حکومت نے کالعدم تحریک کے ساڑھے 3 سو سے زائد کارکنان رہا کردیئے

 
0
84

اسلام آباد 25 اکتوبر 2021 (ٹی این ایس): بظاہر جی ٹی روڈ کے راستے دارالحکومت کی طرف مارچ کرنے والے پرتشدد مظاہرین کے سامنے ایک اور مرتبہ مکمل ہتھیار ڈالتے ہوئے وفاقی حکومت نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ساڑھے 3 سو سے زائد کارکنان کو رہا کردیا۔

ساتھ ہی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ دیگر کارکنان کے خلاف کیسز بدھ (27 اکتوبر) تک واپس لے لیے جائیں گے۔

وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ حکومت نے ٹی ایل پی رہنماؤں کو فورتھ شیڈول لسٹ پر نظرِ ثانی کرنے کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ ان کے زیر حراست سربراہ سعد رضوی کو رہا کرنے کے منصوبے پر کام کررہے ہیں۔

نیوز کانفرنس کے بعد وزیر داخلہ نے ایک ٹوئٹ کر کے بتایا کہ ’ہم نے ٹی ایل پی کے ساڑھے 3 سو کارکنان رہا کردیے ہیں اور ہم ٹی ایل پی کے ساتھ ہونے والے فیصلے کے مطابق مریدکے کی سڑک دونوں اطراف سے کھولے جانے کا انتظار کررہے ہیں۔

خیال رہے کہ ٹی ایل پی کے ساتھ مذاکرات کا ایک اور دور وزارت داخلہ (اسلام آباد) میں پیر کی (آج) صبح ہوگا۔

تاہم ٹی ایل پی شوریٰ کے رکن نے دعویٰ کیا کہ وزیر داخلہ نے وزیراعظم عمران خان کی واپسی تک کا وقت مانگا ہے جو کہ اس وقت سعودی عرب کا سرکاری دورہ کررہے ہیں۔

دوسری جانب وزیر داخلہ نے کہا کہ ’شاید لوگ کہیں گے ریاست جھک گئی ہے لیکن ریاست کا کام طاقت کا استعمال کرنا نہیں ہے بلکہ میرے نقطہ نظر کے مطابق مفاہمت کی راہ نکالنا ہے۔

ٹی ایل پی شوریٰ کے ایک رکن نے کہا کہ وہ حکومت کی تجویز سے اتفاق کرتے ہیں کہ وہ مریدکے میں دو دن تک قیام کریں اور انتظار کریں ، کیونکہ حکومت نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ٹی ایل پی کے سربراہ اور شوریٰ کے دیگر اراکین سمیت تمام گرفتار افراد کو رہا اور فورتھ شیڈول پر نظرِ ثانی کرے گی۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ نومبر 2020 میں تحریک کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر عمل کرے گی۔

ٹی ایل پی شوریٰ رکن کے مطابق رہائی کے بعد ان کی قیادت اور کارکن مریدکے میں مارچ کرنے والوں میں شامل ہوں گے اور ممکنہ طور پر لانگ مارچ کے خاتمے کے اپنے اگلے منصوبے کا اعلان کریں گے۔