اسلام آباد (ٹی این ایس) قومی ضمیرجوائنٹ ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر خدشات،عوامی تناظرآزاد جموں و کشمیر اس وقت تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف عوام مہنگائی، بے روزگاری، کمزور حکمرانی اور بنیادی سہولیات کی کمی سے دوچار ہیں، تو دوسری جانب سیاسی بے یقینی، احتجاجی تحریکیں اور سڑکوں پر نکلتی ہوئی جوائنٹ ایکشن کمیٹی ریاستی فضا کو مزید گرم کر رہی ہیں۔ بظاہر یہ سب کچھ عوامی حقوق کی جدوجہد معلوم ہوتا ہے، مگر اگر ذرا گہرائی میں جھانکا جائے تو اس کے پسِ پردہ کئی سیاسی اور معاشی عوامل کارفرما دکھائی دیتے ہیں
آزاد کشمیر کی سیاست طویل عرصے سے جماعتی وابستگی، مرکز پر انحصار اور وقتی مفادات کے گرد گھومتی رہی ہے۔ انتخابات کے بعد عوامی توقعات تو بڑھتی ہیں، مگر عملی کارکردگی اکثر ان توقعات پر پوری نہیں اترتی۔ نتیجتاً عوام میں مایوسی جنم لیتی ہے، جو بالآخر احتجاج اور سڑکوں پر آنے کی صورت اختیار کر لیتی ہے عوامی جذبات کو ایک خاص سمت میں موڑنا سیاست کی پرانی روایت ہے، اور آزاد کشمیر اس سے مستثنیٰ نہیں ہے
معاشی بدحالی احتجاجی سیاست کو ایندھن فراہم کرتی ہے۔ جب نوجوان کے پاس روزگار نہ ہو، کاروبار ٹھپ ہوں اور مہنگائی بے قابو ہو، تو احتجاج اس کے لیے واحد راستہ بن جاتا ہے۔ مگر اس احتجاج کو منظم کرنے کے لیے وسائل درکار ہوتے ہیں—بینرز، ساؤنڈ سسٹم، سفر، کھانا، اور میڈیا کوریج۔یہیں سے پارٹی فنڈنگ اور پسِ پردہ مالی معاونت کا سوال جنم لیتا ہے حالیہ عرصے میں بعض حلقوں کی جانب سے یہ خدشات سامنے آئے ہیں کہ کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو بیرونی، بالخصوص بھارتی، فنڈنگ حاصل ہے جس کا مقصد پاکستان میں بدامنی پھیلانا اور ریاستی اداروں کو کمزور کرنا ہے
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ ان کی سرگرمیاں عوامی چندے اور رضاکارانہ تعاون سے چل رہی ہیں، تاہم فنڈنگ کے ذرائع کی مکمل شفافیت سامنے نہ آنے کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کی بالواسطہ معاونت یا منظم سپورٹ کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔
بات قابلِ غور ہے کہ پاکستان کے مختلف حساس خطوں، جیسے گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں بھی اسی نوعیت کی سرگرمیوں کے آثار دیکھے جا رہے ہیں۔ اگر زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو مقامی آبادی کو روزمرہ زندگی میں یقیناً مسائل درپیش ہیں، لیکن یہ مسائل اس قدر شدید یا اچانک نہیں کہ وہ خود بخود اس سطح کی منظم تحریکوں اور احتجاجی لہر کو جنم دیں جو حالیہ دنوں میں دیکھنے میں آ رہی ہے۔ یہی تضاد ان تحریکوں کے پیچھے کسی بیرونی ایجنڈے کے خدشے کو تقویت دیتا ہے
ان تحریکوں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ عوامی مطالبات کو بنیاد بنا کر سیاسی دباؤ بڑھایا جاتا ہے، حکومت کو کمزور کیا جاتا ہے، اور اگلے سیاسی مرحلے کے لیے زمین ہموار کی جاتی ہے
اسی تناظر میں بعض حلقوں کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا ان احتجاجی سرگرمیوں کا مقصد صرف عوامی مسائل کا حل ہے یا پھر اس کے ذریعے ریاستی نظم، سماجی ہم آہنگی اور عوام کے اعتماد کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ خاص طور پر یہ خدشہ قابلِ غور ہے کہ کہیں احتجاجی بیانیے کو اس انداز میں استعمال نہ کیا جائے جس سے عوام اور حکومتِ پاکستان کے درمیان اعتماد کی خلیج پیدا ہو ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاستی ادارے ہوشیاری، شفافیت اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے ان سرگرمیوں کا باریک بینی سے جائزہ لیں، بیرونی فنڈنگ کے ذرائع کی نشاندہی کریں، عوام کو اصل حقائق سے آگاہ کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور فوری اقدامات بھی ناگزیر ہیں، تاکہ کسی کو عوامی محرومیوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا موقع نہ ملے
آزاد کشمیر پاکستان کی نظریاتی، جغرافیائی اور اسٹریٹجک اہمیت کا ایک حساس اور مرکزی حصہ ہے۔ پاکستان اسٹیبلشمنٹ اور بالخصوص فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے وژن میں آزاد کشمیر کو ایک پُرامن، مستحکم اور بااختیار خطے کے طور پر دیکھنا شامل ہے، جہاں عوام کے مسائل کا حل ریاستی نظم و ضبط اور قومی مفاد کے دائرے میں رہتے ہوئے کیا جائے
آخر میں، قومی یکجہتی، شعور اور بروقت حکمتِ عملی ہی وہ عوامل ہیں جو پاکستان آزاد کشمیر کو عدم استحکام کی کسی بھی سازش سے محفوظ رکھ سکتے ہیں
تحریر؛ صوفی عابد چشتی نظامی نیازی













