اسلام آباد (ٹی این ایس) وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے حالیہ عالمی بحرانوں,جیسے ایران امریکہ کشیدگی کے تناظر میں مسلسل ڈائیلاگ اور کثیر الجہتی (ملٹی لیٹرلزم) پر زور دیا ہے۔ پاکستان اس وقت سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن ہے اور وہ اس پلیٹ فارم کو او آئی سی کے ساتھ مل کر مسلم دنیا کے مسائل اٹھانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ایک “مسلم بلاک” بنا کر مشترکہ نشست کا مطالبہ کرنا زیادہ منصفانہ اور جمہوری حل نظر آتا ہے، کیونکہ یہ کسی ایک ملک کی آمریت کے بجائے پورے خطے کی نمائندگی کرے گا۔ تاہم، اس کے لیے مسلم ممالک کو او آئی سی کے پلیٹ فارم پر پہلے اپنے داخلی اتحاد کو مزید مضبوط کرنا ہوگا مشرق وسطیٰ جنگ بندی ،مشرق وسطیٰ ہر قدم پر پوری دنیا کے سیاسی، عسکری اور معاشی توازن کو متاثر کر رہا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے بعد ہونے والی جنگ بندی پیچیدہ بیانیے کو جنم دے رہے ہے جس میں سفارتکاری ،طاقت، مفادات، نظریات سب ایک دوسرے میں پیوست دکھائی دیتے ہیں۔ یہ صورتحال ایران اور امریکا کے درمیان تنازع نہیں بلکہ ایک وسیع تر عالمی شطرنج کا حصہ ہے، جہاں ہر چال کے دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکی جنگ بندی معاہدے کے بعد تمام فوجی یونٹس کو رُک جانے کا حکم دے دیا ہے تاہم واضح کیا ہے کہ یہ جنگ کا خاتمہ نہیں بلکہ عارضی وقفہ ہے بیان کردہ منظرنامہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے تناظر میں ان اہم پہلوؤں کی نشاندہی کرتا ہے جو عالمی طاقتوں کے درمیان زیرِ بحث رہتے ہیں:
عالمی اثرات: مشرقِ وسطیٰ کا تنازع محض علاقائی نہیں بلکہ عالمی معیشت اور عسکری توازن کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ تیل کی قیمتوں سے لے کر بحری تجارتی راستوں تک، ہر چیز اس خطے کے حالات سے جڑی ہے۔
سفارت کاری بمقابلہ طاقت: ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی قسم کا معاہدہ “عالمی شطرنج” کی وہ چال ہے جہاں نظریات اور مفادات کے ٹکراؤ نےاسے پیچیدہ بنا دیا ہے۔
عارضی وقفہ یا مستقل امن: ایران کی قیادت کی جانب سے “عارضی وقفے” کی اصطلاح اس اسٹریٹجک سوچ کو ظاہر کرتی ہے جہاں فریقین اپنی قوت مجتمع کرنے اور حالات کا ازسرِ نو جائزہ لینے کے لیے وقت حاصل کرتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا اس ممکنہ پیش رفت کا خیرمقدم کرنا پاکستان کی اس دیرینہ پالیسی کا تسلسل ہے جس کے تحت پاکستان ہمیشہ خطے میں امن اور کشیدگی کے خاتمے کا حامی رہا ہے، کیونکہ کسی بھی بڑی جنگ کے اثرات براہِ راست پاکستان کی معیشت پر بھی پڑتے ہیں۔ پاکستان کی ثالثی سے ہونے والی ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس صورتحال کے تازہ ترین اور کلیدی نکات درج ذیل ہیں:
1. پاکستان کا ثالثی کردار اور باضابطہ اعلان;…
وزیراعظم شہباز شریف نے 7 اپریل 2026 کو باضابطہ طور پر اعلان کیا تھا کہ ان کی حکومت اور عسکری قیادت کی کوششوں سے امریکہ اور ایران کے درمیان لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے وفود کو 10 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات کی دعوت دی گئی تھی۔
2. ایران کا مؤقف اور سپریم لیڈر کا حکم;..
ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اس نازک موڑ پر جنگ بندی کا فیصلہ خود کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن یہ “عارضی وقفہ” مستقل امن کی ضمانت تب ہی بنے گا جب ایران کے مطالبات تسلیم کیے جائیں گے۔
3. اسلام آباد مذاکرات اور موجودہ تعطل;…
اگرچہ ابتدائی جنگ بندی نافذ ہوئی، لیکن اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے بعد صورتحال ایک بار پھر پیچیدہ ہو ئی ہے:
مذاکرات کا نتیجہ: 20 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے مذاکرات کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے۔
کشیدگی برقرار: امریکہ نے ایران پر تجارتی ناکہ بندی (Naval Blockade) برقرار رکھی ، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں آمد و رفت پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
مستقل امن کا چیلنج: تازہ ترین اطلاعات کے مطابق فریقین کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے اور مستقل امن کی کوئی حتمی صورت اب تک سامنے نہیں آ سکی۔یہ بالکل درست ہے کہ یہ محض دو ممالک کا تنازع نہیں بلکہ ایک عالمی بحران ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کاکہنا ہے کہ امریکا اور اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنے اتحادیوں کے ہمراہ، لبنان اور دیگر تمام مقامات سمیت ہر جگہ جنگ بندی پر اتفاق کیا جو کہ نافذ العمل ہے۔
وزیراعظم تاحال اس جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے عالمی رہنماؤں سے رابطے میں ہیں تاکہ خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔ اس عالمی شطرنج میں چین یا روس جیسے دیگر بڑے کھلاڑیوں کا کیا کردار سامنے آ رہا ہے,اس عالمی شطرنج میں چین اور روس محض تماشائی نہیں بلکہ ایسے کلیدی کھلاڑی ہیں جو پردے کے پیچھے اور سفارتی محاذ پر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کا رخ موڑ رہے ہیں۔ حالیہ پیش رفت میں ان کا کردار درج ذیل پہلوؤں سے نمایاں ہے:
1. چین کا خاموش مگر فیصلہ کن کردار;…
اگرچہ پاکستان نے ظاہری طور پر ثالثی کی، لیکن رپورٹس کے مطابق 7 اور 8 اپریل 2026 کو ہونے والی جنگ بندی کے پیچھے چین کا “آخری لمحے کا دباؤ” (Last-minute push) سب سے اہم تھا۔
ایران پر اثر و رسوخ: چین نے اپنے قریبی اتحادی ایران کو لچک دکھانے اور جنگ بندی قبول کرنے پر آمادہ کیا تاکہ خطے میں ایک وسیع تر جنگ کو روکا جا سکے۔
سفارتی حمایت:…
چین نے اقوامِ متحدہ میں بحری راستوں (آبنائے ہرمز) کو کھولنے کے حوالے سے امریکہ کی پیش کردہ قرارداد کو ویٹو کرنے میں ایران کا ساتھ دیا، جو اس کی تزویراتی حمایت کا ثبوت ہے
2. روس کا عسکری اور تزویراتی وزن;….
روس اس صورتحال کو اپنی عالمی ساکھ برقرار رکھنے اور امریکی وسائل کو مشرقِ وسطیٰ میں الجھائے رکھنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق، روس نے ایران کو امریکی افواج اور بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اسلام آباد مذاکرات کا خیرمقدم کیا لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں (جیسے بحری ناکہ بندی) کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
3. مشترکہ حکمتِ عملی: “امریکی اثر و رسوخ کا خاتمہ”
چین اور روس دونوں کا مشترکہ مقصد مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بالادستی کو چیلنج کرنا ہے۔
