اسلام آباد (ٹی این ایس) امن قائم کرنا جنگ جیتنے سے کہیں بہتر ہے, پاکستان ایسے مستقبل کا خواہاں ہے جہاں جنگیں نہ ہوں اور پائیدار امن صرف بات چیت، باہمی اعتماد اور مشترکہ اقدامات سے ہی ممکن ہے۔مکہ دفاعی معاہدہ جنگ کا نہیں بلکہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کا معاہدہ ہے اور پاکستان اس کے تحت علاقائی سلامتی کے لیے پرعزم ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے قطر میں منعقدہ گلوبل سیکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ تاریخی معاہدہ اگست 2026 میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین مکہ مکرمہ میں طے پایا تھا، جس کا بنیادی پس منظر فروری 2026 سے جاری امریکہ-ایران کشیدگی، خطے میں غیر یقینی صورتحال اور خلیجی خطے پر یمن کے حوثی باغیوں کے بڑھتے ہوئے میزائل و ڈرون حملوں سے جڑا ہوا ہے۔ اس سہ فریقی اتحاد کی بنیاد دراصل ستمبر 2025 میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر رکھی گئی تھی، جس کا دائرہ کار بعد میں ترکیہ تک بڑھا کر اسے نیٹو (NATO) طرز کا ایک مضبوط دفاعی بلاک بنا دیا گیا جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور ہوتا ہے۔
اپنے خطاب کے دوران وزیر داخلہ نے اسی نازک علاقائی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا تفصیلی ذکر کیا اور بتایا کہ گزشتہ چند سال خطے اور پوری دنیا کے لیے انتہائی تشویشناک رہے، جس کے دوران پاکستان نے دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے انتھک کوششیں کیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ بات چیت کا یہ مرحلہ کتنا کٹھن تھا اور کئی بار صورتحال انتہائی کشیدہ ہوئی، لیکن پاکستان نے ہمت نہیں ہاری اور کوششیں جاری رکھیں۔ محسن نقوی نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے قطر کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہا اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ذاتی کاوشوں اور بین الاقوامی تعلقات کو امن کی راہ ہموار کرنے کے لیے ناگزیر قرار دیا، جنہوں نے سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کے دوران قطری قیادت کے ساتھ مسلسل 16 گھنٹے کام کیا۔ اپنے سفارتی تجربات کی روشنی میں وزیر داخلہ نے تین بنیادی اصولوں پر روشنی ڈالی جو پائیدار امن کے لیے ضروری ہیں، جن میں پہلا یہ کہ مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں کرنے چاہئیں، دوسرا یہ کہ اعتماد کسی بھی بات چیت کا سب سے اہم جزو ہے، اور تیسرا یہ کہ امن کے قیام کے لیے تمام فریقین کی جانب سے مخلصانہ کوششیں ضروری ہیں۔
دہشت گردی کے ناسور پر بات کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان خود طویل عرصے سے دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور اس نے اس جنگ میں ہزاروں شہریوں، فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی قربانیاں دے کر بھاری جانی و مالی نقصانات اٹھائے ہیں، اس لیے دہشت گردی جیسے مشترکہ دشمن سے نمٹنے کے لیے تمام ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا کیونکہ یہ کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی چیلنج ہے جس کے لیے انٹیلی جنس معلومات کا بہتر تبادلہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستانی افواج کی دہائیوں پر محیط خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے مؤقف کا اعادہ کیا کہ امن قائم کرنا جنگ جیتنے سے کہیں بہتر ہے اور پاکستان ایک ایسے مستقبل کا خواہاں ہے جہاں جنگیں نہ ہوں، تاہم پائیدار امن راتوں رات یا صرف ایک اجلاس سے قائم نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے تمام شراکت داروں کو صبر، تحمل اور مستقل مزاجی کے ساتھ باہمی اعتماد اور مشترکہ اقدامات کا مظاہرہ کرنا ہوگا، اور پاکستان خطے کو مزید عدم استحکام سے بچانے کے لیے اپنا غیر جانبدارانہ اور پُرامن سفارتی کردار ادا کرتا رہے گا۔اس اہم سفارتی پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے ممتاز سیاسی اور دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کو ‘مسلم نیٹو’ قرار دینا قبل از وقت ہوگا، تاہم یہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سیکیورٹی چھتری کے ممکنہ متبادل یا توازن کے طور پر ایک انتہائی اہم سنگِ میل ہے۔ ماہرین کے مطابق، پاکستان کا جوہری اثاثہ اور مضبوط عسکری تاریخ اس اتحاد کو ایک علامتی اور ٹھوس دفاعی مضبوطی فراہم کرتی ہے، جو سعودی عرب اور ترکیہ جیسے ممالک کے دفاعی مینوفیکچرنگ اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے اہداف سے مطابقت رکھتی ہے۔ تجزیہ کاروں نے مزید نوٹ کیا کہ پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام آباد اس معاہدے کو کسی بھی صورت ایران کے خلاف فرنٹ لائن کے طور پر استعمال کرنے کے حق میں نہیں ہے، بلکہ وہ تزویراتی توازن برقرار رکھتے ہوئے ایک پُرامن سفارتی پُل بننا چاہتا ہے۔ ماہرین نے اس نقطے کو بھی اہم قرار دیا کہ پائیدار امن کے حصول کے لیے اعتماد کی بحالی اور مشترکہ خطرات کے خلاف مخلصانہ اقدامات ہی مکہ اتحاد کی اصل کامیابی کا تعین کریں گے۔گلوبل سیکیورٹی فورم ایک ممتاز اور سالانہ بین الاقوامی کانفرنس ہے جو عالمی برادری کو درپیش سب سے اہم اور پیچیدہ سیکورٹی چیلنجز، سفارت کاری، اور تزویراتی اتحادوں پر بحث کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے۔ اس باوقار فورم کا سالانہ انعقاد قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوتا ہے، جس کی میزبانی مشہور بین الاقوامی تھنک ٹینک دی سوفان سینٹر اور قطر انٹرنیشنل اکیڈمی فار سیکورٹی اسٹڈیز مشترکہ طور پر کرتے ہیں۔
اس فورم میں دنیا بھر کے 100 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ ترین سرکاری حکام، وزرائے داخلہ، دفاعی و سیکیورٹی ماہرین، دانشور، اور پالیسی ساز یکجا ہوتے ہیں۔
8ویں گلوبل سیکیورٹی فورم 2026 کا بنیادی تھیم “اتحادوں کا مستقبل” رکھا گیا ہے۔ اس کے تحت تیزی سے بدلتے ہوئے جیو پولیٹیکل منظر نامے، علاقائی تنازعات، اور بین الاقوامی اداروں کی ساکھ کو درپیش دباؤ کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ یہ فورم تنازعات کے حل کے لیے جنگ یا طاقت کے استعمال کے بجائے باہمی اعتماد، سفارت کاری، اور ثالثی کے کردار کو کلیدی اہمیت دیتا ہے۔ پاکستان اس فورم کا ایک سرگرم حصہ رہا ہے۔ موجودہ فورم میں پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے شرکت کی، جہاں انہوں نے امریکہ-ایران کشیدگی میں کمی لانے اور مکہ دفاعی معاہدے کے پُر امن مقاصد کو اجاگر کرنے کے لیے پاکستان کے کلیدی موقف کو دنیا کے سامنے پیش کیاگلوبل سیکیورٹی فورم 2026 کا آٹھواں ایڈیشن 19 سے 21 اکتوبر 2026 تک دوحہ کے فیئرمونٹ ہوٹل میں منعقد ہو رہا ہے، جس کا مرکزی تھیم “اتحادوں کا مستقبل” رکھا گیا ہے۔ اس سال یہ فورم ایک ایسے نازک موڑ پر ہو رہا ہے جہاں بین الاقوامی قوانین، روایتی اتحاد اور عالمی ادارے شدید جیو پولیٹیکل دباؤ اور علاقائی جنگوں کی زد میں ہیں، اور اس تناظر میں فورم کا ایجنڈا، علاقائی تنازعات اور قطر کے وزیرِ اعظم کا افتتاحی موقف خطے کی سیکیورٹی کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ قطر کے وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے فورم کا باضابطہ افتتاح کیا اور اپنے خطاب میں زور دیا کہ عالمی برادری کو اس وقت سلامتی، استحکام اور بین الاقوامی نظم و ضبط کے روایتی تصورات پر نئے سرے سے غور کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ موجودہ جیو پولیٹیکل تبدیلیاں بین الاقوامی اداروں کی ساکھ کا امتحان لے رہی ہیں اور ایسے میں علاقائی و عالمی سلامتی کے پائیدار قیام کا واحد راستہ صرف اور صرف سفارت کاری، مکالمے اور مخلصانہ ثالثی میں ہی مضمر ہے۔ قطر کی قیادت نے واضح کیا کہ ان کا ملک عالمی اتحادوں کو مضبوط بنانے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک پُرامن سفارتی مرکز کے طور پر اپنا متحرک کردار ادا کرتا رہے گا۔ اس سال فورم کے ایجنڈے اور زیرِ بحث آنے والے علاقائی تنازعات میں سب سے اہم ترین نکتہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ اور اس کے بعد کی صورتحال ہے۔ فورم میں فروری 2026 میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے جانے والے فضائی حملوں، جنیوا معاہدے، اور اس کے بعد جھیل لوسرن (سوئٹزرلینڈ) میں پاکستان اور قطر کی مشترکہ ثالثی کے تحت ہونے والے امن مذاکرات پر تفصیلی بات چیت کی جا رہی ہے۔ قطر کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ دفاع شیخ سعود بن عبدالرحمن آل ثانی نے اس موقع پر خلیجی ممالک کے درمیان ایک ایسے سیکیورٹی فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا جس میں ایران کو بھی شامل کیا جائے تاکہ خلیج میں عدم جارحیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ جنیوا معاہدے کے فوری بعد قطر کے ایک بحری جہاز پر حملے کے باوجود دوحہ نے تہران کے ساتھ تمام تر اختلافات کے باوجود اعلیٰ ترین سطح پر مواصلاتی رابطے منقطع نہیں ہونے دیے۔
فورم کے دیگر اہم ایجنڈوں میں خلیجی خطے اور بحیرہ احمر میں یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے تجارتی بحری راستوں اور اہم ترین تنصیبات پر ہونے والے میزائل و ڈرون حملے شامل ہیں، جن کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، فورم میں ‘اسٹریٹجک باہمی انحصار’ کے تحت توانائی کی سپلائی، سمندری تجارتی چوک پوائنٹس اور نازک راہداریوں کی حفاظت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایجنڈے میں غیر ریاستی عناصر کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، سائبر سیکیورٹی، مصنوعی ذہانت کا جنگی و دفاعی استعمال، اور ابھرتی ہوئی طاقتوں کے باعث بین الاقوامی اداروں پر بڑھتے ہوئے دباؤ جیسے موضوعات پر 100 سے زائد ممالک کے وفود گہرائی سے غور کر رہے ہیں۔اتحادوں کا مستقبل گلوبل سیکیورٹی فورم کا مرکزی ایجنڈا ہے۔ یہ موضوع موجودہ دور میں تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی جیو پولیٹکس، علاقائی جنگوں، اور بین الاقوامی شراکت داریوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے تناظر میں منتخب کیا گیا ہے۔ عالمی سطح پر ابھرتی ہوئی طاقتوں، سپر پاورز کی باہمی مسابقت، اور روایتی سیکیورٹی ضمانتوں کے غیر یقینی ہونے کے باعث پرانے عالمی اتحادوں کی ساکھ، باہمی اعتماد اور قانونی حیثیت کا ازسرِ نو جائزہ لیا جا رہا ہے۔ فورم کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ موجودہ بحرانوں میں ان اتحادوں کو کیسے برقرار رکھا جائے یا انہیں نئے دور کے تقاضوں کے مطابق کیسے ڈھالا جائے فورم میں نیٹو کے تناظر اور “فائیو آئیز” (Five Eyes) جیسے انٹیلی جنس نیٹ ورکس کے کردار پر بات کی جا رہی ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ کثیر الجہتی ادارے اور ممالک مل کر خودمختاری، اہم سمندری تجارتی راستوں، اور نازک ترین انفراسٹرکچر کا تحفظ کیسے کر سکتے ہیں۔
اس تھیم کے تحت روایتی عسکری اتحادوں کے علاوہ غیر ریاستی عناصر کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور نئی دفاعی ٹیکنالوجیز (جیسے ڈرون ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت) کے پھیلاؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو آپریشنل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اتحادوں کے مستقبل” کا ایک بڑا حصہ اس بات پر مرکوز ہے کہ کس طرح مضبوط علاقائی اتحاد جنگوں کو روکنے، کشیدگی کو کم کرنے، اور متحارب قوتوں (جیسے امریکہ اور ایران) کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سفارتی پُل اور مخلصانہ ثالثی کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مجموعی طور پر، یہ تھیم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بدلتی ہوئی دنیا میں کوئی بھی ملک اکیلا سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا نہیں کر سکتا، اور مستقبل کی بین الاقوامی سلامتی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ممالک کے باہمی وعدے اور اتحاد صرف کاغذوں تک محدود رہتے ہیں یا عملی اقدامات میں تبدیل ہوتے ہیں













