اسلام آباد (ٹی این ایس) پی ایم اسپیشل فیول ریلیف اسکیم” کا آغاز;عوا م کو مہنگائی سے بچانے کے لیےتاریخی ا قدا م

 
0
4

اسلام آباد (ٹی این ایس) حکومتِ پاکستان کی جانب سے متوسط اور غریب طبقے کو بڑھتی ہوئی مہنگائی سے بچانے کے لیے “پی ایم اسپیشل فیول ریلیف اسکیم” کا آغاز کر دیا گیا ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خلیج کی سنگین صورتحال نے جہاں عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے، وہیں بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی متاثر ہونے سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک پر اس کے اثرات انتہائی تشویشناک ہیں، جہاں عام آدمی پہلے ہی بجلی کے بلوں اور روزمرہ کی اشیاء خورونوش کی قیمتوں تلے دبا ہوا ہے۔ ایسے میں وفاق کی جانب سے کم آمدن والے طبقے کے لیے “پی ایم اسپیشل فیول ریلیف اسکیم” کا باقاعدہ آغاز ایک امید کی کرن اور خوش آئند اقدام ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر شروع کی جانے والی اس اسکیم کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر کی خطیر رعایت (سبسدی) فراہم کی جا رہی ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے اس پیکیج کے لیے 75 ارب روپے کے فنڈز جاری کیے ہیں۔اس عوامی ریلیف پیکیج کی تفاصیل اور طریقہ کار کو ایک روایتی اخباری کالم کے انداز میں نیچے قلمبند کیا گیا ہے

وفاقی حکومت نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بوجھ سے غریب طبقے کو بچانے کے لیے تاریخی “پی ایم اسپیشل فیول ریلیف اسکیم” کا باقاعدہ آغاز کیا ہے، جس کے تحت مستحق شہریوں کو پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر کی خطیر سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ ریلیف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ-ایران جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ای سی سی (ECC) نے اس اسکیم کے لیے 75 ارب روپے کے فنڈز کی منظوری دی ہے موجودہ قیمتوں کے مطابق عام مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمت 380.24 روپے فی لیٹر ہے، جبکہ اس اسکیم کے تحت اہل صارفین کو یہ پیٹرول 280.24 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا

سکیم کی اہم تفصیلات،

اہلیت کا معیار اور رجسٹریشن کا طریقہ کار درج ذیل ہے: اسکیم کے لیے اہلیت اور ریلیف کی حدیہ اسکیم صرف غیر تجارتی (Non-Commercial) صارفین کے لیے ہے اور ایک شناختی کارڈ پر صرف ایک گاڑی رجسٹرڈ کی جا سکتی ہے: موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگچی مالکان: ہفتہ وار 500 روپے کا ریلیف (یعنی مہینے میں 20 لیٹر تک پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت)۔800 سی سی (CC) تک کی چھوٹی گاڑیاں: ہر 10 دن کے لیے 1,000 روپے کا ریلیف (یعنی ماہانہ 30 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت)

ملک بھر میں نفاذ کا شیڈول حکومت نے اسکیم کی شفاف فراہمی کے لیے درج ذیل شیڈول کا اعلان کیا ہے 14 اور 15 ستمبر کی درمیانی شب سے رعایتی پیٹرول کی فراہمی شروع ہو چکی ہے۔باقی پاکستان (پنجاب، سندھ، کے پی، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر): 16 اور 17 ستمبر کی درمیانی شب سے باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا 100 روپے رعایت حاصل کرنے کا مرحلہ وار طریقہصارفین کو ڈیجیٹل طریقے سے جوڑنے کے لیے مندرجہ ذیل آسان اقدامات کرنے ہوں گے

پہلا مرحلہ (رجسٹریشن): اپنے موبائل کے میسج آپشن میں جا کر لکھیں: REG <اسپیس> شناختی کارڈ نمبر <اسپیس> گاڑی کا رجسٹریشن نمبر <اسپیس> صوبے کا پہلا حرف <اسپیس> رجسٹریشن کی تاریخ اور اسے 9771 پر بھیج دیں۔

دوسرا مرحلہ (تصدیق): رجسٹریشن مکمل ہونے پر آپ کو حکومت کی طرف سے ایک تصدیقی میسج موصول ہوگا۔

تیسرا مرحلہ (ٹوکن کا حصول): پیٹرول پمپ پر جانے سے پہلے اپنے موبائل سے TOK لکھ کر دوبارہ 9771 پر ایس ایم ایس کریں۔

چوتھا مرحلہ (رعایت کا حصول): آپ کو ایک ڈیجیٹل ٹوکن میسج ملے گا جس میں ٹوکن نمبر، گاڑی کا نمبر اور پیٹرول کی رعایتی مقدار لکھی ہوگی۔ یہ میسج پمپ پر دکھا کر آپ 100 روپے فی لیٹر کی فوری بچت حاصل کر سکتے ہیں

وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر عوام کی سہولت کے لیے 9771 پر بھیجے جانے والے تمام ایس ایم ایس (SMS) بالکل مفت کر دیے گئے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے حکومت کی آفیشل ویب سائٹ PM Fuel Relief پر وزٹ کیا جا سکتا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب پیٹرول کی قیمتیں غریب کی پہنچ سے باہر ہو رہی ہیں، حکومت کی جانب سے فی لیٹر 100 روپے کی براہِ راست سبسٹڈی فراہم کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ تاہم، اس اسکیم کو طویل المدتی بنیادوں پر کامیاب بنانے کے لیے اس کے طریقہ کار، شفافیت اور عام شہریوں کے لیے رسائی کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ اسکیم کا دائرہ کار اور ریلیف کی حدکابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کے منظور کردہ پیکیج کے مطابق، یہ ریلیف صرف غیر تجارتی (Non-Commercial) صارفین کے لیے مختص ہے اور اس کی تقسیم درج ذیل کوٹے کے تحت کی جا رہی ہے:موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگچی صارفین: ان کے لیے ماہانہ 20 لیٹر پیٹرول کا کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔ یعنی وہ ہر ہفتے 500 روپے (ماہانہ 2,000 روپے) تک کی براہِ راست بچت حاصل کر سکتے ہیں۔800 سی سی (CC) تک کی چھوٹی گاڑیاں: (جیسے مہران، آلٹو، بولان وغیرہ) کے لیے ماہانہ 30 لیٹر کا کوٹہ طے ہوا ہے۔ یہ صارفین ہر 10 دن بعد 1,000 روپے (ماہانہ 3,000 روپے) کا فیول ریلیف حاصل کر سکیں گے۔ملکیت کی شرط کا خاتمہ: وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق، گاڑی یا بائیک کا شناختی کارڈ ہولڈر کے نام پر ہونا لازمی نہیں، بلکہ جو شخص گاڑی استعمال کر رہا ہے وہ بھی اس ریلیف کا اہل ہو سکتا ہے۔ رجسٹریشن کا آسان ڈیجیٹل طریقہ کار (بغیر انٹرنیٹ)عوام کی سہولت کے لیے آئی ٹی اور پیٹرولیم کی وزارتوں نے ایک خودکار ڈیجیٹل سسٹم تیار کیا ہے جس کے لیے کسی اسمارٹ فون یا انٹرنیٹ کی ضرورت نہیں۔ شہری اپنے سادہ موبائل فون سے درج ذیل اقدامات کے ذریعے یہ ریلیف حاصل کر سکتے ہیںپہلا مرحلہ (ایس ایم ایس رجسٹریشن): اپنے فون کے میسج آپشن میں جائیں اور لکھیں:REG <اسپیس> شناختی کارڈ نمبر <اسپیس> گاڑی کا نمبر <اسپیس> صوبائی کوڈ <اسپیس> رجسٹریشن کی تاریخ اور اسے 9771 پر بھیج دیں۔(مثال: REG 61101146206753 ADV811 I 16052017)دوسرا مرحلہ (ٹوکن کا حصول): رجسٹریشن کی تصدیق کا میسج ملنے کے بعد، جب بھی پیٹرول پمپ پر جانا ہو، تو اسی نمبر سے TOK لکھ کر 9771 پر بھیجیں۔تیسرا مرحلہ (رعایت کی فراہمی): موبائل پر موصول ہونے والا ڈیجیٹل ٹوکن کوڈ پیٹرول پمپ کے عملے کو دکھائیں، وہ اسے اپنے سسٹم سے تصدیق کر کے آپ کو فوری طور پر 100 روپے فی لیٹر سستا پیٹرول فراہم کر دیں گے۔حکومت نے اس اسکیم کو مرحلہ وار نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے:اسلام آباد ریجن: وفاقی دارالحکومت میں یہ اسکیم 14 اور 15 ستمبر کی درمیانی شب سے فعال ہو چکی ہے، جہاں پہلے ہی دن لاکھوں شہریوں نے رجسٹریشن کے لیے رجوع کیا۔باقی پاکستان: پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں یہ سہولت 16 اور 17 ستمبر کی درمیانی شب سے مکمل طور پر دستیاب ہو جائے گی۔

چیلنجز اور اختتامی کلماتجہاں اس اسکیم کا عوامی سطح پر زبردست خیر مقدم کیا جا رہا ہے، وہیں اپوزیشن اور چند ماہرینِ معیشت کی جانب سے ڈیٹا بیس کی درستگی اور بوگس رجسٹریشن جیسے چیلنجز پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ حکومت نے ان خدشات کو دور کرنے کے لیے نادرہ (NADRA) اور صوبائی ایکسائز محکموں کے ڈیٹا کو آپس میں منسلک کیا ہے۔مجموعی طور پر، یہ اسکیم موجودہ معاشی بحران میں دیہاڑی دار طبقے، پبلک ٹرانسپورٹ چلانے والوں، طلبہ اور ڈیلیوری رائیڈرز کے لیے ایک بڑا سہارا ثابت ہو سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پیٹرول پمپس پر ٹیکنالوجی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کو فوری حل کرنے کے لیے قائم کردہ ہیلپ لائنز چوبیس گھنٹے متحرک رہیں تاکہ غریب شہریوں کو ریلیف حاصل کرنے کے لیے طویل لائنوں اور خواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ پی ایم اسپیشل فیول ریلیف اسکیم پر ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان سخت لفظی جنگ چھڑ گئی ہے، جہاں حکمران اتحاد اور اپوزیشن آمنے سامنے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیرِ مملکت برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک کا موقف ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کے شدید بحران کے پیشِ نظر 11 ملین سے زائد غریب موٹر سائیکل اور رکشہ مالکان کو تحفظ دینا ناگزیر تھا، جس کے لیے حکومت نے اپنے ترقیاتی بجٹ (PSDP) سے 75 ارب روپے قربان کیے۔ دوسری طرف، جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے اس پیکیج کو یکسر “ناکافی” قرار دے کر مسترد کر دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت عارضی سبسڈیز کے بجائے پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ کرے اور آئی پی پیز (IPPs) کے ظالمانہ معاہدوں پر نظرثانی کرے۔ اسی طرح پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) نے بھی اس اسکیم کو ایک “سیاسی شعبدہ بازی” اور پبلسٹی اسٹنٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرول کی بنیادی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا کر غریب عوام کو پیچیدہ ڈیجیٹل ٹوکن لائنوں میں لگانا سراسر ناانصافی ہے، اس لیے حکومت کو ٹیکسز میں مستقل کمی کر کے پائیدار ریلیف دینا چاہیے۔پی ایم اسپیشل فیول ریلیف اسکیم کے نفاذ پر ملک بھر کے بازاروں، رکشہ اسٹینڈز اور پیٹرول پمپس پر عوام اور خصوصاً دہاڑی دار مزدور طبقے کی جانب سے ایک ملا جلا اور گہرا ردعمل سامنے آیا ہے۔ جہاں ایک بڑی تعداد نے فی لیٹر 100 روپے کی بچت کو موجودہ شدید مہنگائی میں ایک بڑا ہاؤس ہولڈ ریلیف قرار دیا ہے، وہیں زمینی حقائق کے پیشِ نظر رکشہ ڈرائیورز اور دیہاڑی دار طبقے کو چند عملی مشکلات کا بھی سامنا ہے۔ مزدوروں کا کہنا ہے کہ ماہانہ 20 سے 30 لیٹر کا کوٹہ ان کی روزمرہ کی کاروباری ضروریات کے لیے بہت کم ہے، کیونکہ ایک کمرشل رکشہ یا آن لائن ڈیلیوری بائیک روزانہ کم از کم 5 سے 7 لیٹر پیٹرول استعمال کرتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ سرکاری کوٹہ محض چند دنوں میں ختم ہو جائے گا۔ مزید برآں، ملک کے دور دراز علاقوں اور پسماندہ شہروں میں پیٹرول پمپس پر اسمارٹ فونز یا ڈیجیٹل ٹوکن سسٹم کی سست رفتار کنیکٹیویٹی اور طویل لائنوں کی وجہ سے دیہاڑی دار طبقے کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے، جس پر انہوں نے شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے اس نظام کو مزید سادہ اور کوٹے کی حد کو بڑھانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور نعرے بازی سے ہٹ کر دیکھا جائے تو ‘پی ایم اسپیشل فیول ریلیف اسکیم’ کا اخلاقی اور سیاسی حاصل یہ ہے کہ ریاست نے طویل عرصے بعد، سسکتے ہوئے غریب طبقے کے دکھوں کا مداوا کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش کی ہے۔ اخلاقی طور پر یہ اسکیم اس بات کا اعتراف ہے کہ اشرافیہ کی مراعات پر کلہاڑا چلائے بغیر غریب کو تنہا چھوڑ دینا عوامی فلاحی ریاست کے تصور کی نفی ہوگی؛ ترقیاتی بجٹ سے 75 ارب روپے کاٹ کر موٹر سائیکل اور رکشہ رائیڈرز کی جیب میں ڈالنا ایک مثبت اخلاقی قدم ہے۔ تاہم، سیاسی طور پر حکومت کے لیے اصل امتحان اس اسکیم کو محض ایک وقتی انتخابی اسٹنٹ بننے سے روکنا اور اسے بیوروکریٹک رکاوٹوں سے پاک کرنا ہے۔ اگر اپوزیشن کی تنقید کے مطابق یہ اسکیم ٹیکنالوجی کی خرابیوں یا ناکافی کوٹے کی وجہ سے غریب کے لیے ریلیف کے بجائے زحمت بن گئی، تو اس کا سیاسی خمیازہ موجودہ حکمران اتحاد کو بھگتنا پڑے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت عارضی بیساکھیوں کے ساتھ ساتھ آئی پی پیز (IPPs) اور پٹرولیم ٹیکسز کے ڈھانچے میں مستقل اصلاحات کرے، کیونکہ غریب کو چند لیٹر کا کوٹہ نہیں بلکہ مہنگائی کے مستقل طوفان سے نجات چاہیے۔