اسلام آباد (ٹی این ایس) ہم ہیں بنیان مرصوص، وہ آہنی دیوار جسے نہ دھمکیاں ہلا سکتی ہیں، نہ سازشیں توڑ سکتی ہیں. پاکستان میں ہندو، سکھ اور عیسائی سمیت تمام مذاہب کے لوگ ایک پرچم تلے متحد ہیں اور دفاعِ وطن میں ان کا کردار نہایت اہم ہے۔ اقلیتوں کو مکمل حقوق حاصل ہیں اور انہوں نے آپریشن بنیان مرصوص میں فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر وفاداری دکھائی۔۔پاکستان کوئی کمزور ریاست نہیں، یہ ایک نظریہ ہے، ایک عزم ہے، اور یہ تا قیامت قائم رہے گا کیونکہ اس کے عوام بکھرنے والے نہیں، جھکنے والے نہیں۔
زمانہ حاضر کی سیاسی بساط پر وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جن کے فیصلے خود اعتمادی اور دفاعِ وطن کےجذبہ سے سرشار ہوتے ہیں۔ کسی بھی ریاست کی خارجہ پالیسی محض خطیبانہ دعووں یا سفارتی نزاکتوں کی اسیر نہیں ہوتی ‘ بلکہ اس کی بنیاد اس صلاحیت پر استوار ہوتی ہے جو میدان عمل میں اپنے وجود کا لوہا منوا چکی ہو۔ اسی پس منظر میں معرکہ ء حق کو محض ایک فوجی دعویٰ قرار دینا اس کی معنوی وسعت کو محدود کرنا ہے ۔ درحقیقت یہ ایک نئے دفاعی شعور کا نقطہ آغاز ہے جس نے پاکستان کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا اور خطے کی جغرافیائی سیاست کے دھاروں کو ایک نئے رخ پر ڈال دیا ہے ۔ یہ وہ لمحہ تھا جب تاریخ نے گواہی دی کہ ارضِ وطن اب مصلحت کے شکنجوں سے آزاد ہو کر اپنی تقدیر کے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت سے فیضیاب ہو چکی ہے ۔ اس ہمہ گیر تبدیلی کےتناظر میں ایک ایسی قیادت جلوہ گر نظر آتی ہے جس کی بصیر ت فولاد کی مانند سخت اور عزم کوہِ گراں کی طرح مضبوط ہے ۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شخصیت اس پورے منظر نامے میں ایک ایسے مینار کی حیثیت رکھتی ہے جس کی روشنی میں دفاعی حکمت عملی کے نئے چراغ روشن ہوئے ۔ ان کی زیر قیادت پاک فوج نے دفاع کے جامد تصورات کو ترک کر کے ایک فعال اور متحرک حکمت عملی اپنائی جس نے دشمن کے عزائم کو ان کے اپنے ہی بچھائے ہوئے جال میں الجھا کررکھ دیا ۔ ان کی پیشہ وارانہ دور اندیشی، غیرمتزلزل یقین اور انتھک جدوجہد نے یہ امر روزِ روشن کی طرح واضح کر دیا ہے کہ چاہے خطرات سرحدوں کے اس پار سے ابھریں یا اندرون ملک فتنے کی صورت سر اٹھا ئیں ، پاکستان کا محافظ ہر محاذ پر ان کے تعاقب اور ان کے خاتمے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے ۔ یہ محض فوجی برتری نہیں بلکہ ایک فکری اور عملی بالادستی ہے جس نے قوم کے سر فخر سے بلند کر دیے ہیں اور دفاعِ وطن کو ایک ناقابل تسخیر قلعہ بنا دیا ہے جس کا خواب یہ قوم مدتوں سے دیکھتی چلی آ رہی تھی ۔ اسی عسکری وقار نے سفارتی افق پر بھی پاکستان کیلئے نئی وسعتیں پیدا کیں اور یوں دارالحکومت اسلام آباد عالمی منظر نامے میں ایک ایسے مرکز کے طورپر ابھرا جہاں امن کی امیدیں نئی توانائی کے ساتھ جنم لینے لگیں ۔ اسلام آباد میں منعقد ہونے والے امن مذاکرات اس حقیقت کے غماز ہیں کہ جب کسی ریاست کی پشت پر قوتِ عمل کا اعتماد ہو تو اس کی آواز بین الاقوامی ایوانوں میں بے مثال وقعت اختیار کر لیتی ہے ۔ ایران امریکہ کے مابین مذاکرات محض رسمی سفارت کاری کا تسلسل نہیں بلکہ ایک ایسی حکمت عملی کے مظہر تھے جس میں طاقت اور تدبر کا حسین امتزاج جھلکتا ہے۔لہذا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خاموش لیکن انتہائی موثر سفارتی حکمت عملی نے پاکستان کو اس مقام تک پہنچایا جہاں عالمی برادری اسے ایک ناگزیر فریق کے طور پر تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئی ۔ جنوبی ایشیا کے پیچیدہ جغرافیائی تناظر میں اب یہ امر ایک مسلمہ حقیقت بن چکا ہے کہ امن کی کوئی بھی سنجیدہ کوشش پاکستان کے فعال اور مثبت کردار کے بغیر بارآور نہیں ہوسکتی ۔ یہ تمام پیش رفت دراصل اس داخلی استحکام اور قومی یکجہتی کا مظہر ہے جو قوم اور اس کے محافظوں کے درمیان ایک فولادی رابطہ کی صورت میں پروان چڑھ رہی ہے ۔ معرکہء حق نے یہ صرف ملکی سرحدوں کو محفوظ بنایا بلکہ معیشت کیلئے وہ اطمینان بھی فراہم کیا جس کے بغیر ترقی کی کوئی راہ ہموار نہیں ہوسکتی ۔آج پاکستان جیو اکنامکس کی اس شاہراہ پر گامزن ہے جہاں معاشی راہداریوں کاتحفظ اور سرمایہ کاری کا فروغ براہِ راست اسی دفاعی استحکام سے وابستہ ہے جو حالیہ کامیابیوں کا ثمر ہے ۔ سیاسی قیادت کی فہم وفراست اور عسکری قیادت کی پیشہ وارانہ مہارت کے امتزاج نے ایک ایسا توازن قائم کیا ہے جس میں امن کی خواہش اور خود مختاری کے تحفظ کا عزم یکجا ہو گئے ہی ۔ یوں معرکہءحق کے بعد کا پاکستان ایک نئی شناخت کے ساتھ ابھرا ہے ، جہاں ریاست اپنے ا صولوں پر قائم رہتے ہوئے عالمی برادری سے ہم کلام ہو تی ہے ۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں قومی وقار محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت بن چکاہے اور جہاں مستقبل کی راہیں اعتماد اور خود انحصاری کی روشنی میں متعین ہورہی ہیں ۔ اس سفر میں قیادت کی بصیرت ، قوم کی استقامت اور نوجوان نسل کی بیداری مل کر ایک ایسی داستان رقم کر رہی ہے جو آنے والے وقتوں میں استحکام ، وقار اور خود مختاری کی علامت کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ بچپن سے جو ہم سنتے آتے تھے، وہ پاکستان اب عالمِ اسلام کا قلعہ بن چکا ہے جس کی طرف تین گنا بڑا دشمن بھی نظر اٹھانے سے گھبراتا ہے۔













