اسلام آباد (ٹی این ایس) سید ظفر عباس شاہ المعروف پیرسیدسہیل بخاری اور ایشین کلچرل ایسوسی ایشن آف پاکستان کی 45 – سال کی بے لوث خدمات

 
0
5

اسلام آباد (ٹی این ایس) سید ظفر عباس شاہ المعروف پیرسیدسہیل بخاری عظیم پاکستان کے سینئر ترین ایونٹ آرگنائزر ہیں – پیرسیدسہیل بخاری نے ایشین کلچرل ایسوسی ایشن آف پاکستان کی بنیاد 1981ء میں رکھی تھی اور گزشتہ 45 ، سال سے اپنی مدد آپ کے تحت ثقافتی ، سماجی ، ادبی اور میڈیا کی سرگرمیوں میں نمایاں خدمات سر انجام دے رہے ہیں – پیر سید سہیل بخاری نجیب الطرفین سادات ہیں –
انکا شجرہ نسب دسویں امام حضرت امام علی نقی علیہ السلام سے جا ملتا ہے –
انکےآباواجداد بخارا سے ہجرت کرکے بغداد شریف مقیم ہوئے پھر حکم الہی سے مکہ المکرمہ چلے گئے اور پھر اسلام کی تبلیغ کیلئے مکہ شریف سے برصغیر میں لاہور آکر قیام فرمایا ۔۔۔۔۔۔۔۔اور مکہ کی نسبت سے حضرت پیر مکی رحمتہ اللہ علیہ کا لقب پایا آپ کا نام نامی حضرت سید عزیزالدین رحمتہ اللہ علیہ ہے –
پیرسیدسہیل بخاری کے ننھیال لاہور کے قدیمی صوفی و روحانی بزرگ حضرت سید جان محمد حضوری لاہوری رحمتہ اللہ علیہ جن کا مزار اقدس شاہ واں دی گڑہی یعنی گڑہی شاہو لاہور میں ہے جن سے سلطان باہو رحمتہ اللہ علیہ نے بھی کشف حاصل کیاتھا –
انکے والد گرامی جوکہ 21 ، ویں صدی کے ولی اللہ تھے حضرت سید محمد صدیق شاہ المعروف پیرسید چشتی اولیاء سخی سرکار مکی رحمتہ اللہ علیہ جن کا مزار اقدس چشت نگر بالمقابل یادگار شہیداں مناواں لاہور میں ہیں –
اتنی لمبی تمہید اس لئے کی ہے کہ پیر سید سہیل بخاری مذہب اور ثقافت کو الگ الگ نہیں سمجھتے – پیرسیدسہیل بخاری یہ نہیں کہتے کہ میں لاہور کا بیٹا ہوں بلکہ انکا کہنا ہے کہ میں پاکستان کا بیٹاہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سندھ ، بلوچستان ، خیبر پختونخواہ، گلگت بلتستان ، آزاد کشمیر میرے ماتھے کے جھومر ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پیرسیدسہیل بخاری نے کہا کہ
جب میں نے 1981ء میں ایشین کلچرل ایسوسی ایشن آف پاکستان کے زیر اہتمام ایشین ایوارڈ کا اجراء کیا تو اس وقت نگار ایوارڈ اور گریجویٹ ایوارڈ کا طوطی بولتا تھالیکن انکا کہنا ہے کہ ۔نگار ایوارڈ اور گریجویٹ ایوارڈ سے پہلے تحریک پاکستان کے کارکن جناب حمیدالمکی نے اپنے بھائی کے نام پر مجیدالمکی ایوارڈز کی ایک تقریب منعقد کی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔پھر نگار ایوارڈز جوکہ ہفت روزہ نگار فلمی اخبار کے الیاس رشیدی نے شروع کیا تھا اگر فلمی اخبار نہ ہوتا تو میں یقین سے کہتا ہوں کہ نگار ایوارڈ کبھی کامیاب نہ ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ اس وقت پرنٹ میڈیا اور میگزین کا دور تھا اب بھی اخبار شائع ہوتا ہے اور نگار ایوارڈز قصہ پارینہ ہو چکا ہے – اسی طرح گریجویٹ ایوارڈز کی کہانی کچھ اس طرح ہے کہ ایوارڈ کی کامیابی خالد غیاث کے سر پر ہے جوکہ اس وقت کے پی ٹی وی کے جنرل مینجر مارکیٹنگ تھے اور انکی سب اداکاروں سے پی ٹی وی کی وجہ سے ذاتی تعلقات تھے اور سونے پر سہاگہ ممتاز قانون دان ایس ایم ظفر مرحوم چئیرمین اور جمیل گشکوری سیکرٹری جنرل اور شہزادہ عالم منو بھی اس تنظیم کا حصہ تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب خالد غیاث ٹیلی ویژن سے ریٹائر ھوئے پھر گریجویٹ ایوارڈز آخری ہچکی لینے کے بعد بند ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب بولان ایوارڈ کی بات کرتے ہیں جس نے ابتداء ہی صوبائی نعرے سے کی اور پنجاب کی روایات کے مطابق بہت سی شخصیات نے انکے ساتھ بھرپور تعاون کیا لیکن وہ بھی ایوارڈز تقریبات کا تسلسل برقرار نہ رکھ سکے –
اسکی ایک زندہ مثال چند ماہ قبل بولان ایوارڈ کے روح رواں کے اعزاز میں تقریب پذیرائی منعقد کی گئی جس سے انکی خدمات کا اندازہ لوگوں نے لگا لیا ہوگا – اسی طرح نیشنل ایوارڈ ، مصور ایوارڈ ، الفنکار ایوارڈ ، باہو ایوارڈ اور کئی ایوارڈ کی چند ایک تقریب منعقد ہوئی تھی لیکن کوئی بھی تنظیم تسلسل برقرار نہ رکھ سکی –
پیرسیدسہیل بخاری نے بتایا کہ ایشین کلچرل ایسوسی ایشن آف پاکستان ایوارڈز تقریبات کے ساتھ اعتراف فن اعتراف خدمت ، تعزیتی ریفرنس ، اور ہر قومی تہوار پر ثقافتی پروگرام قوالی نائٹ ، مجلس مسالمہ ، مشاعرہ اور دیگر ثقافتی تقریبات کسی سہارے یا کسی صوبائی نعرے سے نہیں کرتے – سید ظفر عباس المعروف
