اسلام آباد(ٹی این ایس) فارمی چوزہ افغانستان اسمگل ھونے کی وجہ وفاقی دارالحکومت اسلام اباد میں زندہ مرغی کے نرخ

 
0
22

 فارمی چوزہ افغانستان اسمگل ھونے کی وجہ وفاقی دارالحکومت اسلام اباد میں زندہ مرغی کے نرخ 550 روپے جبکہ اس کے گوشت کی قیمت 890 روپے فی کلو ہے وصول کی جارھی ھے۔ جبکہ پریشر والا گوشت بھی 7سو روپے فی کلو تک جا پہنچا۔ مرغی کی قیمت میں رمضان کے تیسرے عشرے سے اب تک لگ بھگ 130 روپے فی کلوسے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے۔ یاد رہے اسلام اباد میں آج سے تین ہفتے قبل زندہ چکن 420 روپے فی کلو میں فروحت ہو رہی تھی۔مقامی شہریوں کا کہنا تھا کہ ابھی کچھ عرصے پہلے تک 1500 کی دو مرغیاں وہ لے آئی تھیں مگر اس وقت زیادہ تر بڑی مرغیاں مارکیٹ میں ہیں اور قیمت میں اضافےاس قدر کے بعد ’بڑی چکن لینے کے لیے جیب کو بھاری اور حوصلہ کو بلند‘ کرنا ہو گا اسلام آباد اور اس کے مضافات میں گزشتہ چند دنوں سے فی کلوزندہ مرغی کی قیمت میں 100 روپے سے 130 روپے تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس نے بکرے اور گائے کے گوشت کو خریدنے کی استطاعت نہ رکھنے والے متوسط طبقے کواپنا مینو تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اب وہ سبزیاں اور دالیں تلاش کر رھے ھیں اگر جمرات اسلام آباد سمیت ملک بھر میں مرغی کے اڑان بھر رھے ھیں کراچی کی مارکیٹ میں ایک کلو کے وزن کی زندہ مرغی کی قیمت 580 روپے اور اس کا فی کلو گوشت 840 روپے میں فروخت ہوا۔پشاور میں ایک کلو وزن کی زندہ مرغی 530 روپے فی کلو، جبکہ لاہور میں گزشتہ روز اس کی قیمت 540 روپے تھی تاہم انتظامیہ کے عائد کردہ نرخوں سے اختلاف کرتے ہوئے بدھ کے روز لاہور میں پولٹری ایسو سی ایشن نے ہڑتال کر دی۔ جس سے مرغی مزید مہنگی ھونے کا امکان ھے
شہریوں نے بتایا کہ ’جب مرغی 800 روپے کلو لیں گے تو اس میں گردن۔ سری۔ کلیجی سب شامل ہوتے ہیں۔ اس میں سے بمشکل تین پاؤ گوشت نکلے گا اور بھرے پرے گھر میں سب کے حصے میں ایک ایک بوٹی ہی آئے گی۔ اور اگرچھوٹے بچوں کی حسب پسند بون لیس (ہڈی کے بغیر) کریں تو 800 میں کیا ہاتھ آئے گا؟ اس کو بیان کرنا مشکل ہے۔‘انھوں نے کہا کہ ’مہنگائی اتنی ہے کہ دعوتوں میں بھی بکرے کے بجائے چکن کی ڈشز بنائی جاتی ہیں لیکن یہی حال رہا تو سبزی دال سے بات آگے بڑھانا مشکل ہے۔‘
شہریوں نے کو یہ خدشہ بھی ہے کہ ’ابھی تو پیٹرول کی قیمت بڑھ گئی تو ایسے میں کیا ہی مرغی کی قیمت نیچے آسکے گی۔زرائع کا کہنا تھا کہ ’اس وقت ایک تو چوزے افغانستان برآمد کیے جا رہے ہیں اور دوسرا فارمی مرغیوں کی فیڈ کے اجزا پر پابندی ہے۔ جس کی وجہ سے چکن کی قیمت بڑھ گی ھے اگر بروقت کوئی منصوبہ بندی نہ کی گی تو مرغی کے نرخ لمبا جمپ لینگے ۔‘انھوں نے کہا کہ ’اس کے مستقل حل کے لیے سویا بین (جو کہ مرغیوں کی فیڈ کا لازمی جزو ہے) کو ملک میں اگایا جائے۔ فیڈ سستی ہو گی تو مستقل حل نکالا جا سکے گا۔ پولٹری فارم کے مقامی راھنماوں کا کہنا تھا کہ اس وقت سویا بین انڈیا اورارجنٹینا سے درآمد کیا جا رہا ہے۔ا ن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’کوشش ہے کہ چوزوں کو افغانستان برآمد کرنے پر پابندی لگ سکے تاکہ طلب و رسد میں توازن لایا جا سکے جبکہ دوسری جانب اسلام اباد کی ضلعی انتظامیہ بھی لکیر کی فقیر ھے پہلے سستا اٹا اور اب سستی روٹی کے پیچھے پڑے ھوئے دیگر ھر قسم کے مافیا کو ھف قسم کی من مانی کیلے کھلی چھٹی ملی ھے اسلام اباد کی ضلعی انتظامیہ بھنگ پی کر سو رھے ھیں زخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خور شہریوں کی کھال اتارنے میں لگے ھوئے ھیں