خانیوال (ٹی این ایس) خانیوال پولیس — جدید پولیسنگ کی جانب ایک اہم قدم

 
0
33

خانیوال (ٹی این ایس) خانیوال کی پُرعزم دھرتی پر محکمہ پولیس نے ایک ایسا قدم اُٹھایا ہے جو صرف ضلع نہیں بلکہ پورے پنجاب کے پولیس سسٹم کے لیے مثال بن سکتا ہے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خانیوال اسماعیل کھاڑک نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کے وژن اور آئی جی پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور کی ہدایات کے مطابق خواتین پولیس اہلکاروں کے لیے جدید کمپیوٹر کورس کا آغاز کیا ہے — ایک ایسا قدم جو بظاہر تربیت کا معمولی مرحلہ لگتا ہے مگر درحقیقت پولیسنگ کے ایک نئے دور کی شروعات ہے۔

اسماعیل کھاڑک نے کورس کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ ’’خواتین پولیس اہلکار ہماری فورس کا اہم اور باصلاحیت حصہ ہیں۔ جدید دور میں پولیسنگ اب صرف وردی اور اسلحہ تک محدود نہیں رہی، بلکہ ٹیکنالوجی، ڈیٹا، تجزیہ اور ڈیجیٹل مہارتیں بھی اتنی ہی ضروری ہیں جتنی جسمانی تربیت۔‘‘ ان کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب اور آئی جی پولیس کا وژن یہی ہے کہ پولیس فورس کو جدید علوم اور سائنسی اوزاروں سے لیس کیا جائے تاکہ وہ نہ صرف جرائم پر قابو پائے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی بحال کرے۔

یہ کورس خانیوال کے مختلف تھانوں میں تعینات لیڈیز کنسٹیبلز کے لیے ترتیب دیا گیا، جس میں پولیس اسٹیشن اسسٹنٹس (PSA) اور سینئر اسٹیشن اسسٹنٹس (SSA) نے انہیں کمپیوٹر آپریٹنگ، مائیکروسافٹ آفس، انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال، ڈیجیٹل ڈاکومنٹیشن اور ڈیٹا انٹری جیسے عملی علوم سکھائے۔ مقصد یہ تھا کہ لیڈیز اہلکار نہ صرف کاغذی کارروائیوں سے نکل کر ڈیجیٹل ماحول میں قدم رکھیں بلکہ فیلڈ ورک، رپورٹس، اور شواہد کے ریکارڈ میں درستگی و رفتار پیدا کر سکیں۔

دورِ حاضر میں پولیسنگ کا بنیادی چیلنج صرف مجرموں کو پکڑنا نہیں بلکہ ڈیٹا مینجمنٹ، جرم کی پیشگی نشاندہی اور سمارٹ انویسٹی گیشن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے اپنی پولیس فورسز کو ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ برطانیہ، جاپان، امریکہ اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک میں پولیس اہلکار مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے جرائم کا تجزیہ کرتے ہیں۔ نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ (NYPD) نے ’’پریڈکٹیو پولیسنگ‘‘ کا نظام متعارف کرایا، جس کے تحت کمپیوٹر الگورتھم اندازہ لگاتا ہے کہ جرم کب اور کہاں ممکن ہے۔ اسی طرح جاپان میں پولیس اہلکاروں کو ’’ڈیجیٹل ایویڈنس پروسیسنگ‘‘ کی تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ موبائل ڈیٹا، سی سی ٹی وی فوٹیجز اور انٹرنیٹ ٹریسز کو موثر انداز میں استعمال کر سکیں۔

خانیوال پولیس کا یہ اقدام انہی عالمی ماڈلز کی سمت ایک مثبت قدم ہے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پولیسنگ میں خواتین کا کردار صرف سکیورٹی تک محدود نہیں رہا — اب وہ تحقیقاتی ٹیموں، سوشل میڈیا مانیٹرنگ یونٹس اور ڈیجیٹل رپورٹنگ سیلز میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اس کورس کے ذریعے خانیوال کی لیڈیز کنسٹیبلز اب ڈیجیٹل ریکارڈ سسٹم، ای-کرائم پورٹل، اور پولیس انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم (PIMS) کو سمجھنے اور استعمال کرنے کے قابل بن رہی ہیں۔ اس کا براہِ راست فائدہ جرائم کے خاتمے، شفافیت اور عوامی سہولت کی شکل میں سامنے آئے گا۔

ڈی پی او اسماعیل کھاڑک کے مطابق، ’’جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پولیس کو ردعمل سے زیادہ پیشگی عمل کرنے کے قابل بناتا ہے۔‘‘ مثال کے طور پر، اگر کوئی علاقہ مسلسل چوری یا فراڈ کا شکار ہو تو ڈیجیٹل ریکارڈنگ سسٹم اور ڈیٹا اینالیسز کے ذریعے فورس وہاں فوری طور پر تعینات کی جا سکتی ہے۔ مزید یہ کہ خواتین اہلکاروں کی تربیت سے خواتین متاثرین کے کیسز کو بہتر انداز میں ہینڈل کیا جا سکے گا، کیونکہ اب وہ نہ صرف تفتیشی سطح پر بلکہ ڈیجیٹل ثبوتوں کی جانچ میں بھی مہارت حاصل کر رہی ہیں۔

