اسلام آباد (ٹی این ایس) ڈائس فورم کی شجرکاری مہم اور کتاب منصوبہ، سنداس فاؤنڈیشن میں علم و ماحول دوستی کا پیغام

 
0
4

اسلام آباد – 6 مئی 2026 (ٹی این ایس): ڈائس فورم کی شجرکاری مہم اور کتاب منصوبہ، سنداس فاؤنڈیشن میں علم و ماحول دوستی کا پیغام

ساؤتھ افریقہ، بلغاریہ اور زمبابوے کے سفارتکاروں اور حکومتی شخصیات کی شرکت، پائیدار ترقی کے عزم کا اظہار

ماحولیاتی پائیداری اور تعلیم تک رسائی کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر ڈی آئی سی فورم کے زیر اہتمام سنداس فاؤنڈیشن اسلام آباد میں بدھ کے روز شجرکاری مہم اور “کتاب” کمیونٹی اسکول لائبریری منصوبے کا افتتاح کیا گیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک تھے۔ اس موقع پر بلغاریہ کی سفیر ایرینا گانچیوا، جنوبی افریقہ کے ہائی کمشنر رودولف پیئر جورڈان، زمبابوے کے سفیر کی اہلیہ نومپملیلو ابو-باسوتو، آئی ایف ڈبلیو اے کی صدر، گھانا کے اعزازی قونصل جنرل عمر شاہد بٹ، کرغزستان کے اعزازی قونصل جنرل کاشف مہار اور ایئر وائس مارشل (ر) آفتاب حسین، ڈائریکٹر سنداس فاؤنڈیشن تھیلیسیمیا سینٹر نے بھی شرکت کی۔

وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے اپنی گفتگو میں تعلیم، ماحولیاتی ذمہ داری اور سماجی شعور کو قومی ترقی کے بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی سرگرمیاں باشعور اور ذمہ دار شہریوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور حکومت ان کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم قومی ترقی کی بنیاد ہے۔ علاؤہ ازیں، انہوں نے ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے کہا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو اس کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہیں، لہٰذا اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مسلسل اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔

ڈی آئی سی (ڈائس) فورم کی چیئرپرسن عالیہ آغا نے افتتاحی خطاب میں پاکستان کی ماحولیاتی کمزوریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک میں جنگلات کا رقبہ پانچ فیصد سے بھی کم ہے اور آبادی کے دباؤ اور وسائل کے استعمال کے باعث یہ مزید کم ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شجرکاری مہم ماحولیاتی لچک کے عزم کی علامت ہے جبکہ “کتاب” منصوبہ بچوں میں مطالعے کے فروغ اور تعلیمی وسائل تک رسائی بڑھانے کے لیے ہے۔

بلغاریہ کی سفیر ایرینا گانچیوا نے اپنے خطاب میں علم، ہمدردی اور ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے باوجود کتاب اور تعلیم کی اہمیت برقرار ہے۔ انہوں نے تھیلیسیمیا سینٹر کے حوالے سے ہمدردی اور عالمی ذمہ داری پر بھی زور دیا۔

ایئر وائس مارشل (ر) آفتاب حسین، ڈائریکٹر سنداس فاؤنڈیشن تھیلیسیمیا سینٹر نے کہا کہ یہ اقدام ماحولیاتی بہتری اور فکری ترقی دونوں میں سرمایہ کاری کے مترادف ہے۔ انہوں نے پاکستان میں تھیلیسیمیا کے بڑھتے ہوئے بوجھ کی نشاندہی کرتے ہوئے آگاہی اور اسکریننگ کی ضرورت پر زور دیا۔

ڈی آئی سی فورم کے زیر اہتمام یہ اقدام سنداس فاؤنڈیشن پاکستان تھیلیسیمیا سینٹر میں منعقد کیا گیا، جس میں پالیسی سازوں، سفارتکاروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کا مقصد تعلیم، ماحولیاتی تحفظ اور سماجی بہبود کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔

مہمان خصوصی اور دیگر معززین نے موقع پر پودے بھی لگائے۔ تقریب میں اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ اقدام عملی اور کمیونٹی سطح کے حل کو فروغ دیتا ہے، جو اعلیٰ سطح پر جاری پالیسی اقدامات جیسے “بریتھ پاکستان” اقدام کی تکمیل کرتا ہے۔

تقریب کے اختتام پر تعلیم، ماحولیات کے تحفظ اور کمیونٹی سطح کے اقدامات کو مضبوط بنانے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا گیا۔