خواجہ برادران 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے، احتساب عدالت نے 22 دسمبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا

0
157

لاہور دسمبر 12 (ٹی این ایس): پیراگون سوسائٹی اسکینڈل میں گرفتار خواجہ برادران کا دس روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پیراگون سوسائٹی اسکینڈل میں زیر حراست خواجہ برادران کو آج احتساب عدالت کے جج نجم الحسن کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ نیب نے خواجہ برادران کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جسے احتساب عدالت نے جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے خواجہ برادران کو 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا ۔
احتساب عدالت نے حکم دیا کہ 22 دسمبر کو خواجہ برادران کو دوبارہ عدالت کے روبرو پیش کیا جائے۔ خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر سکیورٹی انتہائی سخت رکھی گئی۔ لیگی کارکنان کے احتجاج کے پیش نظر عدالت کو خاردار تاروں سے سیل کردیا گیا جبکہ پولیس کی بھاری نفری طلب کی گئی ہے۔کمرہ عدالت میں اپنے وکیل کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ عدالت میں لوگوں کو آنے کی اجازت نہیں ہے۔
میرے گھر کا کھانا بند کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب میں واش روم کے اندر چٹخنی نہیں ہے۔ نیب انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے شکایات کے انبار لگاتے ہوئے کہا کہ میں نے آج صبح ناشتہ بھی نہیں کیا کیونکہ ہمیں دیا جانے والا ناشتہ کھانے کے قابل نہیں تھا۔ یاد رہے کہ خواجہ برادران اس سے قبل عبوری ضمانت پر تھے جس میں کئی مرتبہ توسیع کی گئی۔
گذشتہ روز احتساب عدالت نے پیراگون سوسائٹی اسکینڈل میں خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق کی عبوری ضمانت کی درخواست خارج کردی تھی جس کے بعد نیب نے خواجہ برادران کو حراست میں لے لیا تھا۔پیراگون ہاؤسنگ اسکینڈل میں اس سے قبل خواجہ سعد رفیق کے دست راست قیصر امین بٹ کو گرفتار کیا گیا تھا اور ذرائع کے مطابق قیصر امین بٹ کے انکشافات کی وجہ سے ہی خواجہ برادران کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر رہے کہ خواجہ برادران پیراگون ہاؤسنگ اسکینڈل سمیت 3 مقدمات میں نیب کو مطلوب تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here