اسلام آباد (ٹی این ایس) : پاکستان اللہ پاک کی نعمتوں میں سے ایک بہترین نعمت ہے۔ ہمیں پاکستان کی قدر کرنی چاہئیے۔ ہماری مختصر تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جس بھی طاغوتی قوت نے پاکستان کو نیچا دکھانے کی کوشش کی اسے دنیا میں ذلیل و رسواء ہونا پڑا۔ مئی 2025ء کے معرکہ میں پڑوسی ملک بھارت کو افواج پاکستان نے ایسی شکست دی کہ وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا جبکہ پاکستان ہر میدان میں سرخرو ہوا اور اسے بتدریج عروج حاصل ہو رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار بین الاقوامی شہرت کے حامل شاعر و دانشور ڈاکٹر سید شبیہہ الحسن رضوی نے نظریہ پاکستان کونسل ٹرسٹ کے زیر اہتمام ایوان قائد میں منعقدہ “عید ملن امن مشاعرہ” کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنی افواج پاکستان اور موجود سیاسی قیادت کو جتنی بھی داد دیں وہ کم ہے۔ نظریہ پاکستان کونسل نے عید ملن مشاعرے میں امن و استحکام کو خصوصی اہمیت دی ہے جسکی نہ صرف وطن عزیز پاکستان بلکہ جنگ سے نبردآزما پوری دنیا کو اشد ضرورت ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی پارلیمانی سیکرٹری برائے وزارت ثقافت و قومی ورثہ فرح ناز اکبر نے کہا کہ مشاعروں کو ہماری تہذیب و ثقافت میں نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ آج کے مشاعرے میں امن کی اہمیت کو اجاگر کرکے نظریہ پاکستان کونسل نے اپنے قومی مقاصد کو آگے بڑھایا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور انکی ٹیم ایران و اسرائیل جنگ رکوانے اور آگے بڑھ کر فریقین میں وزرائے خارجہ کی سطح پر ثالثی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ جنگ رکوانے کے اس مثبت کردار نے ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔
“عید ملن امن مشاعرے” میں جن شعراء نے اپنے خوبصورت کلام سے داد پائی ان میں نویدہ مقبول بھٹی، جہلم سے محمد عبدالصمد صبحانی، جنڈ سے سردار عابد اور مقامی شعراء میں رباب تبسم، رزینہ عالم خان، پروفیسر راشدہ ماہین ملک، افتخار یوسف، درشہوار فیروز، خضر سلیم کھوکھر، ڈاکٹر مظہر اقبال، خرم خرام صدیقی، عبدالقادر تاباں اور وفا چشتی شامل تھے۔ مشاعرے کی میزبانی کے فرائض معروف شاعر پروفیسر عرفان جمیل نے نہایت خوش اسلوبی سے سر انجام دیئے اور مشاعرے کی ابتدا اپنی خوبصورت غزل سے کی۔ قبل ازیں تقریب کے آغاز میں این پی سی کے ڈائریکٹر پروگرامز حمید قیصر نے کہا کہ نظریہ پاکستان کونسل ٹرسٹ اپنے پلیٹ فارم سے ہمیشہ ایسی تقریبات کا انعقاد کرتا ہے جس سے وطن عزیز کا وقار بلند ہو اور علمی و ادبی سرگرمیوں کو فروغ ملے. آخر میں انہوں نے این پی سی کی جانب سے مہمانان گرامی، شعراء اور حاضرین مجلس کا شکریہ ادا کیا۔