بڑی طاقتوں کا الائنمنٹ: اپریل 2026 کے وسط میں بیجنگ میں ہونے والی ملاقاتوں میں دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مل کر کام کریں گے تاکہ امریکہ پر فوری اور مستقل جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔
پاکستان کے ساتھ تعاون: دونوں طاقتوں نے پاکستان کے ثالثی کے کردار کو سراہا ہے تاکہ اس مسئلے کا کوئی ایسا سیاسی حل نکلے جس میں امریکہ کو یکطرفہ برتری حاصل نہ ہو۔ یہ کہ چین معاشی اور سفارتی دباؤ کے ذریعے ایران کو مذاکرات کی میز پر لایا، جبکہ روس عسکری اور انٹیلی جنس تعاون کے ذریعے ایران کے ہاتھ مضبوط کر رہا ہے، جس نے اس تنازع کو ایک پیچیدہ عالمی معرکے میں بدل دیا ہے۔
اگرچہ اب تک کوئی جامع معاہدہ دنیا کے سامنے نہیں آیا، لیکن پسِ پردہ ہونے والی بات چیت اور حالیہ بیانات ان اہم تزویراتی (Strategic) پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں جو اس وقت عالمی طاقتوں کے درمیان زیرِ بحث ہیں:
1. “پراکسی” جنگ سے براہِ راست تصادم کا خطرہ;……
عالمی طاقتیں اس بات پر فکر مند ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اب محض لبنان (حزب اللہ) یا دیگر گروہوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ براہِ راست تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے۔ زیرِ بحث اہم نکتہ یہ ہے کہ کیا دونوں فریقین ایک ایسی “ریڈ لائن” پر متفق ہو سکتے ہیں جس سے بڑی جنگ سے بچا جا سکے۔
2. بحری تجارتی راستوں کی حفاظت (آبنائے ہرمز);……
یہ نکتہ صرف امریکہ یا ایران کا نہیں، بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔ چین، جاپان اور یورپی ممالک کا بڑا انحصار اس راستے پر ہے۔ مذاکرات میں اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ سیاسی کشیدگی کے باوجود تیل کی سپلائی اور تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کو کیسے محفوظ بنایا جائے۔
3. پابندیاں بمقابلہ جوہری پروگرام;……
امریکہ کی جانب سے معاشی پابندیاں اور ایران کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام میں پیش رفت ہمیشہ سے میز پر موجود سب سے کٹھن موضوعات ہیں۔ عالمی طاقتیں (بشمول روس اور چین) اس بات پر بحث کر رہی ہیں کہ کیا ایران کو معاشی ریلیف دے کر اسے عسکری کارروائیاں روکنے پر آمادہ کیا جا سکتا ہے۔
4. نئے “علاقائی توازن” کی تلاش;……
مشرقِ وسطیٰ میں اب پرانا توازن بگڑ چکا ہے۔ اب بحث اس پر ہے کہ ایک نیا ڈھانچہ (Framework) تشکیل دیا جائے جس میں ایران کے علاقائی اثر و رسوخ اور اسرائیل کے حفاظتی خدشات، دونوں کو کسی حد تک جگہ مل سکے۔
5. ثالثی کا نیا مرکز (پاکستان اور دیگر ممالک)
رایتی طور پر قطر یا عمان یہ کردار ادا کرتے تھے، لیکن حالیہ صورتحال میں پاکستان جیسے ممالک کا متحرک ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اب دنیا ایسے ثالثوں کی تلاش میں ہے جن کے دونوں بلاکس (مغربی اور اسلامی ممالک) کے ساتھ مضبوط تعلقات ہوں۔
یہ صورتحال واقعی ایک “عالمی شطرنج” جیسی ہے جہاں ہر ملک اپنے مفاد کے مطابق مہرہ ہلا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی بندش اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو گزشتہ دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔ 27 اپریل 2026 تک کی تازہ ترین صورتحال درج ذیل ہے:
قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ:
بحران کے آغاز (فروری کے اختتام) پر برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 70 ڈالر فی بیرل تھی۔
