اسلام آباد (ٹی این ایس) ایران کے ساتھ مسلح کشیدگی ختم ,امریکی صدر کا دعویٰ. ..؟

 
0
4

اسلام آباد (ٹی این ایس) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کو لکھے گئے ایک خط میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مسلح کشیدگی اب ختم ہو چکی ہے۔ اس دعوے کے پیچھے چھپے اہم حقائق اور قانونی پہلو درج ذیل ہیں:
وار پاورز ایکٹ (1973) کا چکر:
صدر کا یہ بیان دراصل ایک قانونی دفاع ہے۔ ‘وار پاورز ایکٹ’ کے تحت صدر کو کسی بھی فوجی مہم کے لیے 60 دن کے اندر کانگریس سے منظوری لینا لازمی ہوتی ہے۔ 28 فروری کو شروع ہونے والی اس جنگ کو 60 دن مکمل ہو چکے ہیں، اس لیے صدر نے یہ موقف اپنایا کہ چونکہ 7 اپریل سے سیز فائر (جنگ بندی) جاری ہے، اس لیے اب یہ جنگ ختم ہو چکی ہے اور انہیں کانگریس سے کسی منظوری کی ضرورت نہیں۔
آپریشن ایپک فیوری:
صدر ٹرمپ نے اس فوجی مہم کو ‘آپریشن ایپک فیوری’ کا نام دیا اور کہا کہ وہ امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے بطور کمانڈر ان چیف فوج کو ہدایات دیتے رہیں گے۔
اپوزیشن کا ردِعمل: ڈیموکریٹس اور سینیٹر چک شومر نے اس دعوے کو “بکواس” اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہزاروں امریکی فوجی اب بھی خطرے میں ہیں اور جب تک آبنائے ہرمز بند ہے، کشیدگی ختم نہیں ہوئی۔
جنگ بندی میں توسیع:
صدر نے 21 اپریل کو جنگ بندی میں جو غیر معینہ مدت کی توسیع کی تھی، اسے ہی وہ دشمنی کے خاتمے کی بنیاد بنا رہے ہیں۔
پاکستان کے لیے اہمیت:
پاکستان، جو اس وقت “اسلام آباد ٹاکس” کے ذریعے ثالثی کر رہا ہے، صدر ٹرمپ کے اس دعوے کو ایک مثبت موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے تاکہ اس عارضی امن کو ایک مستقل امن معاہدے میں تبدیل کیا جا سکے۔
امریکی کانگریس کا اگلا قانونی قدم ;
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد کہ “ایران کے ساتھ کشیدگی ختم ہو چکی ہے”،
امریکی کانگریس خاص طور پر ڈیموکریٹس صدر کے اختیارات کو محدود کرنے کے لیے قانونی اقدامات پر غور کر رہی ہے:
وار پاورز ریزولوشن (Joint Resolution):
ڈیموکریٹک رہنما سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں ایک مشترکہ قرارداد لانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد صدر کو پابند کرنا ہے کہ وہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف مزید کوئی فوجی کارروائی نہ کریں۔ اگرچہ ٹرمپ اسے ویٹو کر سکتے ہیں، لیکن یہ ان پر شدید سیاسی دباؤ ڈالے گا۔
فنڈز کی بندش (Power of the Purse):
کانگریس کے پاس دفاعی بجٹ کو کنٹرول کرنے کی طاقت ہے۔ ارکانِ پارلیمنٹ ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے لیے مختص فنڈز کو روکنے یا ان کے استعمال کو صرف دفاعی مقاصد تک محدود کرنے کی تجویز دے رہے ہیں تاکہ صدر اپنی مرضی سے جنگ کو دوبارہ شروع نہ کر سکیں۔
عدالتی چارہ جوئی (Legal Challenge):
انسانی حقوق کی تنظیمیں (جیسے ACLU) اور بعض قانونی ماہرین اس معاملے کو وفاقی عدالتوں میں لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ صدر کا یہ کہنا کہ “جنگ بندی کے دوران 60 دن کی قانونی مدت کی گھڑی رک جاتی ہے”، وار پاورز ایکٹ 1973 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
