راولپنڈی (ٹی این ایس) راجہ بازار کے مرکزی راستے بند ہونے سے مغل سرائے مارکیٹ سمیت دیگرمراکز میں ہول سیل سرگرمیاں محدود جبکہ تاجرمسلسل مندی کا شکارہیں۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے بازار کے صدرشیخ شبیر احمد سینیئر، نائب صدر شیخ محمد اعجاز، اور جنرل سیکرٹری چوہدری رئیس نے کہا کہ شہر میں عوامی سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے راجہ بازار کی تزئین و آرائش کے ساتھ یہاں کاروباری فرق اور معاملات کو سمجھنے کی ضرورت تھی جسے محسوس نہیں کیا گیا۔ بنیادی طور پر راجہ بازار اور اسکی ملحقہ مارکیٹیں شروع سے ہول سیل کاروبار کے بڑے مراکز میں شمار ہوتی ہیں یہاں کی ہول سیل مارکیٹوں میں کپڑا، جوتا، ملبوسات اور کراکری سمیت دیگر ضرویات زنگی کا تمام سامان فروخت ہوتا ہے اورمقامی خریداروں سمیت ملک بھر سے بلکہ پوری دنیا سے لوگ خریداری کے لیے آتے ہیں۔ یہاں کاروبار کرنے اور باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والے تمام ہول سیل تاجروں کے حقوق کا احساس اور انہیں تحفظ دینا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہول سیل ماکیٹوں سے گاہک کو بھاری سامان کو منتقل کرنے میں دشواری اتھانی پڑتی ہے, بازار میں سامان لانے لیجانے کے مرکزی راستے بند ہونے سے تاجر اورخریدار دونوں ریڑھی بانوں کے من مانے معاوضے ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ رہی سہی کسرپبلک ٹرانسپورٹ کو راجہ بازار تک رسائی نا ملنے پر پوری ہو گئی ہے گاہکوں کے دوسری مارکیٹوں کی جانب رخ کرنے سے راجہ بازار اور دیگر ملحقہ مرکزی ہول سیل کی مارکیٹوں میں مغل سرائے مارکیٹ، غوثیہ مارکیٹ، مومن سینٹر، وارث مارکیٹ اور قریبی مارکیٹوں میں اکبرمارکیٹ، فیصل مارکیٹ اور بازار تلواراں کے سینکڑوں تاجر کاروباری اخراجات پورے نا ہونے پر شکوہ کر رہے ہیں اور مارکیٹوں میں گاہکوں کا رش کم ہونے پر پریشان ہیں۔













