اسلام آباد (ٹی این ایس)— پیاس (پیاس ) انٹرنیشنل ہیومن رائٹس نے وفاقی دارالحکومت میں غیر قانونی انڈور اور آؤٹ ڈور شیشہ کیفے کے خلاف اپنی عوامی مہم کو تیز کرتے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس سے سپریم کورٹ آف پاکستان تک ایک پرامن ‘پیس واک’ کا اعلان کیا ہے۔ اس مہم کا مقصد عوامی آگاہی کو فروغ دینا، نوجوان نسل کا تحفظ، اور متعلقہ حکام سے صحت اور عوامی تحفظ کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروانا ہے۔تنظیم کی جانب سے دائر کردہ مفادِ عامہ کا یہ اہم کیس اس وقت معزز اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جو بھی شیشہ کیفے سرکاری مینوئل (پیاس ) کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، یا جہاں منشیات کی فروخت اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں جیسے شواہد موجود ہیں، ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت اور فوری کارروائی کی جائے۔اس عوامی آگاہی مہم کے دوران پیاس انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کے چیئرمین کو شدید دباؤ، دھمکیوں اور جان لیوا فائرنگ کے واقعے کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ان سنگین سیکیورٹی چیلنجز کے باوجود، تنظیم قانون کی بالادستی، پبلک انٹرسٹ اور نوجوان نسل کو اس ناسور سے بچانے کی جدوجہد پر مضبوطی سے قائم ہے۔پیاس انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ “ہمیں معزز اسلام آباد ہائی کورٹ پر مکمل اور غیر متزلزل اعتماد ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ عدالتِ عالیہ دستیاب شواہد اور قانون کی روشنی میں ایک ایسا تاریخی فیصلہ سنائے گی جس سے انصاف، عوامی مفاد اور ہماری نوجوان نسل کے مستقبل کا تحفظ یقینی ہوگا۔”مستقبل قریب میں ہونے والی یہ پرامن واک سول سوسائٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک علامتی پکار ہے تاکہ اسلام آباد کے تجارتی مراکز سے غیر قانونی سرگرمیوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔ اس پرامن مارچ کی حتمی تاریخ اور وقت کا اعلان جلد ہی میڈیا اور عوام کے لیے کر دیا جائے گا۔