استفسار اور گواہی (Congressional Hearings):
سینیٹ کی مسلح خدمات کمیٹی نے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور دیگر فوجی حکام کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا میدانِ جنگ میں واقعی “دشمنی ختم” ہو گئی ہے یا صدر محض قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے یہ دعویٰ کر رہے ہیں۔قومی سلامتی کے اختیارات کی وضاحت:
ریپبلکن ارکان کے ساتھ مل کر ایک ایسا بل لانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو “قومی سلامتی کے ہنگامی اختیارات” کی نئی تعریف کرے، تاکہ مستقبل میں کوئی بھی صدر کانگریس کو بائی پاس نہ کر سکے۔
اگلا اہم موڑ:
اگر کانگریس فنڈز روکنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو صدر ٹرمپ کے لیے ایران پر دوبارہ حملوں کا حکم دینا مشکل ہو جائے گا، جس سے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو تقویت مل سکتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ‘وار پاورز ایکٹ’ کو نظر انداز کرنے کے فیصلے کے بعد، ڈیموکریٹس نے صدر کے فوجی اختیارات کو چیلنج کرنے کے لیے ایک کثیر الجہتی حکمت عملی تیار کی ہے:
1. قانون سازی اور نئی قراردادیںڈیموکریٹس سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں ایک ‘منظوری کے بغیر جنگ نہیں’ (No War Without Authorization) بل لانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد واضح کرنا ہے کہ جنگ بندی (Ceasefire) قانونی طور پر جنگ کے خاتمے کے مترادف نہیں ہے اور 60 دن کی مدت کا اطلاق برقرار رہتا ہے۔
2. دفاعی بجٹ کا استعمال (Funding Strike)سینیٹ میں اقلیتی رہنما چک شومر کی قیادت میں ڈیموکریٹس آئندہ دفاعی بجٹ میں ایسی ترامیم تجویز کر رہے ہیں جو مشرقِ وسطیٰ میں “جارحانہ فوجی کارروائیوں” کے لیے فنڈز کے استعمال کو روک دیں۔صرف ان کارروائیوں کے لیے پیسے فراہم کریں جو دفاعی نوعیت کی ہوں یا جن کی کانگریس نے باقاعدہ منظوری دی ہو۔
3. عوامی دباؤ اور تحقیقاتی سماعتیںسینیٹ کی مسلح خدمات کمیٹی میں موجود ڈیموکریٹس (جیسے جین شاہین) عوامی سماعتوں (Hearings) کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ:صدر کا دعویٰ کہ “کشیدگی ختم ہو چکی ہے” غلط ہے۔آبنائے ہرمز کی بندش اور خطے میں امریکی فوجیوں کی موجودگی اب بھی ایک فعال جنگی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔
4. عدلیہ سے رجوع ;
ڈیموکریٹک قانونی ماہرین اور ACLU جیسی تنظیمیں وفاقی عدالتوں میں پٹیشن دائر کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں تاکہ صدر کے اس موقف کو غیر قانونی قرار دیا جائے کہ جنگ بندی کی صورت میں 60 دن کی ‘کاؤنٹ ڈاؤن گھڑی’ رک جاتی ہے۔
5. انتخابی بیانیہ ;
ڈیموکریٹس اس معاملے کو 2026 کے وسط مدتی انتخابات (Midterm Elections) میں ایک اہم ایشو بنانا چاہتے ہیں، جس میں ٹرمپ کو ایک ایسے صدر کے طور پر پیش کیا جائے گا جو آئین کو پامال کر کے ملک کو ایک “غیر قانونی جنگ” میں دھکیل رہا ہے۔
پاکستان کے لیے اہمیت:
