پاکستان سے انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے اقوام متحدہ کی سفارشات کیا؟

 
0
128
پاکستان سے انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے اقوام متحدہ کے ماہرین نے 10 سفارشات پیش کی ہیں جن میں متعلقہ محکموں کی استعداد بڑھانے کے علاوہ مہاجرین کی سمگلنگ سے متعلق بین الااقوامی معاہدے پر دستخط کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
ان سفارشات کی تفصیلات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب گذشتہ ہفتے اٹلی کے قریب حادثے کا شکار ہونے والی غیرقانونی مہاجرین کی کشتی ڈوبنے سے پاکستانیوں سمیت 60 سے زائد افراد کی ہلاکت نے دنیا بھر میں اس مسئلے کو ازسرنو اجاگر کیا۔
اس کشتی حادثے میں ہلاک ہونے والے دیگر افراد کے ساتھ پاکستان کی خواتین ہاکی ٹیم کی سابق کھلاڑی شاہدہ رضا اور پشاور کے 14 سالہ اذان آفریدی بھی شامل تھے جو اعلٰی تعلیم کی غرض سے یورپ جا رہے تھے۔
انسانوں کی سمگلنگ کے حوالے سے کام کرنے والے ماہرین کے مطابق پاکستان سے یورپ اور آسٹریلیا کے تین زمینی، فضائی اور سمندری راستے ہیں جہاں سے پاکستان کے علاوہ افغانستان، بنگلہ دیش اور خطے کے دیگر ممالک کے افراد غیرقانونی طور پر نقل مکانی کرتے ہیں۔
 اس حوالے سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے منشیات اور جرائم، جو بین الااقوامی سطح پر انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرتا ہے، نے اردو نیوز کے سوالات کے جواب میں ایک ای میل میں بتایا ہے کہ سال 2021-22 میں ایران کے ذریعے 16 ہزار 678 افراد غی قانونی طور پر ترکی پہنچے، جبکہ غیرقانونی طور پر ایران جانے والوں کی تعداد 25 ہزار 268 تھی۔
ای میل میں بتایا گیا ہے کہ ان غیرقانونی نقل و حمل کے راستوں کو بند کرنے اور پاکستان کے ذریعے انسانی سمگلنگ کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ نے حکومت پاکستان کو 10 اقدامات اٹھانے کی سفارش کی ہے۔
ان سفارشات میں سب سے مرکزی قدم اقوام متحدہ کے اس معاہدے پر دستخط کرنا ہے جو مہاجرین کی غیرقانونی منتقلی سے متعلق ہے۔
اس معاہدے پر دستخط کے بعد پاکستان اقوام متحدہ کے ان تمام قوانین و ضوابط کا پابند ہو جائے گا جن کے تحت اس کی سرحدوں سے غیرقانونی نقل وحمل کا خاتمہ کرنا ضروری ہے۔
 اقوام متحدہ کے تجویز کیے گئے دوسرے اقدامات میں متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ کے اراکین کی انسانی سمگلنگ اور ٹریفکنگ کے قوانین سے متعلقہ استعداد کار میں اضافہ، قومی سطح پر سمگلنگ اور ٹریفکنگ کا شکار بننے والے افراد کی حفاظت اور مدد کے مربوط نظام کا قیام ہے۔
اس کے علاوہ سینیئر، جونیئر اور درمیانے درجے کے پولیس افسران کی انسانوں کی ٹریفکنگ کے متعلق تربیت کے نصاب کا نفاذ، قانون نافذ کرنے والی خواتین افسران کی جدید تحقیقاتی تکنیک اور (سمگلنگ سے) متاثرہ افراد کی حفاظت اور مدد کرنے کے خطوط پر استعداد کار میں اضافہ، علاقائی اور بین الااقوامی تعاون میں اضافہ، الیکٹرونک شہادتیں اکٹھی کرنے کے لیے اہلکاروں کی صلاحیتوں میں اضافہ، اور قانونی امداد اور انسانی سمگلنگ کے بین الااقوامی مقدمات میں تعاون کے حوالے سے اہلکاروں کی صلاحیتوں میں اضافہ شامل ہے۔