اسلام آباد (ٹی این ایس) دہشتگردوں کا جڑ سے خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح قرا ر

 
0
4

اسلام آباد (ٹی این ایس) دہشتگردوں کا جڑ سے خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح قرا ر د ی جا رہی ہے، واضح رہے کہ جمعے کےروز اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع ایک امام بارگاہ میں خودکش حملے کے نتیجے میں 33 افراد شہید جبکہ 160 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔اسلام آباد خودکش حملے کی تحقیقات میں کافی حد تک پیش رفت ہو چکی ہے اور ملزمان کو ہر صورت کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا، دہشتگردوں کا وہاں تک تعاقب کیا جائے گا جہاں تک ان کی سوچ بھی نہیں جاتی,وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ جمعے کی نماز کے دوران مسلمانوں پر حملہ ہونا انتہائی افسوس ناک ہے، دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور ان کا واحد مقصد بدامنی پھیلانا ہے۔حکومت نے پیغامِ امن کمیٹی قائم کی ہے جس میں ہر مذہبی مکتبہ فکر کے نمائندے شامل ہیں، دہشتگرد اب کمزور ہو چکے ہیں، اسی لیے مضافاتی علاقوں میں کارروائیاں کر رہے ہیں، ترلائی حملہ آور کے بارے میں معلوم ہو چکا ہے کہ وہ افغانستان جا چکا تھا۔ وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی سے سکیورٹی امور پر بات ہوئی ہے اور امام بارگاہوں کی سکیورٹی کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ آئی جی اسلام آباد پولیس ناصر رضوی کا کزن بھی اس واقعے میں شہید ہوا ہے جبکہ پولیس فورس پوری دیانت داری سے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے اور مزید حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے، دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہو چکا تھا، لیکن ایک حکومت نے دہشتگردوں کو دوبارہ لا کر بسایا۔ ہم نے ماضی میں دہشتگردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کیں اور اب بھی انہیں کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔ واضح رہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ایک ہی وقت میں بی ایل اے، بی ایل ایف، ٹی ٹی پی اور ان کے سیاسی سہولت کاروں سے مقابلہ کررہی ہیں۔ یہ صرف پاکستان کا چیلنج نہیں، بلکہ امریکا، یورپ اور برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی اس کا سامنا کر چکے ہیں۔ اگر یہ مہارت نہ ہوتی تو پاکستان کا وجود بھی خطرے میں ہوتا۔بلوچستان، جس کی سرحدیں ایران اور افغانستان سے ملتی ہیں، گذشتہ کئی دہائیوں سے علیحدگی پسندی کا سامنا کر رہا ہے جس میں سکیورٹی فورسز، بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور شہریوں پر حملے شامل ہیں۔ پاکستان نے حالیہ دنوں میں علاقے میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر رکھی ہیں۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ’انڈین حمایت یافتہ‘ عسکریت پسند عناصر کے خلاف ’ایک سلسلہ وار، تیز رفتار اور انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں کی گئیں، جو معصوم شہریوں، بشمول خواتین اور بچوں کو نشانہ بنا کر امن و ترقی کو تباہ کرنا چاہتے تھے۔آئی ایس پی آر کے مطابق گذشتہ ہفتے29 جنوری کو بلوچستان کے ضلع پنجگور اور ہرنائی کے مضافاتی علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں شروع کی گئیں، جس کے نتیجے میں 41 عسکریت پسند مارے گئے، جو ’انڈین پراکسی نیٹ ورکس سے تعلق رکھتے تھے۔ُ بعد ازاں، بہادر سکیورٹی فورسز کی جارحانہ اور ثابت قدم کارروائیوں نے فتنہ ہند کے بلوچستان کے امن کو خراب کرنے کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ اس کے بعد، دہشت گردوں کے سلیپر سیلز کو ختم کرنے کے لیے متعدد علاقوں میں وسیع پیمانے پر انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں شروع کی گئیں، جن میں مسلسل سرچ اور سینیٹائزیشن آپریشنز شامل تھے مزید بتایا گیا کہ ’احتیاط سے کی گئی منصوبہ بندی، قابل عمل انٹیلی جنس اور مشترکہ عملدرآمد کے ذریعے پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مدد سے آپریشن ردّ الفتنہ-1 کے تحت مؤثر اور پرعزم کارروائی کی۔ ان مربوط کارروائیوں اور کلیئرنس آپریشنز کے نتیجے میں 216 عسکریت پسند مارے گئے، ’جس سے دہشت گرد نیٹ ورکس کی قیادت، کمانڈ اینڈ کنٹرول کے ڈھانچے اور آپریشنل صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا آئی ایس پی آر کے مطابق عسکریت پسندوں کے قبضے سے ’غیر ملکی ساخت کا اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور ساز و سامان بھی برآمد ہوئے۔ ابتدائی تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ ان انتہا پسند پراکسیوں کو منظم بیرونی معاونت اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کی گئی تھی۔ان کارروائیوں کے دوران خواتین اور بچوں سمیت 36 شہری اور سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 22 اہلکار بھی جان سے چلے گئے آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج دہشت گردی کے تمام اقسام اور شکلوں کے خلاف حکومت پاکستان کے نیشنل ایکشن پلان کے تحت پرعزم ہیں اور دہشت گرد خطرات کے مکمل خاتمے تک انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان میں جاری آپریشن رد الفتنہ۔1 کی کامیابی پر سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی اور 216 دہشت گردوں کو مارنے پر سراہا۔ وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے 36 عام شہریوں کی اموات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے جان سے جانے والے 22 سکیورٹی اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستانی قوم اپنے شہداء کی قربانی کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بلوچستان کے معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر دہشت گردوں نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ بلوچستان کی ترقی و خوش حالی اور عوام کے دشمن ہیں۔‘ ساتھ ہی انہوں نے ’دہشت گردی کی عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے‘ تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا عزم بھی دہرایا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈیا گذشتہ برس مئی کی جنگ میں شکست کے بعد ’اپنی پروکسیز کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی‘ تیز کر رہا ہے لیکن پاکستانی افواج ’انڈین دہشت گردی میں ملوث کٹھ پتلیوں کا وہی حال کریں گی جو معرکہ حق میں انڈین طیاروں کا ہوا تھا۔وزیراعظم نے کہا: ’معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کھانے کے بعد انڈیا اپنی پروکسیز کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی دوبارہ تیز کر رہا ہے۔ انڈیا کی طرف سے دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے اور میں یہاں پر بڑے واضح انداز میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خطے میں امن اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک انڈیا جارحانہ، توسیع پسندانہ اور تسلط پسندانہ عزائم اور اپنی ناپاک سازشیں ترک نہ کر دے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان کی بہادر افواج اور سکیورٹی فورسز انڈین دہشت گردی میں ملوث کٹھ پتلیوں کا وہی حال کریں گے جو معرکہ حق میں انڈین طیاروں کا ہوا تھا۔