پیر سید سہیل بخاری کے بارے میں لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ” ون مین آرمی ” ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ جو بھی تقریب کرنا چاہتے ہیں دوست ، احباب کے ساتھ ساتھ اللہ اور پنجتن پاک کی مدد بھی ملتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پنجاب کے لوگوں کی اکثریت نے پیرسیدسہیل بخاری کی ہمیشہ مخالفت کی اور دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر گرانے کی کوشش کرتے رہے ہیں لیکن وہ آل نبی اولاد فاطمہ علیہ السلام ہیں انکی مدد اور سرپرستی انکے وارث ہی کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیر سید سہیل بخاری کا کہنا ہے کہ ایشین کلچرل ایسوسی ایشن آف پاکستان ایک غیر تجارتی تنظیم ہے – ایونٹس کروانا انکا کاروبار نہیں بلکہ شوق ہے –
ایشین کلچرل ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکرٹری جنرل و چیئرمین ایوارڈز کمیٹی پیر سید سہیل بخاری نے بتایا کہ ہم ایشین ایکسی لینس پرفارمنس ایوارڈز اور ایشین میڈیا اینڈ بزنس ایوارڈز ، ایشین میلوڈی ایوارڈز کی تقریبات تسلسل سے کرواتے ہیں یہ تقریبات اسلام آباد میں بھی پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے آڈیٹوریم میں منعقد کی جاتی ہیں – اسی طرح پنجاب آرٹس کونسل( پکار ) لاہور آرٹس کونسل الحمراء اور ادارہ برائے زبان فن تے ثقافت ( پلاک) کے اشتراک سے تقریبات منعقد کرتے ہیں اور اس سلسلے میں ان اداروں کے سربراہان کی مکمل سرپرستی حاصل ہوتی ہے اور سیکرٹری اطلاعات وثقافت پنجاب سید طاہر رضا ہمدانی ، پکار کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محبوب عالم چوہدری ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمراء محمد نواز گوندل کی مکمل سرپرستی حاصل ہے –
پیر سید سہیل بخاری نے کہا کہ ایشین کلچرل ایسوسی ایشن آف پاکستان ایک غیر تجارتی تنظیم ہے – پاکستان میں پہلی مرتبہ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے لیے ایشین میڈیا ایوارڈز کا اجرا ہماری تنظیم نے کیا ، جن کی اب تک آٹھ تقریبات منعقد ہو چکی ہیں۔اسی طرح ایشین ایکسی لینس پرفارمنس ایوارڈز کی رواں سال 29ویں تقریب منعقد کی جائے گی –
پیر سید سہیل بخاری گزشتہ 45 سال سے بے لوث خدمات انجام دے رہا ہوں وہ نہ کسی چاپلوسی کرتے ہیں نہ چمچہ گیری اور نہ ہی انکا کوئی گروپ ہے – پیر سید سہیل بخاری کا کہنا ہے کہ وہ صرف دل سے اپنا کام کرتا ہیں عوام کی طرف سے جو عزت ، محبت اور پذیرائی ملتی ہے وہی میری اصل دولت اور میرا سب سے بڑا پرائیڈ ہے – پیرسیدسہیل بخاری نے کہا ہے کہ حکومت اپنے منظور نظر افراد کو پرائیڈ آف پرفارمنس ، ستارہ امتیاز اور دیگر سرکاری اعزاز دینا بند کرے پرائیڈ آف پرفارمنس کارکردگی کی بنیاد پر دینا چاہئے – پیرسیدسہیل بخاری نے کہا کہ صوفی ازم کے فروغ میں نمایاں خدمات سر انجام دینے پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر پکار محبوب عالم چوہدری کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے اسی طرح پنجاب کی وزیر اطلاعات وثقافت پنجاب میڈم عظمی بخاری کی خدمات بھی قابل تحسین ہیں انہوں نے فنکاروں ، تخلیق کاروں اور سٹیج ڈراموں کیلئے نئی راہ متعین کی ہے موجودہ وزیر اطلاعات وثقافت پنجاب میڈم عظمی بخاری نے وزیر اعلٰی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کے وژن کو مدنظر رکھتے ہوئے پنجاب کی ثقافت کی ترقی اور نوجوان نسل میں متعارف کروانے پر اپنا نمایاں
کردار ادا کیا ہے میں انکو خراج تحسین پیش کرتا ہوں- پیر سید سہیل بخاری نے کہا کہ ثقافتی اور لٹریری تنظیموں کو گرانٹ دینے کا طریقہ کار شفاف بنایا جائے کیونکہ اکثر افراد نے کاروبار بنا رکھا ہے اسکی مکمل تحقیقات کی جانی چاہئے-
پیرسیدسہیل بخاری نے مزید بتایا کہ انکی ابتدا میں کچھ عرصہ فلم میگزین بھی شائع کئے جب ڈیکلریشن رینٹ پر لیا جاتا تھا پھر جب پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس آیا تو ہفت روزہ فلمی اخبار “ایورنیو ” کی اشاعت کرتے رہے اور ساتھ ساتھ مختلف اخبارات میں کالم نگاری بھی کرتے ہیں –