بخشش و مغفرت کی رات ’شبِ برات‘

109
2321

شب برات یا شب براءت اسلام کے آٹھویں مہینے شعبان کی 15ویں رات کو کہتے ہیں، مسلمان اس رات میں نوافل ادا کرتے، قبرستان کی زیارت کرتے اور ایک دوسرے سے معافی چاہتے ہیں۔ اس رات کو مغفرت کی رات اوررحمت کی رات بھی کہا جاتا ہے۔احادیث مبارکہ میں ’’لیلۃ النصف من شعبان‘‘ یعنی شعبان کی 15 ویں رات کو شب برات قرار دیا گیا ہے۔ اس رات کو براۃ سے اس وجہ سے تعبیر کیا جاتا ہے کہ اس رات عبادت کرنے سے اللہ تعالیٰ انسان کو اپنی رحمت سے دوزخ کے عذاب سے چھٹکارا اور نجات عطا کر دیتا ہے۔یہ رات مسلمانوں کے لئے آہ و گریہ و زاری کی رات ہے، رب کریم سے تجدید عہد کی رات ہے، شیطانی خواہشات اور نفس کے خلاف جہاد کی رات ہے، یہ رات اللہ کے حضور اپنے گناہوں سے زیادہ سے زیادہ استغفار اور توبہ کی رات ہے۔ اسی رات نیک اعمال کرنے کا عہد اور برائیوں سے دور رہنے کا عہد دل پر موجود گناہوں سے زنگ کو ختم کرنے کا موجب بن سکتا ہے۔

حضرت ابو بکر صدیقؓ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک ﷺ نے فرمایا اے مسلمانو! شعبان کی پندرھویں رات کو عباد ت کے لئے جاگتے رہو اور اس کامل یقین سے ذکر و فکر میں مشغول رہو کہ یہ ایک مبارک را ت ہے اور اس رات میں مغفرت چاہنے والوں کے جملہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔ایک اور حدیث مبارکہ میں حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ نبی پاک ﷺ فرماتے ہیں کہ’جب شعبان کی درمیانی رات آئے تو رات کو جاگتے ہوئے قرآنِ کریم کی تلاوت کی جائے اور نوافل میں مشغول ہوا جائے ، روزہ رکھا جائے کیونکہ اس رات اللہ اپنی صفات رحمن و رحیم اور رؤف کے ساتھ انسانیت کی جانب متوجہ ہوتا ہے اور خدا کا منادی پکار رہا ہوتا ہے کہ ہے کوئی معافی مانگنے والا کہ میں اسے معاف کر دوں، کوئی سوال کرنے والا کہ میں اس کا سوال پورا کر دوں، کوئی رزق مانگنے والا کہ میں اسے حلال وافر رزق عطا کر دوں، اور یہ صدائیں صبح تک جاری رہتی ہیں‘۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا شعبان کی پندرھویں شب عبادت میں بسر کرو اور دن کو روزہ رکھو، اس شب ہر گناہ بخش دیا جاتا ہے بخشش طلب کرنے والوں کا، رزق طلب کرنے والوں کے رزق میں وسعت عطا کی جاتی ہے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے جب شعبان کی پندرہویں شب آتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوتا ہے، ہے کوئی مغفرت کا طالب کہ اس کے گناہ بخش دوں ، ہے کوئی مجھ سے مانگنے والا کہ اسے عطا کروں ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے وہ ملتا ہے۔ وہ سب کی دعا قبول فرماتا ہے سوائے بدکار عورت اور مشرک کےکہا گیا ہے کہ اس کو شب برات اور شب صک اس لئے کہتے ہیں کہ بُندار یعنی وہ شخص کہ جس کے ہاتھ میں وہ پیمانہ ہوکہ جس سے ذمیوں سے پورا خراج لے کر ان کے لئے برات لکھ دیتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اس رات کو اپنے بندوں کے لئے بخشش کا پروانہ لکھ دیتا ہے۔ اس کے اور لیلۃ القدر کے درمیان چالیس راتوں کا فاصلہ ہوتا ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ماہِ شعبان کی نصف شب (یعنی پندرہویں رات) کو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے، پس وہ اپنے بندوں کو معاف کر دیتا ہے سوائے دو لوگوں کے: سخت کینہ رکھنے والا اور قاتل۔اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتی ہیں کہ ایک رات میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر نہ پایا تو میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت البقیع میں پایا کہ آسمان کی طرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا ہوا تھا مجھے دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نصف شعبان کو آسمان دنیا پر جلوہ گر ہوتا ہے اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے جس قدر بال ہیں اُن سے زیادہ لوگوں کو بخش دیتا ہے“(ترمذی شریف)۔شب برات بھی ان خاص ایام کے قبیل سے تعلق رکھنے والی ایک اہم رات ہے، جس میں احساسِ زیاں کو اجاگر کرنا مقصود ہے اس لئے کہ قرآن کریم کا الوہی پیغام ’لعلکم یتذکرون، لعلکم یتفکرون‘ کی صورت میں ہر وقت بلند ہورہا ہے۔

یہ بھی ایک قول ہے کہ یہ رات پانچ خصوصیتوں کی حامل ہوتی ہے۔اس میں ہر کام کا فیصلہ ہوتا ہے۔اس میں عبادت کرنے کی فضیلت ہے۔اس میں رحمت کانزول ہوتا ہے۔اس میں شفاعت کا اتمام ہوتا ہے۔پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس رات میں یہ عادت کریمہ ہے کہ اس میں آب زم زم میں ظاہراً زیادتی فرماتا ہے۔اِس شب کی بے شمار خصوصیات میں یہ بھی ہے کہ ِاس شب مبارکہ خاصانِ خدا کو علوم الہٰیہ عطا کئے جاتے ہیں، زم زم کا پانی بڑھ جاتا ہے ،ہر اَمرونہی کا فیصلہ ہوتا ہے ، بندوں کی عمر ،رزق اورعام و حوادث،مصائب و آلام، خیر و شر ،رنج و غم،فتح و ہزیمت،،وصل و فصل،ذلت و رفعت،قحط سالی و فراغی،غرضیکہ کے تمام سال ہونے والے افعال اِس شب مبارکہ میں اُس محکمہ سے تعلق رکھنے والے ملائکہ کو تفویض ہوتے ہیں،جس پر آئندہ سال عمل ہوتا ہے۔امام ابو حنیفہؓ فرماتے ہیں یہ رات انعاماتِ سبحانی، عنایاتِ ربانی، مسرت جادوانی اور تقسیم قسمت انسانیت کی رات ہے۔

اس رات گناہ گاروں کی مغفرت ہوتی ہے، مجرموں کی معافی ہوتی ہے، خطا کاروں کی بارات ہوتی ہے اور یہ شب ریاضت مراقبہ و احتساب اور تسبیح و تلاوت کی رات ہےشب برات کا دوسرے دنوں اور راتوں سے موازنہ کیا جائے تو شب برات دوسرے شب و روز سے بالکل مختلف ہے۔ عیدالفطر اور عیدالاضحٰی اللہ تعالیٰ کی طرف سے احکامات کی بجاآوری کا صلہ ہیں۔ اس میں انسان کو رمضان المبارک کے روزوں کی ادائیگی کے عوض عیدالفطر کی خوشی عطا ہوتی ہے۔ عیدین کا تعلق ہمارے باہمی معاملات سے ہے۔ احکامات کی بجا آوری کا صلہ اور انعام ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے بعد ماہِ شعبان میں روزں کا زیادہ اہتمام فرمایا کرتے تھے،

اس سلسلے میں حضرت اسامہ بن زیدؓ نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ ’’میں نے آپﷺ کو رمضان کے علاوہ شعبان میں اتنے روزے رکھتے نہیں دیکھا، حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’شعبان رجب اور رمضان کے درمیان ہونے کی وجہ سے لوگ اس سے غفلت برتنے لگتے ہیں، حالانکہ یہ مہینہ ایسا ہے کہ لوگوں کے اعمال اللہ کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، اس لئے میں یہی پسند کرتا ہوں کہ روزے کے ساتھ میرے اعمال اللہ کے دربار میں پیش کئے جائیں‘‘۔

حضرت عائشہ صدیقہؓ نے بھی شعبان میں کثرت سے روزہ رکھنے کی وجہ دریافت کی، تو آپﷺ نے فرمایا کہ ’’شعبان وہ مہینہ ہے کہ اس میں ملک الموت کے لئے ان لوگوں کے نام لکھ دیئے جاتے ہیں، جن کی روح نکالی جانی ہوتی ہے، لہذا میری خواہش ہے کہ میرا نام مرنے والوں کے ساتھ روزے کی حالت میں آئے‘‘۔شب برات دنیا و آخرت کے سنوارنے کے لئے ایک فکر کا نام ہے، یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دوری کو ختم کرکے قربت کی طرف ایک الارم ہے۔

حب الہٰی اور محبت رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ایک دعوت ہے۔ جس پر عمل پیرا ہوکر انسان دنیا اور آخرت سنوار سکتا ہے۔اسلامی دنوں میں سے چند دنوں اور راتوں کو بھی اس لئے فضیلت دی ہے کہ یہ دن اور راتیں دوسرے دن اور راتوں سے منفرد مقام رکھتے ہیں۔ یہ دن اور رات ہمیں جھنجھوڑتے ہیں اور ہمیں اللہ تعالیٰ کے خلیفہ اور نائب ہونے کا احساس دلاتے ہوئے اس منصب کے مطابق کردار ادا کرنے کی طرف راغب کرتے ہیں۔شب برات ہمارے لئے ایک الٹی میٹم ہے کہ اس رات اللہ کی یاد میں اشکبار ہوں، یہ رات اللہ کے فیوضات کا بحرِ بیکراں ہے جس میں غوطہ زن ہوکر اپنے من کو سیراب کیا جاسکے لیکن آج کے دور میں ہم اس کے برعکس اس رات کو پٹاخوں اور آتش بازی جیسے کاموں کی نذر کردیتے ہیں۔

109 COMMENTS

  1. There are some interesting points in time in this article however I don’t know if I see all of them heart to heart. There’s some validity but I will take maintain opinion till I look into it further. Good article , thanks and we would like more! Added to FeedBurner as nicely

  2. Can I just say what a reduction to find someone who actually knows what theyre speaking about on the internet. You positively know learn how to carry a difficulty to light and make it important. Extra people must learn this and perceive this side of the story. I cant imagine youre not more common since you undoubtedly have the gift.

  3. There are some interesting points in time on this article but I don’t know if I see all of them heart to heart. There’s some validity however I will take hold opinion till I look into it further. Good article , thanks and we wish more! Added to FeedBurner as well

  4. Someone essentially help to make seriously articles I would state. This is the first time I frequented your web page and thus far? I surprised with the research you made to create this particular publish incredible. Fantastic job!

  5. Hiya very cool web site!! Man .. Beautiful .. Amazing .. I’ll bookmark your web site and take the feeds also…I am satisfied to find so many helpful information here in the publish, we’d like work out more strategies on this regard, thanks for sharing. . . . . .

  6. After research just a few of the blog posts in your web site now, and I actually like your method of blogging. I bookmarked it to my bookmark web site listing and might be checking again soon. Pls check out my website as well and let me know what you think.

  7. I was curious if you ever thought of changing the page layout of your website? Its very well written; I love what youve got to say. But maybe you could a little more in the way of content so people could connect with it better. Youve got an awful lot of text for only having one or 2 pictures. Maybe you could space it out better?

  8. Hello, i think that i saw you visited my site so i came to “return the favor”.I am attempting to find things to improve my site!I suppose its ok to use some of your ideas!!

  9. Thanks for any other magnificent post. Where else may just anybody get that type of information in such an ideal method of writing? I have a presentation next week, and I’m on the look for such info.

  10. Throughout the awesome pattern of things you secure an A just for hard work. Where you lost me personally ended up being on all the facts. You know, they say, the devil is in the details… And that couldn’t be much more accurate at this point. Having said that, allow me reveal to you what did work. Your authoring can be very engaging and this is most likely why I am making an effort in order to comment. I do not make it a regular habit of doing that. Next, while I can easily see a leaps in logic you make, I am definitely not certain of just how you appear to connect your details which inturn make the conclusion. For now I will, no doubt subscribe to your issue however trust in the foreseeable future you actually link your dots better.

  11. I feel this is one of the so much significant information for me. And i’m satisfied reading your article. But should observation on few normal issues, The website style is wonderful, the articles is truly great : D. Just right process, cheers

  12. Hello! I just wanted to ask if you ever have any problems with hackers? My last blog (wordpress) was hacked and I ended up losing a few months of hard work due to no backup. Do you have any methods to protect against hackers?

  13. Attractive section of content. I just stumbled upon your web site and in accession capital to assert that I get in fact enjoyed account your blog posts. Any way I will be subscribing to your feeds and even I achievement you access consistently quickly.

  14. hello there and thank you for your information – I’ve definitely picked up anything new from right here. I did however expertise some technical issues using this site, as I experienced to reload the web site many times previous to I could get it to load properly. I had been wondering if your web hosting is OK? Not that I am complaining, but sluggish loading instances times will often affect your placement in google and could damage your high quality score if ads and marketing with Adwords. Anyway I’m adding this RSS to my email and could look out for much more of your respective fascinating content. Ensure that you update this again very soon..

  15. I know this if off topic but I’m looking into starting my own weblog and was wondering what all is required to get set up? I’m assuming having a blog like yours would cost a pretty penny? I’m not very internet smart so I’m not 100 certain. Any tips or advice would be greatly appreciated. Kudos

  16. It’s really a cool and useful piece of information. I’m glad that you shared this useful information with us. Please keep us up to date like this. Thanks for sharing.

  17. I was just seeking this info for a while. After six hours of continuous Googleing, at last I got it in your web site. I wonder what’s the lack of Google strategy that don’t rank this kind of informative websites in top of the list. Generally the top web sites are full of garbage.

  18. I enjoy you because of all of your work on this site. Gloria enjoys getting into investigation and it’s easy to see why. Almost all notice all about the powerful tactic you produce advantageous tips by means of this website and in addition welcome contribution from some others about this point while my simple princess is now being taught a lot. Have fun with the rest of the year. You are performing a really great job.

  19. Wow that was strange. I just wrote an really long comment but after I clicked submit my comment didn’t show up. Grrrr… well I’m not writing all that over again. Regardless, just wanted to say great blog!

  20. An interesting discussion is definitely worth comment.
    I believe that you need to write more on this subject, it may not be a taboo subject but generally people don’t speak about
    such topics. To the next! Cheers!!

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here