اسلام آباد (ٹی این ایس) بارہ برس بعد خانیوال میں ایاز سلیم رانا — کردار، پولیسنگ اور یادوں کا ایک روشن باب

 
0
6

اسلام آباد (ٹی این ایس) سرکٹ ہاؤس خانیوال گزشتہ دنوں ایک بار پھر پرانی یادوں کا امین بن گیا۔ نہ کوئی سرکاری تقریب تھی، نہ پروٹوکول کا شور اور نہ ہی اختیارات کی نمائش۔ لیکن اس کے باوجود وہاں ایک ایسی غیر رسمی محفل آباد تھی جس کا مرکز ایک ایسا نام تھا جسے خانیوال آج بھی احترام سے یاد کرتا ہے: ایاز سلیم رانا۔

بارہ برس بعد خانیوال آنے والے ایاز سلیم رانا آج ریجنل پولیس آفیسر ساہیوال ہیں، مگر اس شہر میں ان کا تعارف کسی موجودہ عہدے کا محتاج نہیں۔ خانیوال انہیں اس دور کے حوالے سے جانتا ہے جب وہ ضلع کی پولیس فورس کی قیادت کر رہے تھے اور جب پولیسنگ صرف مقدمات کے اندراج یا جرائم کے اعدادوشمار تک محدود نہیں تھی بلکہ عوامی اعتماد، قانون کی عملداری اور انصاف کی فراہمی کا نام بھی تھی۔

سرکٹ ہاؤس میں ان سے ملنے والوں میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے۔ راشد بن امیر آئے، طاہر نسیم آئے، رانا عبداللطیف آئے۔ صحافی، سماجی شخصیات، سابق ساتھی اور وہ لوگ بھی آئے جن کا تعلق کسی عہدے یا مفاد سے نہیں بلکہ احترام اور یادوں سے تھا۔ گفتگو شروع ہوئی تو بارہ برس پرانا خانیوال جیسے دوبارہ زندہ ہو گیا۔ کہیں کسی پولیس آپریشن کا ذکر تھا، کہیں کھلی کچہریوں کی بات ہو رہی تھی اور کہیں ان دنوں کی یادیں تازہ کی جا رہی تھیں جب ایاز سلیم رانا اس ضلع میں پولیس کے سب سے بڑے ذمہ دار افسر تھے۔

مجھے اس محفل میں بیٹھ کر بار بار یہ احساس ہو رہا تھا کہ پاکستان میں عہدے بہت لوگوں کو ملتے ہیں مگر یاد بہت کم لوگ رکھے جاتے ہیں۔

سرکاری عہدے وقتی ہوتے ہیں۔ اختیارات بھی عارضی ہوتے ہیں۔ سرکاری گاڑیاں، دفاتر اور پروٹوکول بھی وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ اپنے کردار، فیصلوں اور رویوں کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں ایسی جگہ بنا لیتے ہیں جو تبادلوں اور وقت کی دھول سے بھی متاثر نہیں ہوتی۔

ایاز سلیم رانا کے ساتھ یہی معاملہ ہے۔

خانیوال میں ان کا دور ایک عام تعیناتی نہیں تھا۔ وہ ایک ایسا وقت تھا جب جنوبی پنجاب کے بعض علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر کا خوف محسوس کیا جاتا تھا۔ کئی خطرناک گروہ سرگرم تھے اور پولیس کو محدود وسائل کے باوجود امن و امان برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش تھا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب آج کی طرح سی سی ڈی کا وجود نہیں تھا۔ جدید ٹیکنالوجی، خصوصی یونٹس اور بے شمار وسائل بھی دستیاب نہیں تھے۔ پولیس کو اپنے جذبے، قیادت اور حکمت عملی پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔ ایسے ماحول میں ایاز سلیم رانا نے خانیوال پولیس کو صرف متحرک ہی نہیں رکھا بلکہ اسے ایک مؤثر قوت کے طور پر منظم بھی کیا۔

ان کے دور میں کئی خطرناک جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کامیاب کارروائیاں ہوئیں۔ ظفرگاڑ کے علاقے میں دہشت کی علامت سمجھے جانے والے گروہوں کے خلاف آپریشن کیے گئے۔ طلحہ کے قاتل سمیت متعدد سنگین جرائم میں مطلوب عناصر قانون کی گرفت میں آئے۔ ایسے جرائم پیشہ افراد جن کے نام سن کر لوگ خوف محسوس کرتے تھے، قانون کے سامنے جوابدہ بنائے گئے۔

ان کارروائیوں نے نہ صرف جرائم پیشہ حلقوں کو واضح پیغام دیا بلکہ عام شہریوں کے دلوں میں یہ احساس بھی پیدا کیا کہ ریاست موجود ہے اور قانون کمزور نہیں ہوا۔

ایاز سلیم رانا کی قیادت کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ انہوں نے پولیس فورس کے مورال کو بلند رکھا۔ ایک اچھا کمانڈر صرف احکامات جاری نہیں کرتا بلکہ اپنی ٹیم کو اعتماد بھی دیتا ہے۔ ان کے دور میں فیلڈ افسران کو معلوم تھا کہ اگر وہ قانون کے مطابق کام کریں گے تو ان کی قیادت ان کے ساتھ کھڑی ہوگی۔

