چاہیےاور نظام عدل کیسا ہونا چاہیے۔ خلیفہ دوم کا دور ہر لحاظ سے مثالی رہا۔جس جگہ عمر کے لشکر گئے اسلام کے جھنڈے لہراتے گئے۔ اگر عمر کی فتوحات کا ذکر ہو تو صفحے کے صفحے روشن لفظوں سے جگمگا اٹھیں بطورخلیفہ دوم عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے بیت المال بنایا، ٹیکسوں کا نظام شروع کیا۔ سنہ ہجری کا تقرر ہوا۔ راتوں کو پہرے دار بھرتی کیے۔ باجماعت تراویح کا اہتمام ہوا۔ اپنا حال یہ تھا کہ کئی سلطنتوں کے امیر کے شانوں پر جو چادر رہتی تھی اس پر پیوند تھے۔ تیئیس ہجری، چھبیس ذی الحج کو فجر کا وقت تھا۔ عمر امامت کررہے تھے کہ ابو لولو نامی مجوسی نے آپ کے شکم میں زہر بجھا خنجر گھونپ دیا۔ عمر نے اشاروں میں نماز مکمل کی۔اور وہ رتبہ حاصل کرلیا جس کی خواہش اسلام میں داخل ہوتے ہی کی تھی۔۔

عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ شہید ہوئے اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں آخری آرام گاہ ملی