اسلام آباد (ٹی این ایس) قومی اقتصادی منصوبہ” اڑان پاکستان” انقلابی پروگرام

 
0
6

اسلام آباد (ٹی این ایس) قومی اقتصادی منصوبہ” اڑان پاکستان” انقلابی پروگرام ہے جو(فائیو ایز)کے تحت پاکستان کو مضبوط، مستحکم اور خوشحال بنانے کی حکمت عملی فراہم کرتا ہے۔ ”اڑان پاکستان” قومی ترقی کا ایک جامع اور متوازن پروگرام ہےامیدہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں مقرر کردہ اہداف پورے ہوں گے، پاکستان بے پناہ وسائل سے مالا مال باصلاحیت ملک ہے ، یکسو اور متحد ہو کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ، وہ دن دور نہیں جب پاکستان عالمی معیشتوں کی صف میں کھڑا ہو گاوزیراعظم نے ملک کی پائیدار ترقی کے حامل پانچ سالہ قومی اقتصادی منصوبہ “اڑان پاکستان” کا افتتاح گزشتہ سال کیا منصوبہ کا مقصد برآمدات،

ای پاکستان، ماحولیات، توانائی، برابری و بااختیار بنانے (فائیو ایز)کی پائیدار بنیاد پر برآمدات کے فروغ کے ذریعے اقتصادی ترقی کا حصول ہے ا ڑان پاکستان کی دستاویز کے مطابق 2029 تک جی ڈی پی کی شرح کو 6 فیصد تک لے جانے، فی کس آمدنی کو 2405 ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، 2029 تک کرنٹ اکاؤنٹ جی ڈی پی کا 1.2 فیصد سرپلس بنانے،2029 تک آئی ٹی برآمدات 10 ارب ڈالر بڑھانے، سرمایہ کاری کو جی ڈی پی کے 17 فیصد تک لے جانے، برآمدات کو 63 ارب ڈالر تک بڑھانے اور ترسیلات زر 39.8 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔دستاویز کے مطابق 2029 تک ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 13.5 فیصد تک لے جانے، سرکاری قرضوں کو جی ڈی پی کے 60 فیصد تک رکھنے اور تعلیم پر جی ڈی پی کا 4 فیصد خرچ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے, آئی ٹی برآمدات کو 10 ارب ڈالر تک لے جانے، پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 23.54 مکعب ملین فٹ تک بڑھانے اور پانی استعمال کرنے کی صلاحیت 40 فیصد سے بڑھا کر 70 فیصد، 100 فیصد آبادی کو پینے کیلئے بہتر پانی فراہم کرنے، 2029 تک الیکٹرک گاڑیوں کو 25 فیصد تک بڑھایا جائے گا، غربت کی شرح 21.4 فیصد سے کم کر کے 12 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔2029 تک پرائمری سکولز میں داخلے کی شرح 64 فیصد سے بڑھا کر 72 فیصد کرنے اور ٹوائلٹ کی سہولت کو 68 فیصد سے بڑھا کر 80 فیصد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اس پروگرام کا مقصد 2035 تک پاکستان کی معیشت کو 1 کھرب ڈالر اور 2047 تک 3 کھرب ڈالر تک پہنچانا ہے۔یہ پروگرام پانچ اہم ستونوں پر مبنی ہے:برآمدات ای?پاکستان ,ماحولیاتی تحفظ ،توانائی و انفراسٹرکچر مساوات، اخلاقیات و اختیار ہیں سالانہ برآمدات کو $60 بلین تک لے جانا ہے ،آئی ٹی، زراعت، تخلیقی صنعت، معدنیات، اور بلیو اکانومی کو فروغ دینا ہے ،آئی سی ٹی فری لانسنگ انڈسٹری کو $5 بلین تک لے جانا،سالانہ 200,000 آئی ٹی گریجویٹس تیار کرنا۔پہلا پاکستانی اسٹارٹ اپ یونیکورن تخلیق کرنا۔100 ملین موبائل سبسکرائبرز تک رسائی حاصل کرنا ،آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور سائبر سیکیورٹی کی صلاحیت کو بہتر بنانا اس کے مقاصد ہیں ،اہم اہداف میں گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں 50% کمی،پانی کے ذخائر کو 10 ملین ایکڑ فٹ تک بڑھانا۔