اسلام آباد (ٹی این ایس) : سپریم کورٹ آف پاکستان نے معطل سرکاری ملازمین کے حقوق کے حوالے سے بڑا فیصلہ جاری کردیا۔ عدالت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی اپیل خارج کرتے ہوئے وفاقی سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھا۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ معطلی ملازمت سے برطرفی، خاتمہ یا علیحدگی نہیں ہے اور معطل ملازم اپنے عہدے پر برقرار رہتا ہے، چاہے وہ ڈیوٹی انجام نہ دے رہا ہو۔ عدالت نے کہا کہ ملازمت کے معاہدے کے برقرار رہنے تک تنخواہ اور تمام مراعات بھی برقرار رہتی ہیں۔
عدالت نے اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: “اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، اے ایمان والو، اپنے معاہدوں کو پورا کرو” (سورت المائدہ)، اور ساتھ ہی فرمایا کہ قانونی اجازت کے بغیر ملازم کی تنخواہ روکنا تقرری کی شرائط کے منافی ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ معطل ملازم کو مکمل تنخواہ اور فوائد سے محروم کرنا ناانصافی اور ظلم ہے، اور مالی محرومی سزا کے مترادف ہے۔ عدالت نے حدیث نبوی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: “مزدور کو اس کا پسینہ سوکھنے سے پہلے مزدوری دو”۔
عدالت نے مزید کہا کہ معطلی کے دوران کسی بھی قسم کی ریکوری غیر قانونی ہے اور اسلام معاہدوں کی پاسداری اور جائز کمائی کے تحفظ کا حکم دیتا ہے۔
فریق ارشد حسین ایف بی آر میں ملازم تھے، جنہیں میڈیکل بورڈ نے بیماری کے باعث سروس کے لیے ان فٹ قرار دیا تھا۔ محکمے نے ملازم کو جبری ریٹائر کر کے معطلی کے دوران ادا کی گئی رقم واپس مانگی تھی، تاہم ٹربیونل نے فیصلہ دیا تھا کہ ملازم معطلی کے دوران اپنی مکمل تنخواہ اور الاؤنسز کا حق دار ہے۔













