اسلام آباد (ٹی این ایس) جسٹس محسن اختر کیانی کا پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز سے متعلق بڑا حکم

 
0
6

اسلام آباد (ٹی این ایس) : اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ہائیکورٹ کے پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز کو 48 گھنٹوں کے اندر عدالت کی سرکاری ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ ان رولز کی کاپیاں اسلام آباد ہائی کورٹ اور تمام ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز کو بھی فراہم کی جائیں۔

یہ حکم پی ٹی سی ایل کی درخواست پر سماعت کے دوران جاری کیا گیا۔ دورانِ سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے وکیلِ درخواست گزار سے پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز سے متعلق استفسار کیا جس پر وکیل نے رولز کی تفصیلات سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ رولز کے حصول کے لیے درخواست دے رہے ہیں۔
اس موقع پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ “ہم نے وہ ہائی کورٹ رولز بنائے جو ہمیں خود بھی دستیاب نہیں، میں جج ہوں مجھے بھی نہیں ملے تو آپ کو کیسے ملیں گے۔”

جسٹس محسن اختر کیانی نے مزید کہا کہ فل کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز منظور کیے لیکن انہیں عوام کے لیے جاری نہیں کیا گیا اور یہ ایک طرح سے سیکریٹ ڈاکومنٹ بن چکے ہیں۔
عدالت میں مکالمے کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ رجسٹرار کو رولز فراہم کرنے کے لیے تحریری درخواست دے دیں۔ وکیلِ درخواست گزار نے بتایا کہ وہ وزارتِ قانون کو درخواست لکھیں گے، جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ایسی درخواستوں پر تین تین ماہ لگ جاتے ہیں اور رجسٹرار کے پاس موجود دستاویزات بھی بروقت فراہم نہیں کی جاتیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے واضح کیا کہ 48 گھنٹوں میں پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کی ہدایت جاری کی جا چکی ہے اور اگر حکم پر عمل نہ ہوا تو فوجداری کارروائی کی درخواست دائر کی جا سکتی ہے، جس پر رجسٹرار کو طلب کر لیا جائے گا۔

بعد ازاں وکیلِ درخواست گزار نے کیس کی سماعت 29 جنوری کو مقرر کرنے کی استدعا کی، تاہم جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ انہیں معلوم نہیں کہ وہ اس تاریخ کو عدالت میں موجود ہوں گے یا نہیں۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