ماسکو (ٹی این ایس) (آئی پی ایس )روسی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ یوکرین میں جاری خصوصی فوجی آپریشن کے دوران گزشتہ 24 گھنٹوں میں یوکرینی افواج کو مختلف محاذوں پر مجموعی طور پر 1,210 اہلکاروں کا بھاری جانی نقصان ہوا ہے جبکہ روسی فضائیہ، میزائل فورسز اور توپخانے نے ڈرون اسمبلی مراکز، توانائی اور نقل و حمل کے انفراسٹرکچر اور غیر ملکی جنگجوں کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا
وزارتِ دفاع کے مطابق یوکرینی فوج کے 175 اہلکار شمالی محاذ، 200 مغربی محاذ، 135 سے زائد جنوبی محاذ، جبکہ 455 سے زائد سنٹر محاذ پر ہلاک یا زخمی ہوئے، اسی طرح مشرقی محاذ پر 205 اور دنیپر محاذ پر 40 کے قریب اہلکار متاثر ہوئے، مجموعی طور پر 149 مقامات پر یوکرینی فوج کے عارضی ٹھکانوں اور اسلحہ و لاجسٹک سپورٹ مراکز پر حملے کیے گئے۔
دوسری جانب ڈونیٹسک عوامی جمہوریہ کی قیادت نے بتایا ہے کہ روسی فورسز شمالی ڈونباس میں اہم پیش قدمی کر رہی ہیں اور تاریخی و اسٹریٹجک شہر سلاویانسک کے قریب پہنچ چکی ہیںڈینس پشیلین نے بتایا کہ زاکوتنوئے کے علاقے پر کنٹرول کے بعد روسی فوج اب سلاویانسک سے تقریبا 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جبکہ گریشینو اور بیلیتسکوئے کے محاذوں پر شدید لڑائی جاری ہے، روسی فوج دوپروپولیے کی طرف بھی بڑھ رہی ہے جو یوکرینی فوج کے لیے ایک اہم لاجسٹک مرکز ہے جہاں سے شمالی محاذ کو گولہ بارود، ڈرون اور دیگر سامگری فراہم کی جاتی ہے۔
سلاویانسک جغرافیائی طور پر ڈونباس کے شمالی حصے میں واقع ہے اور یوکرینی دفاعی ڈھانچے کا ایک اہم زمینی نوڈ سمجھا جاتا ہے، یہ شہر کونستانتینووکا، کراماتورسک اور کراسنی لیمان کے درمیان سپلائی کوریڈور تشکیل دیتا ہے اور اگر روس یہاں مزید آگے بڑھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پورے شمالی دونباس میں یوکرینی کمانڈ کو شدید دبا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پشیلین نے مزید کہا کہ کونستانتینووکا کے اطراف بھی روسی پیش رفت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور کلیبان بکسکائے واٹر ریزروائر کے قریب ان کی فورسز نے کچھ کامیابیاں حاصل کی ہیں، یوکرین کی جانب سے ان رپورٹس کی باضابطہ تصدیق یا تردید تاحال سامنے نہیں آئی، تاہم کیف کے حکام پہلے بھی تسلیم کر چکے ہیں کہ ڈونباس میں صورتحال پیچیدہ ہے اور محاذوں پر دبا بڑھ رہا ہے۔