یہ تربیت دراصل سائنس، ٹیکنالوجی اور قانون کے امتزاج کا ایک عملی مظہر ہے۔ پولیس کے لیے اب سائنسی علوم محض کتابی مضامین نہیں بلکہ ایک عملی ہتھیار ہیں۔ فنگر پرنٹ اسکیننگ، بائیو میٹرک ڈیٹا، جینیاتی تجزیے (DNA Profiling) اور سائبر فورینزک کے شعبے اب کسی ترقی یافتہ ملک کی اجارہ داری نہیں رہے۔ خانیوال پولیس جیسے اضلاع میں بھی یہ علوم بتدریج متعارف ہو رہے ہیں، جو مقامی پولیسنگ کو عالمی معیار کے قریب لا رہے ہیں۔

پولیس اصلاحات کی اصل روح یہی ہے کہ فورس کو ’’ڈیجیٹل شہری‘‘ بنایا جائے — ایسا شہری جو قانون کے نفاذ کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل انصاف کا ضامن ہو۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا ویژن بھی یہی ہے کہ پنجاب پولیس کو ایک جدید، تربیت یافتہ اور بااخلاق فورس بنایا جائے جو عوام کے ساتھ رابطے میں بھی جدید ٹولز استعمال کرے۔ یہی وژن ڈی پی او اسماعیل کھاڑک جیسے افسروں کے ذریعے زمینی سطح پر حقیقت بن رہا ہے۔

جرائم کے خاتمے میں اس طرح کے تربیتی پروگرام دو بنیادی سطحوں پر مدد دیتے ہیں۔
پہلی سطح پر — یہ پولیس کے انتظامی ڈھانچے کو تیز رفتار اور شفاف بناتے ہیں۔
دوسری سطح پر — یہ عوام کے اعتماد اور تعاون کو بڑھاتے ہیں، کیونکہ جب شہری دیکھتے ہیں کہ پولیس اہلکار جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں اور ان کی شکایات کو ڈیجیٹل ریکارڈ پر سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، تو وہ پولیس سے تعاون کرنے لگتے ہیں۔

دنیا کے بیشتر ممالک میں جرائم میں کمی کی ایک بڑی وجہ یہی ٹیکنالوجی پر مبنی شفاف نظام ہے۔ سنگاپور، ناروے اور کینیڈا جیسے ملکوں میں ڈیجیٹل پولیسنگ کے باعث نہ صرف رپورٹنگ کے اوقات کم ہوئے ہیں بلکہ انصاف کے عمل میں بھی تیزی آئی ہے۔ پاکستان میں اگر یہ سلسلہ اسی تسلسل سے جاری رہا تو مستقبل میں پولیس کا کردار ایک ’’ڈیجیٹل گارڈین‘‘ کی صورت میں سامنے آئے گا — جو صرف گلیوں کی نگرانی نہیں بلکہ ڈیٹا کے ذریعے مجرموں کی حرکات کا بھی سراغ لگائے گا۔

خانیوال پولیس کی یہ پہل اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس نے تبدیلی کی بنیاد خواتین اہلکاروں سے رکھی ہے۔ کیونکہ جب خواتین پولیس جدید علوم میں مہارت حاصل کرتی ہیں تو وہ نہ صرف خود مختار بنتی ہیں بلکہ پوری فورس میں ایک مثبت توانائی پیدا کرتی ہیں۔ مستقبل میں یہ اہلکار تربیت کے اس تجربے کو دوسرے ساتھیوں تک منتقل کریں گی — یوں خانیوال سے شروع ہونے والی یہ شعور کی لہر پورے پنجاب تک پھیل سکتی ہے۔

آخر میں یہی کہنا مناسب ہوگا کہ یہ کورس ایک اختتام نہیں بلکہ ایک آغاز ہے۔ ڈی پی او اسماعیل کھاڑک نے بجا طور پر کہا کہ “ہماری خواتین اہلکاروں کو علم، ہنر اور ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنا پولیسنگ کے نئے باب کا آغاز ہے۔” یہ وہ سمت ہے جس میں دنیا پہلے ہی بڑھ چکی ہے، اور اب خانیوال پولیس بھی اسی صف میں شامل ہو چکی ہے۔

یہ اقدام نہ صرف پنجاب پولیس بلکہ پورے پاکستان کے امن و انصاف کے نظام کے لیے امید کی کرن ہے — ایک ایسا نظام جہاں علم، نظم اور ٹیکنالوجی ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر شہریوں کے اطمینان اور جرائم کے خاتمے کی ضمانت بنیں گے۔