اسلام آباد (ٹی این ایس) آئی جی سید علی ناصر رضوی کا امن و امان کے قیام، سکیورٹی، کرائم اور ٹریفک سے متعلق اجلاس میں سکیورٹی انتظامات، انسدادِ جرائم، ٹریفک مینجمنٹ اور عوامی خدمت کے معیار کو مزید موثر بنانے کے احکامات جاری کئے۔ اجلاس میں تمام ڈی آئی جیز، اے آئی جیز، ایس ایس پیز اور دیگر سینئر پولیس افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران وفاقی دارالحکومت کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، سکیورٹی انتظامات، جرائم کی روک تھام، زیرِ تفتیش مقدمات کی پیش رفت، اشتہاری اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری کارروائیوں، ٹریفک مینجمنٹ، پٹرولنگ کے نظام، شہریوں کی شکایات کے ازالے اور دیگر پیشہ ورانہ امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔آئی جی سید علی ناصر رضوی نے تمام افسران کو ہدایت کی کہ جرائم کے خاتمے، شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر، منشیات فروشوں، قبضہ مافیا اور دیگر قانون شکن عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیوں کو مزید مو¿ثر بنایا جائے، جبکہ زیرِ تفتیش مقدمات کو میرٹ اور مقررہ مدت کے اندر یکسو کیا جائے۔انہوں نے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ اہم سرکاری و نجی تنصیبات، سفارتی مراکز، عبادت گاہوں اور عوامی مقامات کی سکیورٹی مزید موثر بنائی جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ پٹرولنگ اور ناکہ بندی کے نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق فعال رکھا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت اور موثر انداز میں نمٹا جا سکے۔آئی جی اسلام آباد نے وفاقی دارالحکومت میں ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے، لین ڈسپلن پر سختی سے عملدرآمد کرانے، تجاوزات کے خاتمے اور شہریوں کو بہترین سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے ٹریفک مینجمنٹ کو مزید مو¿ثر بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، جبکہ شہریوں کے ساتھ خوش اخلاقی اور پیشہ ورانہ رویہ ہر صورت یقینی بنایا جائے۔آئی جی نے عوامی خدمت، شفافیت اور میرٹ اسلام آباد پولیس کی اولین ترجیحات ہیں۔ تمام افسران اپنی ذمہ داریاں ایمانداری، دیانتداری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انجام دیں تاکہ عوام کا پولیس پر اعتماد مزید مضبوط ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افسران کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، جبکہ فرائض میں غفلت یا کوتاہی کے مرتکب افسران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

















