اسلام آباد (ٹی این ایس) وفاقی حکومت کی جانب سے ایک مرتبہ پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے یہ تاثر مزید مضبوط کر دیا ہے کہ پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں کا تعین عوامی ریلیف یا معاشی استحکام کے بجائے زیادہ تر حکومتی محصولات کے تحفظ کے لیے کیا جا رہا ہے۔
حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 5 روپے 44 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 31 روپے 5 پیسے فی لیٹر اضافہ کرتے ہوئے بالترتیب 316 روپے 15 پیسے اور 354 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی ہے۔ اس اضافے کی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور درآمدی پریمیم میں حالیہ اضافے کو قرار دیا گیا ہے، جو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نتیجہ بتایا جا رہا ہے۔
تاہم اصل سوال قیمتوں میں اضافے کا نہیں بلکہ اس پالیسی کا ہے جس کے تحت حکومت نے پہلے ماہانہ، پھر پندرہ روزہ، اس کے بعد ہفتہ وار اور اب عملاً روزانہ قیمتوں پر نظرثانی کا نظام متعارف کرا دیا ہے۔ اس قدر بار بار تبدیلی نہ صرف عوام بلکہ ٹرانسپورٹرز، صنعتکاروں، کسانوں، کاروباری اداروں اور پٹرولیم ڈیلرز کے لیے بھی غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہے۔ معیشت کو استحکام درکار ہوتا ہے، روزانہ بدلتے فیصلے نہیں۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ مقامی قیمتوں کو عالمی منڈی کے مطابق رکھنا ضروری ہے۔ اصولی طور پر اس دلیل سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا کیونکہ پاکستان اپنی تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہی اصول ہر صورت میں عوام کے مفاد میں بھی استعمال ہو رہا ہے؟
جب بھی عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوتا ہے تو اس کا بوجھ فوری طور پر پاکستانی عوام پر منتقل کر دیا جاتا ہے، لیکن جب عالمی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو عوام کو اسی تناسب سے ریلیف شاذ و نادر ہی ملتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ پٹرولیم لیوی، کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور دیگر ٹیکسز ہیں، جو اصل قیمت سے کہیں زیادہ بوجھ صارفین پر ڈال دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ آیا قیمتوں کا یہ نظام واقعی بین الاقوامی منڈی کی عکاسی کرتا ہے یا پھر اسے حکومتی محصولات بڑھانے کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
پٹرول اور ڈیزل محض ایک تجارتی شے نہیں بلکہ پوری معیشت کی شہ رگ ہیں۔ ڈیزل کی قیمت میں اضافے کا براہِ راست اثر زرعی شعبے، مال برداری، صنعت، تعمیرات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ پٹرول مہنگا ہونے سے عام شہری، ملازمین، چھوٹے کاروباری افراد اور متوسط طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ نتیجتاً مہنگائی کی ایک نئی لہر جنم لیتی ہے جس کا بوجھ پورا معاشرہ برداشت کرتا ہے۔
پاکستان کی صنعتیں پہلے ہی مہنگی بجلی، بلند شرح سود، بڑھتی پیداواری لاگت اور کمزور طلب جیسے مسائل سے نبرد آزما ہیں۔ ایسے حالات میں ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ملکی صنعت کو مزید غیر مسابقتی بناتا ہے، برآمدات متاثر ہوتی ہیں، سرمایہ کاری کی رفتار سست پڑتی ہے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کے بجائے محدود ہو جاتے ہیں۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ حکومت کو مالی وسائل درکار ہوتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر مرتبہ آسان ترین راستہ عوام کی جیب پر اضافی بوجھ ڈالنا ہی ہونا چاہیے؟ کیا حکومت کو اپنی مالیاتی حکمت عملی پر نظرثانی نہیں کرنی چاہیے تاکہ معیشت کو سانس لینے کا موقع مل سکے؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی اور دیگر بالواسطہ ٹیکسوں میں نمایاں کمی کرے تاکہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں تقریباً 200 روپے فی لیٹر کی سطح کے قریب لائی جا سکیں۔ عالمی منڈی میں وقتی اتار چڑھاؤ کا اثر حکومت سبسڈی، لیوی اور ٹیکسز میں مناسب ردوبدل کے ذریعے خود جذب کرے، نہ کہ ہر تبدیلی کا مکمل بوجھ فوری طور پر عوام پر منتقل کر دے۔
دنیا کے کئی ممالک اسی حکمت عملی پر عمل کرتے ہیں۔ جب عالمی قیمتیں بڑھتی ہیں تو حکومتیں عارضی طور پر ٹیکس کم کر کے عوام اور صنعتوں کو ریلیف دیتی ہیں، جبکہ قیمتیں کم ہونے پر مالیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے تدریجی اقدامات کیے جاتے ہیں۔ اس سے نہ صرف مہنگائی قابو میں رہتی ہے بلکہ کاروباری طبقے کو بھی مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی کا موقع ملتا ہے۔
یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ اگر حکومت لیوی کم کرے گی تو محصولات میں کمی آئے گی۔ لیکن یہ صرف قلیل مدتی سوچ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کم ایندھن قیمتوں سے صنعتیں چلتی ہیں، کاروبار بڑھتے ہیں، سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے، برآمدات فروغ پاتی ہیں اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ جب معیشت ترقی کرتی ہے تو حکومت کی ٹیکس وصولیاں بھی قدرتی طور پر بڑھتی ہیں۔ ایک مضبوط معیشت ہمیشہ زیادہ محصولات پیدا کرتی ہے، جبکہ مہنگا ایندھن معیشت کی رفتار کو سست کر کے بالآخر حکومتی آمدنی کو بھی محدود کر دیتا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ روزانہ یا بار بار قیمتیں تبدیل کرنے کے بجائے ایک شفاف، متوازن اور قابلِ پیش گوئی پٹرولیم پالیسی مرتب کرے، جس میں عوامی مفاد، صنعتی ترقی اور معاشی استحکام کو اولین ترجیح دی جائے۔ پٹرولیم مصنوعات کو صرف محصولات اکٹھا کرنے کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے انہیں معاشی ترقی کا بنیادی ستون تصور کیا جانا چاہیے۔
پاکستان کی اقتصادی بحالی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک صنعت، تجارت، زراعت اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کو کم لاگت پر کام کرنے کا ماحول فراہم نہ کیا جائے۔ اگر حکومت واقعی معیشت کو مضبوط، صنعت کو فعال اور عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو اسے پٹرولیم قیمتوں کے موجودہ نظام پر سنجیدگی سے نظرثانی کرتے ہوئے ایسی پالیسی اپنانا ہوگی جو سرکاری خزانے کے ساتھ ساتھ قومی معیشت اور عوامی مفاد کا بھی یکساں تحفظ کرے۔
آخرکار، مضبوط معیشت ہی مضبوط محصولات پیدا کرتی ہے۔ اگر معیشت ترقی کرے گی تو حکومت کی آمدنی خود بخود بڑھے گی، لیکن اگر صنعتیں سکڑتی رہیں، کاروبار بند ہوتے رہیں اور عوام کی قوتِ خرید کم ہوتی جائے تو صرف پٹرولیم لیوی کے ذریعے مالیاتی خسارے پورے کرنا نہ تو پائیدار حل ہے اور نہ ہی قومی مفاد میں۔