مارچ 2026 میں کشیدگی کے عروج پر یہ قیمت 126 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جو حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا ماہانہ اضافہ ہے۔
تازہ ترین صورتحال کے مطابق برینٹ خام تیل 107.49 ڈالر اور یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 96.17 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
سپلائی کا بڑا دھچکا:
آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی تیل کی رسد کا تقریباً 20 فیصد (تقریباً 12 سے 13 ملین بیرل یومیہ) منقطع ہو چکا ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) نے اسے جدید تاریخ کا سب سے بڑا “سپلائی شاک” قرار دیا ہے۔
اسلام آباد مذاکرات اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ:
8 اپریل کو جب پاکستان کی ثالثی میں ابتدائی جنگ بندی اور آبنائے کھولنے کی خبر آئی تو قیمتوں میں 15 فیصد تک کی بڑی کمی دیکھنے میں آئی تھی۔تاہم، حالیہ دنوں میں اسلام آباد مذاکرات میں تعطل اور امریکی وفد کے دورے کی منسوخی کے بعد قیمتیں دوبارہ 2 فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔
دیگر معاشی اثرات:
بحری جہازوں کے راستے بدلنے کی وجہ سے سفر میں 10 سے 14 دن کا اضافہ ہوا ہے، جس سے شپنگ کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔ تیل کے ساتھ ساتھ مائع قدرتی گیس (LNG) کی قیمتوں میں بھی شدید اضافہ ہوا ہے، جس سے یورپ کی توانائی کی سلامتی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ اس وقت عالمی منڈی میں شدید بے یقینی کی کیفیت ہے کیونکہ جب تک آبنائے ہرمز مکمل طور پر تجارتی جہاز رانی کے لیے نہیں کھلتا، تیل کی قیمتوں میں استحکام آنا مشکل نظر آتا ہے۔
موجودہ عالمی صورتحال، خاص طور پر ایران اور امریکہ کے حالیہ تنازع اور یوکرین و غزہ کی جنگوں نے اقوامِ متحدہ (UN) کے کردار پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس کے اثر و رسوخ کے حوالے سے دو مختلف پہلو دیکھے جا رہے ہیں:
1. غیر موثر ہونے کے دلائل (Veto Power کا مسئلہ)
بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ اقوامِ متحدہ اب ایک “بحث گاہ” بن کر رہ گئی ہے:
ویٹو پاور (Veto Power): سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین (امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس) اپنے مفادات کے لیے ویٹو کا استعمال کرتے ہیں، جس سے اہم قراردادیں منظور نہیں ہو پاتیں۔ ایران-امریکہ حالیہ کشیدگی میں بھی روس اور چین کا ایک طرف اور امریکہ کا دوسری طرف ہونا اسے مفلوج کر دیتا ہے۔
فیصلوں پر عملدرآمد کا فقدان: اقوامِ متحدہ کے پاس اپنی کوئی فوج نہیں ہے، وہ صرف رکن ممالک کے تعاون پر منحصر ہے۔ جب بڑی طاقتیں ہی براہِ راست ملوث ہوں تو ادارے کی اپیلیں بے اثر ہو جاتی ہیں۔
2. بریک تھرو کی امید (سفارتی پلیٹ فارم)
اس کے باوجود، اقوامِ متحدہ کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا:
واحد عالمی فورم: یہ دنیا کا واحد پلیٹ فارم ہے جہاں دشمن ممالک کے نمائندے ایک چھت تلے بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں۔ پسِ پردہ (Backchannel) سفارت کاری اکثر یہیں سے شروع ہوتی ہے۔
انسانی ہمدردی کا کام: جنگ بندی ہو یا نہ ہو، جنگ زدہ علاقوں میں خوراک، ادویات اور پناہ گزینوں کی دیکھ بھال کا واحد بڑا نیٹ ورک اقوامِ متحدہ ہی سنبھالتا ہے۔ جنرل اسمبلی کی قراردادیں اگرچہ قانونی طور پر پابند نہیں ہوتیں، لیکن وہ کسی بھی ملک کو عالمی سطح پر تنہا کرنے اور اس پر اخلاقی دباؤ ڈالنے کا بڑا ذریعہ بنتی ہیں۔