اگر ڈیموکریٹس صدر پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو صدر ٹرمپ کے لیے دوبارہ حملوں کا آپشن مشکل ہو جائے گا، جس سے پاکستان کی زیرِ قیادت “اسلام آباد ٹاکس” کے ذریعے مستقل امن معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے ,امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے پر کہ “ایران کے ساتھ مسلح کشیدگی ختم ہو چکی ہے”، امریکی عوام کا ردِعمل شدید تقسیم کا شکار ہے، تاہم حالیہ پولز کے مطابق اکثریت اس فوجی مہم کے خلاف نظر آتی ہے۔
عوامی ردِعمل کے نمایاں پہلو درج ذیل ہیں:
اکثریتی ناپسندیدگی: واشنگٹن پوسٹ-ABC-Ipsos کے تازہ ترین پول (مئی 2026) کے مطابق 61 فیصد امریکی سمجھتے ہیں کہ ایران کے خلاف فوجی طاقت کا استعمال ایک غلطی تھی، جبکہ صرف 36 فیصد اسے درست فیصلہ قرار دیتے ہیں۔
معاشی بوجھ اور مہنگائی:
امریکی عوام میں اس جنگ کے خلاف غصے کی بڑی وجہ معاشی اثرات ہیں۔ پیٹرول کی قیمتیں 4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر چکی ہیں، جس نے عام شہریوں کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔
سیاسی تقسیم:
ریپبلکنز (MAGA بیس): ٹرمپ کے حامیوں کی بڑی تعداد (تقریباً 84 فیصد) اب بھی ان کے اقدامات اور “طاقت کے ذریعے امن” کی پالیسی کی حمایت کرتی ہے۔
ڈیموکریٹس اور آزاد ووٹرز:
ڈیموکریٹس کی اکثریت (88 فیصد) اور آزاد ووٹرز (61 فیصد) صدر کے اقدامات کو غیر آئینی اور خطرناک قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں۔
قومی سلامتی پر شکوک:
پیو ریسرچ سنٹر کے مطابق، 40 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ اس جنگ نے امریکہ کو طویل مدت میں مزید غیر محفوظ بنا دیا ہے، جبکہ صرف 22 فیصد اسے ملک کے لیے بہتر سمجھتے ہیں۔احتجاجی لہر: 28 مارچ 2026 کو امریکہ کی تاریخ کا ایک بڑا سویلین احتجاج ہوا جس میں لاکھوں لوگوں نے “ایران کے ساتھ جنگ بند کرو” کے نعرے لگائے۔ لاس اینجلس اور سان فرانسسکو جیسے شہروں میں مزدوروں نے یکم مئی کو عام ہڑتال کی اپیل بھی کی تھی۔عوامی رائے عامہ کا یہ دباؤ صدر ٹرمپ کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن گیا ہے، کیونکہ امریکیوں کی اکثریت اب مشرقِ وسطیٰ میں کسی طویل مدتی فوجی مداخلت کے بجائے جلد از جلد جنگ کے خاتمے کی خواہاں ہے,
ایران اور امریکہ کے درمیان 2026 کے اس بحران پر عالمی اور مقامی سطح کی مقبول شخصیات نے کھل کر اظہارِ خیال کیا ہے، جن کا محور زیادہ تر انسانی ہمدردی اور معاشی اثرات پر ہے:
ایلون مسک (Elon Musk):
ایلون مسک نے ‘X’ پر اپنے تبصروں میں اس جنگ کو “عالمی سپلائی چین کی خودکشی” قرار دیا۔ مسک نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے نہ صرف تیل بلکہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں استعمال ہونے والے خام مال کی ترسیل رک جائے گی، جس سے عالمی معیشت دہائیوں پیچھے چلی جائے گی۔
برنی سینڈرز اور الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز (AOC): ان امریکی سیاست دانوں نے صدر ٹرمپ کے ‘وار پاورز ایکٹ’ کو نظر انداز کرنے کے فیصلے کو “آئینی بغاوت” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مزدوروں کے ٹیکس کا پیسہ غیر قانونی جنگوں میں جھونکا جا رہا ہے جبکہ عوام مہنگائی سے پس رہے ہیں۔
انجلینا جولی (Angelina Jolie):
اقوامِ متحدہ کی سابق سفیر کے طور پر انہوں نے پاکستان اور ایران کی سرحدوں پر پھنسے ہوئے مزدوروں اور پناہ گزینوں کی حالتِ زار پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ ان بے گناہ شہریوں کے لیے محفوظ راہداری کا انتظام کرے۔
مائیکل مور (Michael Moore):
مشہور فلم ساز نے اسے “تیل کی جنگ” قرار دیتے ہوئے صدر ٹرمپ پر تنقید کی کہ وہ اپنے سیاسی مفادات کے لیے امریکی فوجیوں اور عالمی امن کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔
پاکستانی شخصیات:
پاکستان میں مختلف سماجی رہنماؤں اور شوبز ستاروں نے وزیراعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کا امن مرکز بننا نہ صرف خطے بلکہ وہاں مقیم پاکستانی مزدوروں کے مستقبل کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
امریکی میڈیا اس وقت ایران کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے سے متعلق صدر ٹرمپ کے دعوے اور “وار پاورز ایکٹ” کی قانونی پیچیدگیوں پر شدید منقسم ہے، جبکہ “اسلام آباد ٹاکس” کی کوریج کے لیے بین الاقوامی صحافیوں کی بڑی تعداد پاکستان میں موجود ہے۔
امریکی میڈیا کوریج کے اہم پہلو :
صدر ٹرمپ بمقابلہ میڈیا:
صدر ٹرمپ نے CNN اور The New York Times جیسے اداروں کو “فتنہ انگیز” (Seditious) قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ان کا الزام ہے کہ یہ ادارے ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کی کامیابیوں کو کم کر کے دکھا رہے ہیں۔
قانونی بحث (War Powers Act): Politico اور NBC News جیسے ادارے اس قانونی نکتے پر بحث کر رہے ہیں کہ آیا 7 اپریل سے جاری جنگ بندی (Ceasefire) واقعی 60 دن کی آئینی گھڑی کو روک دیتی ہے یا صدر صرف منظوری سے بچنے کے لیے اسے “جنگ کا خاتمہ” قرار دے رہے ہیں۔
اسلام آباد ٹاکس کی کوریج: The Washington Post اور The New York Times نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کی ناکامی اور دوسرے دور کے تعطل کو نمایاں طور پر کور کیا ہے۔
ان رپورٹس میں پاکستان کے ثالثی کے کردار اور نائب صدر جے ڈی وینس کی موجودگی کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے۔معاشی اثرات پر توجہ: Forbes اور Reuters جیسے مالیاتی میڈیا ادارے آبنائے ہرمز کی بندش اور بحری ناکہ بندی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی سپلائی چین پر پڑنے والے اثرات کو اپنی کوریج کا مرکز بنائے ہوئے ہیں۔
سخت گیر میڈیا کا موقف:
Fox News پر تجزیہ کاروں نے صدر کے اس موقف کی تائید کی ہے کہ سیز فائر کی صورت میں 60 دن کی مدت کا اطلاق ختم ہو جاتا ہے، جبکہ MSNBC اسے صدر کی جانب سے آئین کی پامالی قرار دے رہا ہے۔
امریکی میڈیا کی یہ کوریج جہاں ایک طرف اندرونی سیاسی محاذ آرائی کو ظاہر کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف اسلام آباد کو دنیا کے اہم ترین سفارتی مرکز کے طور پر پیش کر رہی ہے جہاں دونوں حریفوں کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی آخری امیدیں وابستہ ہیں,سوشل میڈیا پر چلنے والی ہیش ٹیگ مہمات یا بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی تفصیلی رپورٹ سوشل میڈیا پر اس وقت ایران-امریکہ بحران اور انسانی حقوق کے حوالے سے کئی بڑی مہمات اور رپورٹس زیرِ گردش ہیں
:سوشل میڈیا پر ٹرینڈ ہونے والے ہیش ٹیگز#StopTheWar / #NoWarOnIran: یہ عالمی سطح پر سب سے بڑا ٹرینڈ ہے، جس میں لوگ صدر ٹرمپ اور ایرانی قیادت سے مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
#IslamabadTalks / #PeaceInIslamabad: پاکستان میں یہ ہیش ٹیگز ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہیں، جہاں صارفین وزیراعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت کی ثالثی کی کوششوں کو سراہ رہے ہیں۔
#JusticeForMigrants: یہ مہم خاص طور پر ان لاکھوں پاکستانی اور ایشیائی مزدوروں کے لیے چلائی جا رہی ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں پھنسے ہوئے ہیں یا بیروزگار ہو چکے ہیں۔#OpenHormuz: عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں میں کمی کے لیے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا مطالبہ اس ہیش ٹیگ کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس (خلاصہ)بین الاقوامی تنظیموں جیسے Amnesty International اور Human Rights Watch (HRW) نے مئی 2026 کے آغاز میں اپنی تفصیلی رپورٹس جاری کی ہیں:مزدوروں کا استحصال: رپورٹ کے مطابق بحران کی آڑ میں کئی خلیجی کمپنیوں نے پاکستانی اور بھارتی مزدوروں کی تنخواہیں روک دی ہیں اور انہیں بغیر کسی نوٹس کے فارغ کیا جا رہا ہے۔
آئینی خلاف ورزی:
انسانی حقوق کی تنظیم ACLU نے امریکی صدر کے ‘وار پاورز ایکٹ’ سے متعلق موقف کو “قانونی دھوکہ دہی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
طبی بحران: ناکہ بندی کی وجہ سے ایران میں ادویات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے، جس پر Red Cross نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر راہداری (Humanitarian Corridor) فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
شہری ہلاکتیں:
مانیٹرنگ گروپس کے مطابق حالیہ کشیدگی میں اب تک سینکڑوں عام شہری اور ماہی گیر (جن میں پاکستانی بھی شامل ہیں) اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔حکومتِ پاکستان ان رپورٹس کی روشنی میں اسلام آباد ٹاکس کے دوران مزدوروں کے حقوق اور انسانی ہمدردی کے معاملات کو ایجنڈے میں شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے,
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریسی رہنماؤں کو لکھے گئے ایک خط میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مسلح کشیدگی اب ختم ہو چکی ہے، لہٰذا جنگ کے تسلسل کے لیے مقننہ سے اجازت لینے کی قانونی مدت اب ان پر لاگو نہیں ہوتی۔ کانگریس کو بھیجے گئے خط میں صدر ٹرمپ نے موقف اپنایا کہ چونکہ 7 اپریل 2026 سے اب تک سیز فائر جاری ہے اور ایران کے ساتھ فائرنگ کا کوئی تبادلہ نہیں ہوا، اس لیے 28 فروری کو شروع ہونے والی دشمنی اب ختم ہو چکی ہے۔یہ خط ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کو 60 دن مکمل ہو چکے ہیں اور ’وار پاورز ایکٹ 1973‘ کے تحت صدر کے لیے 60 دن کے اندر کانگریس سے منظوری لینا لازمی تھا۔صدر ٹرمپ نے ایوان کے اسپیکر مائیک جانسن اور سینیٹر چک گراسلے کو لکھے گئے خط میں کہا کہ انہوں نے امریکی مفادات اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ’آپریشن ایپک فیوری‘ شروع کیا تھا۔