قابلِ کاشت زمین میں 20.3 ملین ایکڑ کا اضافہ۔جنگلات کی بحالی اور ماحولیاتی آفات کے خلاف مزاحمتی انفراسٹرکچر کا فروغ شا مل ہیں, پروگرام کے تحت قابلِ تجدید توانائی کا حصہ 10% تک بڑھانا ،سرکلر ڈیٹ میں کمی اور توانائی کے نظام کو بہتر بنانا ،ریلوے کی مسافروں میں حصہ داری کو 5% سے 15% اور مال برداری میں 8% سے 25% تک لے جانا۔علاقائی رابطوں کو فروغ دینا شامل ہے۔یونیورسل ہیلتھ کوریج انڈیکس میں 12% اضافہ ،شرح خواندگی کو 10% تک بڑھانا اس کے مقاصد ہیں وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ “اڑان پاکستان” اقتصادی نمو اور اقوام عالم میں کھوئے ہوئے مقام کے حصول کے لیے ایک بڑے سفر اور نئی صبح کا آغازہے، کامیابی کیلئے قومی یکجہتی اور ہم آہنگی ناگزیر ہے، وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے اڑان پاکستان کو پائیدار اقتصادی ترقی کے حصول کی جانب ایک ‘انقلابی’ قدم قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ موجود ہ حکومت نےمعاشی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مؤثر , فوری اقدامات کیے ہیں ملک کو خوشحال اور معاشی طور پر مضبوط بنانے کے لیے مسلسل بنیادوں پر طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کی حکومت نے اپنے گزشتہ ادوار میں ویزن 2010 اور ویزن 2025 کا آغاز کیا تھا لیکن سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ان پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکالیکن اب حکومت نے ایک بار پھر پانچ سالہ منصوبہ تیار کیا ہے جو پائیدار اقتصادی ترقی کی بنیاد ثابت ہو گا۔انہوں نے امید کا اظہار کیاہے کہ قومی اقتصادی منصوبے کے ثمرات عام آدمی تک پہنچائے جائیں گے اور بہتر تعلیم، صحت، روزگار اور کاروبار کے مواقع میں اضافہ ہو گا “اڑان پاکستان” پروگرام کے تحت2028تک جی ڈی پی کی شرح کو 6 فیصد کرنے،سالانہ 10لاکھ اضافی ملازمتیں پیداکرنے اور 60 ارب ڈالرکی برآمدات ہمارامطمع نظرہے، برآمدات پرمبنی نمو اورنجی شعبہ کی قیادت میں پائیدار نمو “اڑان پاکستان” پروگرام کے اہم ترین نکات ہیں، ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے عمل کومکمل کرکے آگے بڑھیں گے۔ ڈیفالٹ رسک میں 93فیصدکمی آئی ہے اوراس کی وجہ سے پاکستان کی ساورن ریٹنگ میں بہتری آئی ہے۔معیشت کے استحکام کے بعدہمیں جوبنیادیں ملی ہیں ہم نے اس کوآگے لیکربرآمدات پرمبنی پائیدارگروتھ کی طرف لیکرجاناہے، ماضی میں گروتھ کے ساتھ ادائیگیوں کے توازن کا مسئلہ ہمیں پیش آتارہاہے، اس مرتبہ ہم ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے عمل کومکمل کرکے آگے بڑھیں گے اس پروگرام کا مقصد 2035تک پاکستان کی معیشت کو 1 کھرب ڈالر اور 2047 تک 3 کھرب ڈالر تک پہنچانا ہے۔یہ پروگرام پانچ اہم ستونوں پر مبنی ہے جن میں برآمدات ،. ای-پاکستان ، ماحولیاتی تحفظ ، توانائی و انفراسٹرکچر ، مساوات، اخلاقیات و اختیارشامل ہیں۔ 5Es فریم ورک کے تحت اہم اہداف میں برآمدات: ترقی کی بنیاد منصوبہ: پاکستان کو برآمدات پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنا، سالانہ برآمدات کو 60 بلین ڈالر تک لے جانا۔ ، آئی ٹی، زراعت، تخلیقی صنعت، معدنیات، اور بلیو اکانومی کو فروغ دینا، “Made in Pakistan” کو اعتماد کا نشان بنانا، روپے کو مستحکم کرنا، درآمدات پر انحصار کم کر نا، مستقل ترقی کی راہ ہموار کرنا، ای-پاکستان: ٹیکنالوجی کی طاقت کا استعمال منصوبہ: ڈیجیٹل انقلاب کے ذریعے معیشت میں تبدیلی لانا۔ شامل ہیں۔ آئی سی ٹی فری لانسنگ انڈسٹری کو 5 ارب ڈالر تک لے جانا، سالانہ 200,000 آئی ٹی گریجویٹس تیار کرنا، پہلا پاکستانی اسٹارٹ اپ یونیکورن تخلیق کرنا، 100 ملین موبائل سبسکرائبرز تک رسائی حاصل کرنا ، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور سائبر سیکیورٹی کی صلاحیت کو بہتر بنانا، نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع، پاکستان کو عالمی ٹیکنالوجی کے مرکز کے طور پر تیار کرنا بھی شامل ہے۔حکومت نے ملک کی خام ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح 9.8 فیصد تک لے جانے، خواندگی کی شرح 70 فیصد تک بڑھانے اور غربت میں 13 فیصد تک کمی لانے کے لیے ”اُڑان پاکستان“ کے نام سے نیشنل اکنامک ٹرانسفارمیشن پلان متعارف کروایا ہے, رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کے اِس منظور کردہ پلان کے تحت آئندہ پانچ سال کے دوران مذکورہ اہداف کے علاوہ 2035ء تک پاکستانی معیشت کا حجم ایک ٹریلین ڈالر تک لے جانے کی کوشش کی جائے گی۔ اِس کا مقصد پاکستان کو پائیدار بلند معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔ یہ منصوبہ برآمدات میں مطلوبہ اضافے اور ریلوے کے ایم ایل ون منصوبے کی تکمیل کے علاوہ ”فائیو ایز“ فریم ورک یعنی انفراسٹرکچر، ایکویٹی، ایتھکس، امپاورمنٹ (لوگوں کو بااختیار بنانا) اور انوائرمنٹ (ماحولیات) کی بہتری جیسی ترجیحات پر مشتمل ہو گا۔دوسری جانب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہےکہ پائیدار ترقی کیلئے معاشی استحکام ناگزیر ہے،، ملک میں میکرواکنامک استحکام آچکا ہے، مہنگائی 38 فیصد سے سنگل ڈیجٹ پر آگئی ہے، ہوم گرون نیشنل اکنامک پلان کے اجرا پر بے حد خوشی ہوئی۔ پاکستان نے مالی سال میں سرپلس 24 سال بعد حاصل کیا، افراط زر 38 فیصد کم ہو کر 5 فیصد، پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر 13 فیصد پر آگیا ہے، مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے، پاکستان کی سٹاک مارکیٹ نے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ کائبور اس وقت 12 فیصد کے قریب ہے، ہم نے مزید گروتھ کی طرف جانا ہے، ڈیفالٹ ریٹ میں 93 فیصد کمی ہونا بڑی کامیابی ہے، ہم نے وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں مزید استحکام کی جانب جانا ہے، پائیدار ترقی کیلئے معاشی استحکام ناگزیر ہے ایس آئی ایف سی کی کاوشیں سرمایہ کاری کیلئے اہم ہیں، قومی اقتصادی پلان کے ذریعے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی اور سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا ہے، ہم منصوبہ بندی سے نکل کر عملی معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہیں، 1991 میں نوازشریف نے معاشی ترقی کا ایجنڈا دیا جس کو اب دوبارہ شروع کرنا ہے، ہماری ترجیح سستی توانائی اور برآمدات