اقوام متحدہ نے ملالہ یوسفزئی کو دہائی کی مقبول ترین لڑکی قرار دے دیا

 
0
7125

نیویارک دسمبر 26 (ٹی این ایس): اقوام متحدہ کے ایک جائزے میں کہا گیا ہے کہ ملالہ یوسفزئی 21ویں صدی کی دوسری دہائی میں دنیا کی مقبول ترین نوعمر لڑکی بن گئی ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس جائزے میں اقوام متحدہ کی نیوز سروس نے 21ویں صدی میں نوعمری میں ہونے والے اہم واقعات کا جائزہ لیا ، 2010 سے 2019 کے درمیان عالمی سطح پر ملالہ کی مقبولیت مثبت کہانیوں میں سرِفہرست ہے۔
اقوام متحدہ کے جائزے کا پہلا حصہ 2010 سے 2013 کے اواخر کے عرصے تک مبنی ہے جو ہیٹی کے تباہ کن زلزلے، لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے ملالہ کی کوششوں اور مالی دنیا کے خطرناک مشن کے قیام پر مشتمل ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ چھوٹی عمر سے پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں آواز اٹھانے اور طالبان کے مظالم کی نشاندہی کے لیے جانی جاتی ہیں۔
اس میں نشاندہی کی گئی ہے ملالہ وادی سوات میں پیدا ہوئیں اور وہیں پلی بڑھیں اور اکتوبر 2012 میں اسکول سے گھر جاتے ہوئے انہیں اور ان کے ساتھ موجود لڑکیوں پر طالبان نے فائرنگ کی تھیں، ان کے سر میں گولی لگی تھی لیکن وہ بچ گئیں اور صحت یاب بھی ہوگئیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ملالہ کے سرگرمیوں اور پروفائل میں صرف قاتلانہ حملے کے بعد اضافہ ہوا ہے، انہوں نے کئی ہائی پروفائل ایوارڈز بھی جیتے جس میں 2014 میں امن کا نوبیل انعام، لڑکیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ کے ساتھ 2017 میں اقوام متحدہ کی سفیر برائے امن مقرر ہونا شامل ہیں۔
مالی میں قیامِ امن کو اقوام متحدہ کا خطرناک ترین مشن قرار دیا جاتا ہے، جہاں امن فوجیوں نے شہریوں کو عدم استحکام سے بچاتے ہوئے شدید اور روزانہ کی بنیاد پر ہلاکتیں برداشت کی ہیں جس میں مہلک بین النسلی جھڑپیں شامل ہیں۔مالی میں اقوام متحدہ کے مشن مینوسما کا قیام اپریل 2013 میں عمل میں آیا تھا جب سلامتی کونسل نے ایک آپریشن کی منظوری دی تھی۔خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی فورس میں پاکستان اہم کردار ادا کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے اور اب تک اقوام متحدہ امن مشن کے دوران 185 پاکستانی فوجی شہید ہوچکے ہیں۔