وائٹ ہاؤس سے روانگی کے وقت صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وار پاورز ایکٹ کو مکمل طور پر غیر آئینی قرار دیا تھا۔صدر کا کہنا تھا کہ میں کانگریس سے اس فوجی مہم کی منظوری لینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا کیونکہ پہلے کبھی کسی نے ایسی اجازت نہیں مانگی، تو ہم کیوں الگ ہوں؟ مزید واضح کیا کہ بطور کمانڈر ان چیف وہ خطے میں خطرات سے نمٹنے کے لیے فوج کو ہدایات دیتے رہیں گے۔دوسری جانب ڈیموکریٹس اور قانونی ماہرین نے صدر کے اس موقف کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔سینیٹ میں اقلیتی رہنما چک شومر نے اسے ایک ’غیر قانونی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب بکواس ہے، ریپبلکن اس غیر قانونی عمل میں شریک ہیں جس سے روزانہ جانیں خطرے میں پڑ رہی ہیں اور عوام پر بوجھ بڑھ رہا ہے۔سینیٹ کی مسلح خدمات کمیٹی کی رکن جین شاہین نے کہا کہ ٹرمپ کا اعلان حقیقت کے برعکس ہے کیونکہ ہمارے ہزاروں فوجی اب بھی خطرے میں ہیں اور آبنائے ہرمز کی بندش سے قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم ’اے سی ایل یو‘ نے بھی وائٹ ہاؤس کو خط لکھ کر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ صدر ایک غیر قانونی جنگ چلا رہے ہیں۔تنظیم کے مطابق وار پاورز ریزولوشن میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ جنگ بندی کے دوران جنگ کا وقت روک دیا جائے یا اسے دوبارہ صفر سے شروع کیا جائے۔اس کے برعکس وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے سینیٹ میں گواہی دیتے ہوئے صدر کے موقف کی تائید کی کہ سیز فائر کی صورت میں 60 دن کی گھڑی رک جاتی ہے۔ اگرچہ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ دشمنی ختم ہو گئی ہے، لیکن انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ایران کی جانب سے لاحق خطرات اب بھی اہم ہیں اور پینٹاگون خطے میں اپنی فوجی پوزیشن کو ضرورت کے مطابق تبدیل کرتا رہے گا۔ایران کی جانب سے پاکستان کے ذریعے واشنگٹن پہنچائی گئی نئی تجاویز میں کئی ایسے نکات شامل ہیں جن کا مقصد سفارتی تعطل کو توڑنا ہے، تاہم ان پر امریکی اور ایرانی حکومتوں کے درمیان شدید اختلافات اب بھی موجود ہیں ,
نئی تجاویزکے اہم ترین “خفیہ” نکات درج ذیل ہیں:
آبنائے ہرمز کی جزوی بحالی:
ایران نے پیشکش کی ہے کہ اگر امریکہ بحری ناکہ بندی ختم کر دے تو تہران عالمی تیل کی سپلائی کے لیے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھول دے گا
جوہری پروگرام پر ‘فریز’:
ایرانی تجویز میں یہ نکتہ شامل ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو موجودہ سطح پر منجمد (Freeze) کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اسے معاشی ضمانتیں فراہم کی جائیں
قیدیوں کا تبادلہ اور منجمد اثاثے:
تہران نے خیر سگالی کے طور پر قیدیوں کے تبادلے اور بیرونِ ملک منجمد اپنے مالی اثاثوں تک رسائی کی شرط رکھی ہے
علاقائی جنگ بندی کی ضمانت:
پاکستان کے ذریعے دی گئی ان تجاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اپنے حلیف گروہوں کو امریکی تنصیبات پر حملوں سے روکے گا، اگر واشنگٹن ایران کے خلاف جارحانہ کارروائیاں بند کرنے کا عہد کرے
اسلام آباد امن فریم ورک:
ایران نے تجویز دی ہے کہ مذاکرات کے اگلے تمام ادوار اسلام آباد میں ہی ہوں تاکہ پاکستان ایک ضامن (Guarantor) کے طور پر موجود رہے
امریکی ردِعمل: صدر ٹرمپ نے ان تجاویز کو “نا کافی” قرار دیا ہے کیونکہ ان میں جوہری پروگرام کے مکمل خاتمے کی واضح تاریخ موجود نہیں ہے
ایران اور امریکہ کے درمیان 2026 میں شروع ہونے والی اس مسلح کشیدگی کے پیچھے کئی گہرے سیاسی، تزویراتی (strategic) اور معیشی حقائق پوشیدہ ہیں، جو اس تنازع کو محض ایک سرحدی جھڑپ سے بڑھ کر عالمی بحران بناتے ہیں:
1. جوہری پروگرام اور ‘ریڈ لائن;
سب سے بڑا حقیقت پسندانہ محرک ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے انتہائی قریب پہنچ چکا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق، امریکہ ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے، کیونکہ ان کے خیال میں تہران یہ ہتھیار استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔
2. آبنائے ہرمز اور عالمی معیشت پر گرفت;
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین ‘تیل کی گزرگاہ’ ہے۔ ایران نے اس پر کنٹرول حاصل کر کے عالمی معیشت کو یرغمال بنانے کی کوشش کی ہے۔ امریکہ اسٹریٹجک طور پر اس راستے کو کھلا رکھنا چاہتا ہے تاکہ تیل کی قیمتیں قابو میں رہیں، جبکہ ایران اسے اپنی دفاعی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
3. آپریشن ایپک فیوری (Operation Epic Fury);
صدر ٹرمپ نے اس فوجی مہم کو ایک باقاعدہ نام دے کر یہ ظاہر کیا کہ یہ کوئی حادثاتی جھڑپ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی فوجی حکمت عملی ہے جس کا مقصد ایرانی عسکری صلاحیتوں کو مفلوج کرنا تھا۔
4. وار پاورز ایکٹ اور اندرونی امریکی سیاست;
کشیدگی کے پیچھے ایک اہم حقیقت صدر ٹرمپ کی اپنے ملک کے اندرونی آئینی اختیارات کی جنگ ہے۔ ‘وار پاورز ایکٹ’ کے تحت کانگریس سے اجازت لینے سے بچنے کے لیے وہ جنگ بندی (Ceasefire) کو “جنگ کا خاتمہ” قرار دے رہے ہیں تاکہ وہ کمانڈر ان چیف کی حیثیت سے آزادانہ فیصلے کر سکیں۔
5. اسرائیل کا کلیدی کردار;
اسرائیل اس کشیدگی میں ایک فعال فریق ہے۔ 28 فروری کو ہونے والے مشترکہ حملوں سے لے کر اب تک اسرائیل ایران کی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے امریکہ پر دباؤ بڑھا رہا ہے، جس کی وجہ سے سفارتی تعطل پیدا ہوا۔
6. پاکستان کی ثالثی اور علاقائی استحکام;
ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ دونوں ممالک براہِ راست بات چیت کے بجائے پاکستان کو ایک “بفر زون” یا سفارتی پل کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات اس لیے اہم ہیں کیونکہ دونوں فریقین ایک بڑی تباہ کن جنگ سے بچنے کے لیے کوئی درمیانی راستہ تلاش کرنا چاہتے ہیں۔
ان حقائق کی روشنی میں، یہ تنازع صرف دو ملکوں کی دشمنی نہیں بلکہ عالمی توانائی، ایٹمی عدم پھیلاؤ اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کی ایک پیچیدہ جنگ بن چکا ہے۔ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع میں پاکستان کی ثالثی ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی ہے,اگلے 48 گھنٹوں کے دوران سفارتی محاذ پر اہم سرگرمیاں متوقع ہیں، کیونکہ ایران نے باقاعدہ طور پر اپنی نئی تجاویز کا مسودہ پاکستان کے حوالے کر دیا ہے۔