کا فروغ ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ قرض واجبات میں نمایاں کمی ہوئی، سماجی شعبے کی ترقی کیلئے زیادہ فنڈز دستیاب ہوں گے، نجکاری کے عمل میں تیزی لائی جارہی ہے، پاکستان درآمدی معیشت رہی ہے، ہمیں نمو کی طرف جانا ہے، وفاقی وزیر خزانہ اورنگزیب کا کہنا ہےکہ ملکی معیشت پائیدار اقتصادی ترقی کی جانب گامزن ہے، حالیہ برسوں میں معاشی چیلنجوں کا سامنا رہا ہے تاہم اُن مسائل کو حل کر لیا گیا ہے

، اب ہم میکرو اکنامک استحکام کی طرف صحیح سمت میں بڑھ رہے ہیں حکومت شرعی اصولوں کے مطابق مالیاتی نظام کو تبدیل کرنے کے لیے پُرعزم ہے، پاکستان اسلامک فنانس کے ایک اہم عالمی مرکز کے طور پر اُبھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں 56 فیصد مارکیٹ کیپٹلائزیشن سیکیورٹیز، سرمایہ کاری کے شعبے میں میوچل فنڈز کے زیر انتظام 48 فیصد اثاثے، رضاکارانہ پنشن فنڈز کے انتظام کے تحت 66 فیصد فنڈز اور رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ (آر ای آئی ٹی) میں 95 فیصد اثاثے شریعت کے مطابق ہیں۔ملکی معیشت میں بہتری کے اثار نظر آ رہے ہیں، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی آئی ہے، ملک میں مہنگائی کی شرح 78 ماہ کی کم ترین 4.9 فیصد کی سطح پر آ گئی، ملکی آمدن میں اضافہ ہورہا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر دو ہفتے کی ضروریات سے بڑھ کر اب ڈھائی ماہ کی درآمدی ضروریات پورا کر سکتے ہیں، شرح سود 13 فیصد سے نیچے آ چکی ہے اور اِس کے جلد یک عددی (سنگل ڈیجٹ) سطح تک کم ہونے کے بھی قوی امکانات موجود ہیں جبکہ رواں مالی سال کے دوران ترسیلاتِ زر 34 فیصد اضافے سے 14.76 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 11 ارب ڈالر تھیں۔ حکومت اگرچہ پُراُمید ہے کہ معیشت کی حالیہ بہتری سے محاصل کے اہداف پورے کرنے میں مدد ملے گی ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے مالی سال 2025ء کے لیے پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو کے تخمینے پر نظرِثانی کرتے ہوئے اِسے 2.8 فیصد سے بڑھا کر تین فیصد کر دیا ہے جبکہ رواں مالی سال کے دوران افراطِ زر 15 فیصد رہنے کی پیشگوئی کو 10 فیصد تک کم کردیا ہے۔ معاشی بہتری کے مد ِ نظر ہی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے، سٹاک مارکیٹ نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے، اِس کا 100 شیئر انڈیکس ایک لاکھ 87ہزار سے زائد پوائنٹس کی سطح پر ہے، اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے بدھ کو اکتوبر اور نومبر 2024ء کے دوران ملک بھر میں کیے گئے جامع بزنس کانفیڈنس انڈیکس کے نتائج کا اعلان کیا جن کے مطابق پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نو فیصد کی نمایاں بہتری آئی ہے، کاروباری اعتماد کا انڈیکس اگرچہ بدستور منفی پانچ پوائنٹس کی سطح پر ہے تاہم گزشتہ سروے کے منفی 14 مقابلے میں صرف دو ماہ کی قلیل مدت میں اِس میں کافی بہتری آ چکی ہے۔ایک پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے موقف اختیار کیا نے موقف اختیار کیا کہ ملکی معیشت استحکام اور ترقی کی جانب مسلسل گامزن ہے اور بین الاقوامی مالی ادارے بھی اس بات کا اعتراف کررہے ہیں کہ استحکام حاصل کرلیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دونوں وزراء کی جانب سے بتائے گئے معاشی اشاریے استحکام اور نمو کی علامت ہیں۔ 2 جنوری 2026 تک پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 16,055.7 ملین (16 ارب) ڈالر کی بلند سطح پر پہنچ چکے ہیں، جو کہ 21 جنوری 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہیں۔ اس وقت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود ذخائر بڑھ کر 16,190.1 ملین ڈالر ہو گئے تھے۔ تاہم، ان ذخائر کا بڑا حصہ تین دوست ممالک (چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات) کی جانب سے فراہم کردہ 12 ارب ڈالر سے زائد کے رول اوورز (قرض کی واپسی کی مدت میں توسیع) پر مشتمل ہے۔ بقیہ رقم کثیر الجہتی اداروں (بشمول بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے جاری 36 ماہ کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام) اور دیگر دو طرفہ قرضوں سے حاصل ہوئی ہے۔ اس کے باوجود، امدادی ادارے عام طور پر ذخائر میں اس اضافے کو معاشی استحکام کی علامت سمجھتے ہیں، کیونکہ ان کے اپنے قرضہ پروگرام بھی ان ذخائر کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ سال 3 بڑے عالمی ریٹنگ ایجنسیوں میں سے دو نے پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری کی۔ ریٹنگ میں اس طرح کا اضافہ عام طور پر آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ بننے سے جڑا ہوتا ہے کیونکہ اس سے حکام کے ساتھ طے شدہ اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کے حوالے سے ایک اطمینان بخش صورتحال پیدا ہوتی ہے جس کے نتیجے میں ملک کے ڈیفالٹ کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ کسی بھی ریٹنگ ایجنسی نے پاکستان کو انویسٹمنٹ کیٹیگری (سرمایہ کاری کے لیے محفوظ درجہ) میں شامل نہیں کیا جو پاکستان نے اپنی پوری تاریخ میں کبھی حاصل نہیں کیا بلکہ ملک کو سپیکولیٹیو گریڈ’ (غیر یقینی یا جوکھم والا درجہ) میں ہی برقرار رکھا گیا ہے۔ یہ درجہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہاں سرمایہ کاری میں خطرہ زیادہ ہے جس کی وجہ سے بیرونِ ملک کمرشل بینکنگ سیکٹر سے قرض لینے کی لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس حوالے سے دو مشاہدات انتہائی اہم ہیں۔ پہلا مشاہدہ یہ ہے کہ اگر ملک آئی ایم ایف پروگرام میں نہیں رہتا یعنی اگر آئی ایم ایف طے شدہ شرائط پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے اگلی قسط جاری کرنے کی منظوری نہیں دیتا، یا حکومت اس پروگرام کو درمیان میں ہی چھوڑ دیتی ہےتو ایسی صورت میں دوست ممالک کی جانب سے اگلے مالی سال کے لیے قرضوں کے ’رول اوورز‘ (ادائیگی میں توسیع) ملنے کا امکان نہیں ہے۔ دوسرا جولائی تا نومبر 2025 کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری کم ہو کر 313.7 ملین ڈالر رہی (جس میں 927.4 ملین ڈالر براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور منفی 613.8 ملین ڈالر پورٹ فولیو سرمایہ کاری شامل ہے) جبکہ پچھلے مالی سال کے اسی عرصے میں یہ رقم 1,391.1 ملین ڈالر تھی (جس میں 1,242.4 ملین ڈالر براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور 148.7 ملین ڈالر پورٹ فولیو سرمایہ کاری شامل تھی)۔ موجودہ مالی سال (جولائی تا دسمبر 2025) کے ہر مہینے میں ترسیلاتِ زر گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں بہتر رہی ہیں، مجموعی طور پر 19.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں تاہم اس میں موجودہ سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران ہونے والے تجارتی خسارے میں اضافے کو مدنظر نہیں رکھا گیا جو کہ 19,204 ملین ڈالر رہا جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ خسارہ 14,271 ملین ڈالر تھا۔ دوسرے لفظوں میں ترسیلاتِ زر میں ہونے والا تمام فائدہ تجارتی خسارے میں اضافے کی نظر ہو گیا (یعنی اس نے اضافی خسارے کو جذب کر لیا)۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ ایک دو برسوں میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرحِ نمو میں اضافہ ہوا ہے

 

لیکن انتہائی سکڑاؤ والی مانیٹری پالیسی کے نفاذ اور فسکل پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ شرحِ نمو پیداوار میں حقیقی اضافے کے بجائے گزشتہ برسوں کی کم سطح کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔ مانیٹری پالیسی کے تحت اگرچہ ڈسکاؤنٹ ریٹ 22 فیصد سے نصف سے بھی کم کر کے 10.5 فیصد کر دیا گیا ہے، لیکن یہ اب بھی 5 سے 6 فیصد کی علاقائی اوسط سے زیادہ ہے، جس کی وجہ سے بڑے پیمانے کی صنعت کی کارکردگی مسلسل خراب رہی ہے۔ دوسری جانب فسکل پالیسی میں آڈٹ پر زیادہ توجہ کی وجہ سے بہت سے ٹیکس گزار قانونی چارہ جوئی پر مجبور ہیں اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ساتھ ان کے مذاکرات جاری ہیں۔ اس سال سیلاب نے زرعی شعبے کی نمو متاثر کی ہے مہنگائی ان 93 فیصد افراد کے لیے بدستور تشویش کا باعث ہے جو نجی شعبے سے وابستہ ہیں، کیونکہ گزشتہ چھ سے سات سال سے ان کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا جو معیشت کی پست حالی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے برعکس، ریاست کے ملازم ان 7 فیصد افراد کو اس صورتحال کا سامنا نہیں ہے کیونکہ حکومت ہر سال ان کی تنخواہوں میں افراطِ زر (مہنگائی) کی شرح سے بھی زیادہ اضافہ کرتی رہی ہے۔ یہ وقت خود اطمینانی یا مگن رہنے کا نہیں ہے اور کوئی بھی شخص کابینہ کے ارکان سے محض ان کامیابیوں کی رٹ لگانے کے بجائے جو عام جنتا کو نہ تو نظر آرہی ہیں اور نہ ہی ان کا تجربہ ہو رہا ہے موجودہ ملکی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے اس وقت اشاریے مثبت ہیں۔ سیاسی و معاشی استحکام اور جیوپولیٹیکل صورتحال قدرے بہتر ہو رہی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی مہنگائی اب قابو میں ہے۔ ڈالر میں اضافہ بھی رک گیا ہے، سٹاک مارکیٹ نئے ریکارڈ بنا رہی ہے جو معاشی حوالے سے مثبت ہے، اس سب کا کریڈٹ حکومت کو جاتا ہے اڑان پاکستان اچھا برانڈ نیم ہے۔یہ 13واں پانچ سالہ پلان ہے۔ اس میں 5E’s رکھے گئے ہیں جن میں اکانومی، ایکسپورٹ، انوائرمنٹ و دیگر شامل ہیں۔
حکومت کی جانب سے ایکسپورٹ کو 60 بلین تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے،