کوالالمپور کانفرنس میں پاکستان کی عدم شرکت تمام حکومتی یو ٹرنز کی ماں تھی‘ مشاہد حسین سید

 
0
283

اسلام آباد دسمبر 28 (ٹی این ایس): سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کوالالمپور کانفرنس میں پاکستان کی عدم شرکت تمام حکومتی یو ٹرنز کی ماں تھی،اس اقدام سے ہماراقومی مفاد ،قومی وقار اور بین الاقوامی امیج متاثرہواہے ،امریکی صدر کی معاون برائے پاکستان و وسطی ایشیا ایلس ویلز پاکستان کے زمینی حقائق سے لاعلم ہیں اور ان کے تمام تحفظات کو مسترد کرتا ہوں۔ یہاںمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوالالمپور سمٹ ایسا فورم تھا جس کی تجویز ہم نے دی تھی اور ہم اس کی مشاورت میں شامل تھے ۔
پہلے ہم نے کہا کہ ہم منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور اس میں شرکت کریں گے۔ اس کے بعد ہم نے کہا کہ وزیراعظم نہیںجائیں گے وزیر خارجہ جائیں گے لیکن وزیر اعظم بھی نہیں گئے اور وزیر خارجہ بھی نہیں گئے۔ ہم نے ایسے فورم کا بائیکاٹ کا جو مسلم امہ کے حوالے سے بڑی اہمیت کا حامل تھا ۔ اس میں شامل ہمارے دیرینہ دوست ممالک کشمیر کے معاملے پر ہمارے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہے اس لئے میں حکومتی فیصلے کو تمام حکومتی یوٹرنز کی ماں کہوں گا،اس سے ہمارا قومی مفاد، قومی وقار اور بین الاقوامی امیج متاثر ہو اہے ۔
سعودی عرب ہمارا دیرینہ برادر ملک ہے اور اس کے ہمارے اوپر احسانات ہیں اور ہمارے ان پر احسانات ہیں ،ہم کسی کے خلاف نہیں جانا چاہتے ،اس فور م میں ہم انہیں بھی ساتھ لے کر چلتے ان سے بھی مشاورت کرتے اور ان کی ترجمانی کرتے ۔ انہوںنے کہا کہ مجھے بھی اس سمٹ میں شرکت کی دعوت تھی اورمیں جب گیا تو وہاں پر وزیر اعظم عمران خان ،ملائیشیاء کے وزیر اعظم مہاتیر محمد ، ترکی کے صدر اردووان اور ایرانی صدر روحانی کی چپے چپے پر تصاویر لگی ہوئی تھی اور مجھے اس پر بڑی خوشی ہوئی ۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کی معاون برائے پاکستان و وسطی ایشیاء ایلس ویلز کے بیانات بے بنیاد ہیں،انہیں تکلیف چین سے ہے کیونکہ چین ایک ابھرتی ہوئی قوت ہے ،و ہ چین کا اقتصادی میدان میں مقابلہ کریں ، چین ہمارا دیرینہ دوست ہے ، ہم نے چین کے حوالے سے دبائو برداشت کیا ہے ، ہم چین کے حوالے سے امریکی عہدیدار کے بیانات کو مسترد کرتے ہیں ،امریکہ کا ٹریک ریکارڈ سب کے سامنے ہے ،چین نے سی پیک کے حوالے سے ہماری اس وقت مدد کی جب کوئی بھی ممالک چاہے وہ مسلم ممالک ہوں یا مغربی دوست ہوں ایک دھیلا لانے کے لئے تیار نہیں تھے۔
چین کی جانب سے سی پیک کے تناظر میں20ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آ چکی ہے جس سے 75ہزار لوگوںکو روزگار کے مواقع ملے،20ہزار لوگوںکو سکالر شپس کی پیشکش ہو رہی ہے ۔ جب چین کی انڈسٹری پاکستان آئے گی تو ہم اس سے استفادہ کریں گے، امریکہ کو چاہیے کہ حقائق پر بات کرے ، اس کا ٹریک ریکارڈ سب کے سامنے ہے ۔