حالیہ تناظر میں کردار:
ایران اور امریکہ کے معاملے میں، اقوامِ متحدہ براہِ راست بریک تھرو کے بجائے پاکستان جیسے ثالث کے لیے ایک “سہولت کار” (Facilitator) کا کام کر رہی ہے۔ بڑا بریک تھرو تب ہی ممکن ہے جب سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کسی کم از کم ایجنڈے پر متفق ہوں۔اقوامِ متحدہ فی الحال سیاسی طور پر کمزور لیکن سفارتی طور پر ناگزیر ہے۔ یہ جنگ روکنے میں شاید ناکام ہو، لیکن جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں اب بھی کلیدی اہمیت رکھتی ہےاقوامِ متحدہ میں اصلاحات، بالخصوص ویٹو پاور کا خاتمہ یا اس میں تبدیلی، ایک ایسا موضوع ہے جس پر عالمی ماہرینِ سیاست کی رائے منقسم ہے۔ تاہم، مشرقِ وسطیٰ جیسے پیچیدہ مسائل کے تناظر میں حقیقت کچھ یوں دکھائی دیتی ہے:
1. اصلاحات کے بغیر حل کی مشکلات
موجودہ ڈھانچے میں سلامتی کونسل اکثر مفلوج ہو جاتی ہے کیونکہ:
جانبداری: جب بھی کسی بڑے مسئلے (جیسے اسرائیل فلسطین یا ایران امریکہ کشیدگی) پر کوئی قرارداد آتی ہے، تو کوئی نہ کوئی بڑی طاقت اپنے اتحادی کو بچانے کے لیے اسے ویٹو کر دیتی ہے۔
عدم توازن: 1945 کا ڈھانچہ آج کی دنیا کی نمائندگی نہیں کرتا۔ جب تک طاقت کا یہ عدم توازن برقرار ہے، مشرقِ وسطیٰ کے مسائل پر منصفانہ فیصلے ہونا تقریباً ناممکن دکھائی دیتے ہیں۔
2. متبادل راستے موجود :
اصلاحات کے بغیر بھی کچھ صورتوں میں مسائل حل ہو سکتے ہیں، لیکن وہ اقوامِ متحدہ کے بجائے علاقائی اور دو طرفہ سفارت کاری پر منحصر ہوتے ہیں:
ثالثی کا کردار: جیسا کہ حالیہ ایران امریکہ کشیدگی میں پاکستان، چین اور قطر جیسے ممالک نے براہِ راست کردار ادا کیا۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ جب اقوامِ متحدہ ناکام ہو جائے تو علاقائی طاقتیں “بیک چینل” ڈپلومیسی سے جنگ بندی کروا سکتی ہیں۔
طاقت کا توازن: کبھی کبھی فریقین تھک کر یا معاشی تباہی کے خوف سے خود ہی سمجھوتے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جس میں اقوامِ متحدہ کا کردار محض دستخطی گواہ کا ہوتا ہے۔
3. مستقل حل کے لیے اصلاحات کی ضرورت:
عارضی جنگ بندی تو بغیر اصلاحات کے ممکن ہے، لیکن مستقل امن کے لیے اقوامِ متحدہ میں ایسی اصلاحات ناگزیر ہیں جو:
مظلوم اقوام کو تحفظ دے سکیں۔
بین الاقوامی قوانین کا نفاذ طاقتور اور کمزور پر یکساں کر سکیں۔ ویٹو پاور کے خاتمے کے بغیر مشرقِ وسطیٰ میں “انصاف پر مبنی مستقل حل” ناممکن نظر آتا ہے، البتہ عارضی امن اور جنگ بندی کے لیے دنیا کو اقوامِ متحدہ کے بجائے انفرادی ملکوں کی سفارتی اثر و رسوخ پر بھروسہ کرنا پڑے گا۔
پاکستان جیسے ممالک کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نمائندگی ملنی چاہیے تاکہ ترقی پذیر ممالک کی آواز بہتر طور پر سنی جا سکے پاکستان کا موقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ سلامتی کونسل کو چند ممالک کی اجارہ داری بنانے کے بجائے اسے جمہوری اور وسیع البنیاد ہونا چاہیے تاکہ ترقی پذیر ممالک کی صحیح نمائندگی ہو سکے۔
اس حوالے سے چند اہم نکات درج ذیل ہیں:
نمائندگی کا عدم توازن: موجودہ سلامتی کونسل 1945 کے عالمی منظرنامے کی عکاسی کرتی ہے۔ افریقہ، لاطینی امریکہ اور مسلم دنیا بشمول پاکستان کی مستقل بنیادوں پر وہاں کوئی آواز نہیں، جس کی وجہ سے عالمی فیصلے اکثر یکطرفہ محسوس ہوتے ہیں۔
پاکستان کا موقف (UfC گروپ): پاکستان “یونائیٹنگ فار کنسنسس” (UfC) گروپ کا اہم رکن ہے، جو مستقل نشستوں میں اضافے کے بجائے غیر مستقل نشستوں میں اضافے کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان کا ماننا ہے کہ مزید مستقل ارکان شامل کرنے سے ویٹو پاور کا مسئلہ مزید بڑھے گا، اس لیے ایسی نشستیں ہونی چاہئیں جن پر ممالک کا انتخاب جمہوری طریقے سے ہو۔
ترقی پذیر ممالک کی ترجمانی: پاکستان نے ہمیشہ گلوبل ساؤتھ (Global South) اور ترقی پذیر ممالک کے مسائل، جیسے موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) اور معاشی انصاف، کو عالمی فورمز پر اٹھایا ہے۔ مستقل یا طویل مدتی نمائندگی سے پاکستان ان مسائل کو زیادہ قوت کے ساتھ حل کروا سکتا ہے۔
امن مشنز میں کردار: پاکستان اقوامِ متحدہ کے امن مشنز (Peacekeeping Operations) میں سب سے زیادہ فوج بھیجنے والے ممالک میں شامل ہے۔ یہ حقیقت اس کے دعوے کو مضبوط کرتی ہے کہ اسے عالمی فیصلوں میں کلیدی حیثیت ملنی چاہیے۔پاکستان جیسے ممالک کو نمائندگی ملنے سے سلامتی کونسل کے فیصلوں میں اخلاقی ساکھ پیدا ہوگی اور یہ ادارہ صرف بڑی طاقتوں کا آلہ کار بننے کے بجائے پوری انسانیت کا ترجمان بن سکے گا۔اگر کسی مسلم ملک مثلاً پاکستان، ترکیہ یا سعودی عرب کو ویٹو پاور مل جاتی ہے، تو اس سے مشرقِ وسطیٰ اور عالمِ اسلام کے توازنِ قوت پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ اس کے ممکنہ نتائج کچھ یوں ہو سکتے ہیں:
1. یکطرفہ فیصلوں کا خاتمہ;…
فی الوقت، مشرقِ وسطیٰ سے متعلق اکثر قراردادیں (خاص طور پر فلسطین کے معاملے پر) امریکہ کی جانب سے ویٹو کر دی جاتی ہیں۔ اگر کسی مسلم ملک کے پاس یہ طاقت ہوگی، تو وہ ایسی قراردادوں کو ویٹو کر سکے گا جو مسلم ممالک کے مفادات کے خلاف ہوں، جس سے عالمی فورم پر ایک توازن پیدا ہوگا۔
2. مظلوم اقوام کی مضبوط آواز;…
مسلم دنیا کا ایک مستقل نمائندہ سلامتی کونسل میں ان مسائل کو زیادہ موثر انداز میں اٹھا سکے گا جنہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ کشمیر جیسے دیرینہ مسائل پر بھی عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کا سبب بن سکتا ہے۔
3. اندرونی چیلنجز اور تقسیم;…
تاہم، اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے:
مسلم دنیا کی اپنی تقسیم: مسلم ممالک کے درمیان سیاسی اور نظریاتی اختلافات (جیسے بعض اوقات ایران اور سعودی عرب کے درمیان تناؤ) یہ سوال پیدا کرتے ہیں کہ کیا تمام مسلم ممالک کسی ایک ملک کی ویٹو پاور پر متفق ہوں گے؟
بڑی طاقتوں کا ردِعمل: موجودہ پانچ مستقل اراکین کبھی نہیں چاہیں گے کہ ان کی اجارہ داری ختم ہو۔ وہ اس ملک پر شدید معاشی اور سیاسی دباؤ ڈال سکتے ہیں تاکہ وہ اپنی ویٹو پاور کا استعمال ان کے خلاف نہ کرے۔
4. مستقل حل کی امید;…
اگر یہ طاقت صحیح معنوں میں استعمال کی جائے، تو مشرقِ وسطیٰ میں انصاف پر مبنی امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، کیونکہ اب تک وہاں کے مسائل کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ عالمی طاقتوں کی جانبداری رہی ہے۔ویٹو پاور ملنا مسلم دنیا کے لیے ایک بڑی سفارتی فتح ہوگی، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ مسلم ممالک اپنے اختلافات بھلا کر کس حد تک ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔
کسی ایک ملک کا انتخاب کرنا سیاسی طور پر حساس ہے، لیکن اگر جغرافیائی، عسکری اور تزویراتی (Strategic) اہمیت کو پیمانہ بنایا جائے تو پاکستان اور ترکیہ کے نام سب سے نمایاں ہو کر سامنے آتے ہیں:
1. پاکستان (عسکری اور تزویراتی اہمیت)
