کٹھ پتلی نہیں ہوں، کسی کے اشارے پر نہیں چلتا: بلاول بھٹو زرداری

29
255

اسلام آباد 26 اکتوبر 2020 (ٹی این ایس): پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پارٹی کے منشور میں درج ہے کہ گلگت بلتستان کے منتخب نمائندوں کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نشستیں دلائیں گے اور میرا وعدہ ہے کہ صوبہ بنا کر دیں گے۔

گلگت بلتستان کے علاقے شگر میں کارکنوں سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ میں کوئی کٹھ پتلی نہیں ہوں اور کسی کے اشارے پر نہیں چلاوں گا۔

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کو بتانا چاہتا ہوں کہ پیپلز پارٹی کا 2018 کا منشور پورے گلگت بلتستان کا مطالبہ ہے۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ جب آپ کے ووٹوں سے اس ملک کا وزیراعظم بنے گا تو پھر آپ کی قسمت بھی بدل جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے شگر کے نوجوانوں کے لیے جو خواب دیکھا تھا اب مجھ پر فرض ہے کہ وہ خواب پورا کروں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ماضی میں بھی پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے حقوق دیے اور آئندہ بھی ہماری ہی جماعت دے سکے گی۔

انہوں نے پارٹی کے انتخابی امیدوار عمران ندیم کا نام لے کر کہا کہ جب تک ہمارے ساتھ ایسے ساتھی ہیں جو عوام کا خیال رکھتے ہیں اور مشکل وقت میں ساتھ دیتے ہیں ان کی کامیابی کے بعد مجموعی طور پر عوام کے مسائل بھی حل کرسکیں گے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہماری پارٹی نے گلگت بلتستان میں خاص طور پر ملازمتیں فراہم کیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت میں یقیناً غلطیاں ہوئی ہوں گی لیکن اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ گلگت بلتستان میں 25 ہزار نوکریاں فراہم کیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کسی بھی طبقے کو ریلیف نہیں دیا بلکہ تکلیف دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز، سرکاری ملازمین اور لیڈی ہیلتھ ورکرز اسلام آباد میں اپنے حقوق کے لیے سراپا احتجاج ہیں، بے نظیر بھٹو نے ملک بھر میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کا نیٹ ورک پھیلایا لیکن آج وہ اپنے حقوق سے محروم ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ کم نظر لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ظلم کرکے سچ کا راستہ روک سکتے ہیں اور قتل کرکے آواز ختم کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی کامیاب ہونے دیا اور نہ ہی آج کامیاب ہونے دیں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ گلگت بلتستان میں مہنگائی کو روکنے کے لیے ہمیں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو روکنا ہوگا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی صورت میں پنجاب کا جو حال کیا ہےوہ نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ‘پی ٹی آئی عبوری صوبہ سمیت کوئی بھی وعدہ کیے وہ سارے جھوٹ ثابت ہوئے، گلگت بلتستان کے لیے صوبے کا لالی پاپ ایسا ہی جیسے عمران خان نے جنوبی پنجاب کے لیے دیا تھا’.

بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے انتخابات سے قبل جنوبی پنجاب کو کہا تھا کہ 100 دن کے اندر صوبے کا درجہ دوں گا؟ لیکن اب بہاولپور کے لوگوں سے پوچھیں کہ اس صوبے کا کیا ہوا؟

انہوں نے کہا کہ حکومت مخالف اپوزیشن پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی صورت میں موجودہ حکومت کے مستقبل سے متعلق فیصلے طے ہورہے ہیں اور میں اس دوران آپ کو ایک دن بھی تنہا نہیں چھوڑوں گا اور 15 نومبر تک آپ کے درمیان رہوں گا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم، وفاقی حکومت، سلیکٹڈ نمائندے یا کسی بھی خلائی مخلوق کو ووٹ چوری کرنے نہیں دیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here