لیکن ان کی خدمات کو صرف جرائم کے خلاف کارروائیوں تک محدود کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

ان کے دور کا سب سے روشن پہلو عوام دوست پولیسنگ تھی۔

انہوں نے کمپلین سیل کو فعال بنایا اور شہریوں کی شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر نظام متعارف کروایا۔ عام آدمی کو یہ احساس دلایا گیا کہ اس کی فریاد محض کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے جس پر کارروائی ہونی چاہیے۔

اس زمانے میں نہ سوشل میڈیا کا شور تھا اور نہ آن لائن شکایات کے جدید نظام۔ اس لیے براہ راست عوامی رسائی اور شکایات کے حل کا مؤثر نظام قائم کرنا ایک بڑی کامیابی سمجھا جاتا تھا۔

اسی طرح کھلی کچہریوں کا سلسلہ ان کی انتظامی سوچ کی نمایاں مثال تھا۔ وہ مختلف علاقوں میں جا کر عوام کی شکایات سنتے، موقع پر احکامات جاری کرتے اور کئی معاملات وہیں حل کروا دیتے۔ یہ طرزِ عمل پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوا۔

شاید یہی وجہ تھی کہ ان کے دور میں لوگوں کو محسوس ہوا کہ پولیس صرف طاقت کی علامت نہیں بلکہ انصاف کی فراہمی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔

راؤف کلاسرا اکثر لکھتے ہیں کہ ریاست کا اصل چہرہ وہ افسر ہوتا ہے جس سے ایک عام شہری کا واسطہ پڑتا ہے۔ اگر وہ افسر انصاف فراہم کرے تو ریاست مضبوط ہوتی ہے اور اگر وہ ناانصافی کرے تو پورا نظام عوام کی نظروں میں کمزور پڑ جاتا ہے۔

ایاز سلیم رانا کے بارے میں خانیوال کے لوگ آج بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ دفتر میں بیٹھ کر فیصلے کرنے والے افسر نہیں تھے۔ وہ زمینی حقائق کو سمجھنے اور براہ راست عوامی مسائل سننے پر یقین رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ضلع کے دور دراز علاقوں تک ان کی موجودگی محسوس کی جاتی تھی۔

سرکٹ ہاؤس میں جاری گفتگو کے دوران جب پرانے واقعات کا ذکر آیا تو اندازہ ہوا کہ وقت گزرنے کے باوجود لوگوں کی یادداشت میں ان کے دور کے کئی واقعات آج بھی محفوظ ہیں۔ کسی نے ایک کامیاب پولیس کارروائی یاد دلائی، کسی نے کھلی کچہری کا واقعہ سنایا اور کسی نے بتایا کہ کس طرح ایک عام شہری کی شکایت پر فوری انصاف فراہم کیا گیا۔

یہی کسی بھی سرکاری افسر کا اصل سرمایہ ہوتا ہے۔

تعریفی اسناد فائلوں میں محفوظ رہ جاتی ہیں۔

سرکاری ریکارڈ وقت کے ساتھ پرانا ہو جاتا ہے۔

عہدے تبدیل ہو جاتے ہیں۔

پروٹوکول ختم ہو جاتا ہے۔

لیکن لوگوں کے دلوں میں پیدا ہونے والا احترام باقی رہتا ہے۔

اس محفل کی خوبصورتی بھی یہی تھی کہ یہاں تعلقات موجود تھے۔ راشد بن امیر، طاہر نسیم اور رانا عبداللطیف جیسے دوستوں کی موجودگی اس حقیقت کا ثبوت تھی کہ بعض رشتے سرکاری ضرورتوں کے تحت نہیں بنتے بلکہ کردار، اعتماد اور خلوص کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں۔

وقت نے بہت کچھ بدل دیا ہے۔ خانیوال بھی بدل چکا ہے، پولیسنگ کے انداز بھی تبدیل ہو چکے ہیں اور انتظامی ڈھانچہ بھی پہلے جیسا نہیں رہا۔ لیکن کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ دھندلے نہیں پڑتے۔

ایاز سلیم رانا انہی ناموں میں شامل ہیں۔

آج وہ ریجنل پولیس آفیسر ساہیوال ہیں اور ان کے کندھوں پر پہلے سے کہیں زیادہ بڑی ذمہ داریاں ہیں، لیکن خانیوال کے لوگوں کے لیے وہ اب بھی اس دور کی یاد ہیں جب پولیس عوام کے قریب تھی، جب کھلی کچہریاں لگتی تھیں، جب کمپلین سیل متحرک تھا، جب خطرناک جرائم پیشہ عناصر قانون کے شکنجے میں آ رہے تھے اور جب ایک عام شہری کو محسوس ہوتا تھا کہ اس کی آواز سنی جا رہی ہے۔

سرکٹ ہاؤس میں گزرنے والے چند گھنٹے بظاہر مختصر تھے، مگر ان میں ایک پورا عہد سمٹا ہوا تھا۔

ایک ایسا عہد جسے بارہ برس گزر جانے کے باوجود خانیوال آج بھی احترام سے یاد کرتا ہے۔

کیونکہ آخرکار لوگ عہدوں کو نہیں، کردار کو یاد رکھتے ہیں۔ اور کردار کی طاقت کا کوئی تبادلہ نہیں ہوتا۔