واحد ایٹمی طاقت: پاکستان مسلم دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہے، جو اسے عسکری طور پر ایک خاص مقام دیتی ہے۔
جغرافیائی محلِ وقوع: پاکستان مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے۔ سی پیک (CPEC) جیسے منصوبوں کی وجہ سے یہ عالمی تجارت کا محور بن رہا ہے۔
امن مشنز: اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کا کلیدی کردار اس کی عالمی ذمہ داری نبھانے کی صلاحیت کا ثبوت ہے۔
2. ترکیہ (جغرافیائی اور سیاسی اہمیت)
پل کا کردار: ترکیہ ایشیا اور یورپ کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے اور نیٹو (NATO) کا اہم رکن ہے۔
سیاسی اثر و رسوخ: صدر طیب اردوان کی قیادت میں ترکیہ نے عالمی سطح پر، خاص طور پر اقوامِ متحدہ میں اصلاحات (“دنیا پانچ سے بڑی ہے”) کے لیے سب سے زیادہ آواز اٹھائی ہے۔ حالیہ برسوں میں روس-یوکرین اناج معاہدہ ہو یا دیگر علاقائی تنازعات، ترکیہ نے ایک کامیاب ثالث کے طور پر اپنی منوائی ہے۔
3. سعودی عرب (معاشی اور مذہبی مرکزیت)
اگرچہ عسکری لحاظ سے پاکستان اور ترکیہ آگے ہیں، لیکن سعودی عرب عالمِ اسلام کا مذہبی مرکز اور معاشی طاقت (تیل کی وجہ سے) ہونے کے ناطے ایک مضبوط امیدوار ہے۔اگر معیار خالصتاً عسکری طاقت اور جغرافیائی اثر و رسوخ ہو، تو پاکستان سب سے مضبوط امیدوار بن کر ابھرتا ہے۔ تاہم، عالمی سیاست میں ترکیہ کی سفارتی رسائی اسے ایک قدم آگے رکھتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر مسلم دنیا کو ایک نشست ملے تو وہ گردشی (Rotational) ہونی چاہیے تاکہ تمام اہم ممالک باری باری نمائندگی کر سکیں۔
مسلم ممالک کے لیے ایک “مشترکہ نشست” یا “مسلم بلاک” (جیسے یورپی یونین) کی تجویز عالمی سیاست میں ایک انتہائی اہم اور زیرِ بحث نکتہ ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کا موقف اور عالمی تنظیموں کی حکمتِ عملی درج ذیل پہلوؤں پر مبنی ہے:
1. تنظیمِ تعاونِ اسلامی (OIC) کا متفقہ مطالبہ:…..
او آئی سی (OIC) نے مسلسل یہ مطالبہ کیا ہے کہ سلامتی کونسل میں کسی بھی اصلاحات کی صورت میں “مسلم امہ کی مناسب نمائندگی” کو یقینی بنایا جائے۔ او آئی سی کا موقف ہے کہ 57 اسلامی ممالک، جو دنیا کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ہیں، عالمی فیصلوں سے باہر نہیں رہ سکتے۔
2. پاکستان کا موقف: “جمہوری اصلاحات بمقابلہ مستقل نشست”:…….
پاکستان انفرادی ممالک کے لیے نئی مستقل نشستوں کی مخالفت کرتا ہے کیونکہ اس سے “طاقت کے نئے مراکز” پیدا ہوں گے جو اقوامِ متحدہ کو مزید مفلوج کر سکتے ہیں۔ اس کے بجائے پاکستان اور “یونائٹنگ فار کنسنسس” (UfC) گروپ درج ذیل تجاویز دیتے ہیں: علاقائی نمائندگی: انفرادی ملک کے بجائے پورے خطے یا بلاک (جیسے او آئی سی یا افریقی یونین) کی نمائندگی ہونی چاہیے۔
گردشی نشستیں (Rotation): ایسی نشستیں ہونی چاہئیں جن پر بلاک کے ممالک باری باری منتخب ہوں، تاکہ جوابدہی اور شفافیت برقرار رہے۔ ایک بلاک کی صورت میں مسلم ممالک کی آواز زیادہ طاقتور ہوگی اور ویٹو پاور کا استعمال کسی ایک ملک کے بجائے پورے بلاک کے مفاد میں ہو سکے گا۔ یہ “یورپی یونین” کے ماڈل کی طرح مسلم دنیا کو ایک سیاسی اکائی کے طور پر ابھارے گا۔ اقوامِ متحدہ کا موجودہ چارٹر صرف ریاستوں کو رکنیت دیتا ہے، تنظیموں کو نہیں۔ اس کے لیے چارٹر میں بڑی تبدیلی کی ضرورت ہوگی۔ مزید برآں، مسلم ممالک کے درمیان داخلی اختلافات (جیسے مختلف علاقائی تنازعات) ایک مشترکہ موقف اپنانے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔













