واشنگٹن (ٹی این ایس) (شاہ خالد خان ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی تجارتی ٹیرف کے معاملے پر سپریم کورٹ کو شدید انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عدالت نے ان کے عائد کردہ محصولات کو کالعدم قرار دیا تو امریکا کو سیکڑوں ارب ڈالر کی ادائیگیاں واپس کرنا پڑیں گی، جو کہ ملک کی معیشت کے لیے ایک سنگین بحران کا باعث بن سکتی ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بیان سوشل میڈیا پر ایک طویل پوسٹ میں دیا، جہاں انہوں نے اس صورت حال کو “مکمل افراتفری” قرار دیا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اگر ٹیرف کے خلاف آیا تو یہ نہ صرف قومی سلامتی سے جڑے معاملات کو متاثر کرے گا بلکہ امریکا کو شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ “اگر فیصلہ ہمارے خلاف آیا تو ہم بری طرح پھنس جائیں گے۔ ادائیگیاں تقریباً ناممکن ہو جائیں گی، اور اتنی بڑی رقم کا حساب کتاب کرنے میں بھی برسوں لگ سکتے ہیں۔ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ یہ مسئلہ آسانی سے حل ہو جائے گا، وہ شدید غلط فہمی کا شکار ہے۔”
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سپریم کورٹ کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کے وسیع عالمی ٹیرف نظام کی قانونی حیثیت پر فیصلہ متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق، یہ فیصلہ آج بدھ کے روز سنایا جا سکتا ہے۔ یہ کیس ٹرمپ کی متنازع معاشی پالیسیوں اور صدارتی اختیارات کے حوالے سے ایک اہم قانونی امتحان سمجھا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال اپریل میں اعلان کیے گئے ان ٹیرف نے امریکا میں درآمد ہونے والی اشیا پر اضافی محصولات عائد کیے تھے، جن کا مقصد ملکی صنعتوں کو تحفظ فراہم کرنا اور تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا۔ تاہم، یہ اقدامات چھوٹے کاروباری اداروں اور امریکا کی 12 ریاستوں کی جانب سے چیلنج کیے گئے ہیں۔ مدعیوں کا موقف ہے کہ صدر ٹرمپ نے ان محصولات کو عائد کر کے اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے نومبر میں اس کیس کی سماعت کے دوران ٹرمپ انتظامیہ کی قانونی بنیاد پر شدید شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا۔ ججوں نے صدر کے ٹیرف عائد کرنے کے اختیار پر متعدد سوالات اٹھائے، خاص طور پر یہ کہ آیا یہ اقدامات قومی سلامتی کی بنیاد پر جائز ہیں یا نہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ ٹیرف امریکا کی اقتصادی اور قومی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہیں، جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی تجارت کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں مزید تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے کے بعد ٹیرف کو واپس لینا انتہائی پیچیدہ ہو جائے گا، کیونکہ متاثرہ کاروباری ادارے اور ممالک رقوم کی واپسی (ریفنڈ) کے دعوے پیش کر سکتے ہیں۔ ان کے بقول، “یہ جاننے میں کئی سال لگ جائیں گے کہ ہم کس رقم کی بات کر رہے ہیں، اور حتیٰ کہ یہ بھی کہ کس کو، کب اور کہاں ادائیگی کرنی ہے۔ یہ ایک ایسا بحران ہو گا جو امریکا کی معاشی استحکام کو جڑ سے ہلا دے گا۔”
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیا تو اس کے اثرات عالمی تجارت پر بھی پڑیں گے۔ امریکا کے تجارتی شراکت دار، خاص طور پر چین، یورپی یونین اور کینیڈا، جو ان ٹیرف سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، ممکنہ طور پر ادائیگیوں کے دعوے کر سکتے ہیں۔ اندازوں کے مطابق، ان ٹیرف سے حاصل ہونے والی آمدنی سیکڑوں ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، اور ان کی واپسی امریکا کے بجٹ پر شدید دباؤ ڈال سکتی ہے۔
ٹرمپ کی اس پوسٹ نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ریپبلکن پارٹی کے کچھ ارکان نے صدر کے موقف کی حمایت کی ہے، جبکہ ڈیموکریٹس نے اسے عدالت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ایک ڈیموکریٹک سینیٹر نے کہا کہ “صدر ٹرمپ کا یہ بیان عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے، جو جمہوریت کے لیے خطرناک ہے۔”
یہ کیس امریکا کی تاریخ میں صدارتی اختیارات اور تجارتی پالیسیوں کے حوالے سے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر فیصلہ ٹرمپ کے حق میں آیا تو یہ ان کی معاشی حکمت عملی کو مزید تقویت دے گا، جبکہ خلاف آنے کی صورت میں یہ ان کی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہو گا۔ دنیا بھر کی نظریں اب سپریم کورٹ کے فیصلے پر مرکوز ہیں، جو آج کسی بھی وقت سنایا جا سکتا ہے۔













