حریت رہنماؤں کی طرف سے آسیہ اور نیلوفر کوزبردست خراج عقیدت پیش

0
242

سرینگر مئی 29(ٹی این ایس)مقبوضہ کشمیرمیں حریت رہنماؤں نے ضلع شوپیان میں نوبرس قبل بھارتی فورسز کے ہاتھوں بے حرمتی اور قتل کا شکار بننے والی آسیہ اور نیلوفر کو انکی برسی پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سانحے نے پوری کشمیری قوم کے اجتماعی ضمیر کو زخمی کر دیا ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق حریت رہنماؤں شبیر احمد ڈار، محمد اقبال میر،محمد آحسن آنتوں، امتیاز احمد ریشی ،غلام نبی وار اور غلام نبی وسیم نے سرینگر میں جاری ایک مشترکہ بیان میں آسیہ اور نیلوفر کو ان کی شہادت کی برسی پر شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ نوبرس گزرنے کے بعد آج بھی متاثرہ خاندان انصاف سے محروم ہے ۔انہوں نے افسوس ظاہرکیاکہ بھارتی نظام عدل و انصاف سے کشمیریوں کو انصاف ملنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہیں۔ حریت رہنماؤں نے کہاکہ آسیہ اور نیلوفر کی عصمت دری اور قتل میں ملوث مجرم آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں۔انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ گزشتہ سات دہائیوں سے مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں جاری کشمیری خواتین کی بے حرمتیوں کے واقعات میں ملوث مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کیلئے بھارت پر دباؤ بڑھائیں۔ ادھر حریت رہنماء اور جموں وکشمیر پیپلز لیگ کے وائس چیر مین محمد یاسین عطائی نے بھی ایک بیان میں شوپیان میں آ سیہ اورنیلو فر کے اغوا اور بے حرمتی کے بعد قتل کے سانحے کو نوبرس مکمل ہونے کے موقع پر اس سانحہ کی کسی غیرجانبدار عالمی ادارے کے ذریعے تحقیقات کرانے کا مطالبہ دوہرایا ہے۔انہوں نے کہاکہ دنیا کی کو ئی بھی غیرت مند قوم اپنی خواتین کی عصمت دری کو ہرگز برداشت نہیں کرسکتی ۔ انہوں نے تا بندہ غنی قتل کیس اورسانحہ کنن پوشہ پورہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ علاقے میں نہتے کشمیریوں کے قتل عام کے علاوہ کشمیری خواتین کی عصمت دری کو ایک جنگی ہتھیارکے طورپر استعمال کیا ہے ۔انہوں نے سانحہ شوپیاں کو کشمیر کی تاریخ کا بدترین واقعہ قراردیتے ہوئے کہاکہ ہماری یہ بیٹیاں آج بھی انصاف کی منتظر ہیں۔واضح رہے کہ وردی میں ملبو س بھارتی اہلکاروں نے شوپیاں کی رہائشی آسیہ اور نیلوفر کو 29مئی 2009کو اغواکر کے عصمت دری کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا تھااور ان کی لاشیں ایک نالے سے برآمد ہوئی تھیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here