دل باغ باغ ہو گیا

58
2586

تحریر: صابر ملک
25 اپریل 1945 کو امریکہ کے شہر سان فارانسسکو جو کہ ایک مشہور شہر ہے میں ایک مشترکہ کانفرنس منعقد ہوئی جس میں پچاس ملکوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ کانفرنس تقریباً دو ماہ تک وقفے وقفے سے جاری رہی۔ اس کانفرنس میں ایک بین الاقوامی ادارے کے قیام پر غور کیا گیا۔جس کے نتیجے میں 24 اکتوبر 1945 کو ایک ادارہ معرض وجود میں آیا جس کا نام اقوام متحدہ (United Nations) رکھا گیا۔اس ادارے کے چار بنیادی مقاصد تھے مثلاً
1 ۔ آنے والی نسلوں کو جنگ کی لعنت سے بچانا، 2 ۔ انسانی حقوق کا دفاع کرنا، 3 ۔ مرد اور عورت کے حقوق میں برابری، 4 ۔ ایسے حالات پیدا کرنا جس میں عہد ناموں اور بین الاقوامی آئین کے مطابق ذمہ داریوں کو نبھانا۔
ہر وہ ملک جو ان چار مندجہ بالا بنیادی شرائط کا پابند رہ سکے وہ اس فورم کو جائن کر سکتا ہے۔ شروع شروع میں اس کے 51 ممبر تھے جو آہستہ آہستہ بڑھتے گئے اور آج ان کی موجودہ تعداد 193 ہے۔
اقوام متحدہ کے چھ بنیادی اعضاء ہیں۔
1۔ جنرل اسمبلی 2۔ سلامتی کونسل 3۔ اقتصادی و سماجی کونسل 4۔ سرپرستی کونسل 5۔ بین الاقوامی عدالت انصاف 6۔ سیکرٹیریٹ
جنرل اسمبلی تمام رکن ممالک پر مشتمل ہوتی ہے، ہر رکن ملک اسمبلی میں زیادہ سے زیادہ پانچ نمائندے بھیج سکتا ہے۔جنرل اسمبلی کا معمول کا اجلاس سال میں ایک بار ہو تا ہے جو کہ ستمبرکے تقریباً آخری ہفتے میں منعقد کیا جاتا ہے جس میں تمام رکن ممالک کے ارکان شرکت کرتے ہیں اور اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ میں 6 عالمی زبانوں میں اجلاس کی کاروائی ہوتی ہے جس میں عربی، انگلش، چائنیز، فرانسیسی ، روسی اور ہسپانوی شامل ہیں۔
پاکستان بھی دوسرے ممالک کی طرح ہر سال اس اجلاس میں شرکت کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاکستان کا کردار شروع ہی سے مثالی رہا ہے۔ پاکستان اپنے قیام کے اگلے ہی ماہ یعنی 30 ستمبر 1947 کو اقوام متحدہ کا رکن بن گیا تھا۔ اقوام متحدہ کے امن مشن کے تحت پاک فوج نے مثالی اور نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں۔گزشتہ 58 سالوں میں پاکستان نے اقوام متحدہ کے 23 ممالک کے 41 امن مشنز میں مجموعی طور پر ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد پاکستانی جوانوں کی خدمات فراہم کی ہیں۔ پاکستان کئی برسوں تک اقوام متحدہ کے امن مشن میں سب سے زیادہ اہلکار فراہم کرنے والاملک رہا ہے جبکہ اس وقت بھی پاک فوج و پولیس کے آٹھ ہزار سے زائد جوان اس امن مشن میں حصہ لے رہے ہیں۔جبکہ عالمی امن مشن میں خدمات سر انجام دیتے ہوئے پاک فوج کے 23 افسروں سمیت 144 جوان اب تک جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔
پاکستان نے فلاحی خدمات کے حوالے سے اقوام متحدہ کے فلاحی اداروں سے ہمیشہ تعاون کیااور جہاں کہیں اور جب کبھی بھی پاکستانی ماہرین کی ضرورت پیش آئی تو فراخدلی سے اپنے خدمات پیش کیں۔پاکستان نے کئی ممالک بالخصوص اپنے ہمسایہ دوست ملک چین کو اقوام متحدہ کا رکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ مگر یہ ایک المیہ ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ادارہ کئی قراردادوں کی منظوری کے باوجودکشمیر کی مظلوم عوام کوبھارت کے ناجائز تسلط سے آزاد کروانے میں ناکام رہا ہے۔
خوش آئیند بات یہ ہے کہ اس بار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 73 ویں سالانہ اجلاس میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنی قومی زبان اردو میں خطاب کیا۔ انھوں نے اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر پر خاص زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے مسئلے کا حل نہ ہوناخطے میں امن و امان کے حصول میں سب بڑی رکاوٹ ہے۔
شاہ محمود قریشی نے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ، انکا کہنا تھا کہ مودی حکومت نے تیسری مرتبہ امن کے لیے موقع گنوا دیا ہے۔ انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ انڈیا کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزی کے باوجود پاکستان نے صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑالیکن انڈیا نے اسے عبور کرنے کی ذرا سی بھی غلطی کی تو پاکستان اس کا بھر پور جواب دے گے۔ خطاب کے اختتام پر پورا حال تالیوں سے گونج اٹھا۔

58 COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here