پی ڈی ایم کے فیصلے پر لیگی اراکین استعفے دیں گے: رانا ثنا اللہ

 
0
211

اسلام آباد 31 دسمبر 2020 (ٹی این ایس): مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پارٹی میں موجود فعالیت کو برقرار رہا جائے اور گرفتاریوں سے تحریکیں کبھی بھی کمزور نہیں ہوتی جبکہ ن لیگ کے تمام اراکین قومی اسمبلی کے استعفے ہمارے پاس ہیں اور جب پی ڈی ایم فیصلہ کرے گی ہم استعفے دیں گے۔

لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے گرفتاریوں سے تحریک مزید فعال ہوگی۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کچھ لوگ اپنی جماعت سے اختلاف کریں گے یا کرایا جائے گا، جس طرح سے جمعیت علمائے اسلام (ف) میں ہوا ہے، ایسے لوگ سیاسی موت مرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کا سیاست میں کوئی مقام نہیں ہوتا، اگر کوئی ایسا کرے گا تو وہ ذلیل و رسوا ہوگا۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے این آر او کون مانگ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم کہتے ہیں کہ جھوٹے مقدمے ختم کرو تو وہ کہتا ہے این آر او مانگ رہے ہیں۔

رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ پی ڈی ایم جو فیصلہ کرے گی ہم وہ ہی کریں گے اس لیے مسلم لیگ (ن) نے کوئی آفیشل موقف نہیں دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کل پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں اپنا نقطہ نظر بیان کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) مختلف انتخابی نشستوں پر کامیابی ہوئی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان لوگوں نے وہاں دھاندلی کی کوشش نہیں کی، ضرور کی ہے لیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکے۔

واضح رہے کہ استعفوں کے معاملے پر حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ترجمانوں کے ایک گروپ سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ حکومت قومی اسمبلی کے اسپیکر سے کہے گی کہ جیسے ہی اپوزیشن پارلیمنٹیرینز کے استعفے آئیں، وہ انہیں فوری طور پر قبول کر لیں۔

وزیر اعظم نے کہا تھا کہ حکومت اپنی اتحادی متحدہ قومی موومنٹ سے مذاکرات کرے گی جس نے کابینہ کی جانب سے 2017 کی قومی مردم شماری کے نتائج کی منظوری پر اعتراض کیا ہے۔