اسلام آباد – 12 مئی 2026 (ٹی این ایس):چین-پاکستان نیو انرجی وہیکل ٹریننگ سینٹر کا اسلام آباد میں افتتاح پاکستانی نوجوانوں کو جدید تکنیکی مہارتیں فراہم کی جائیں گی منصوبہ پاک-چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر شروع چین-پاکستان نیو انرجی وہیکل (این ای وی) ہائی اسکلڈ ٹیلنٹ ٹریننگ سینٹر آف ایکسی لینس کا باضابطہ افتتاح کیا گیا اور اسے عملی طور پر فعال کر دیا گیا۔ یہ منصوبہ چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر صنعت اور تعلیم کے انضمام، ادارہ جاتی و صنعتی تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کی جانب ایک اور اہم “چھوٹا مگر خوبصورت” تعاون قرار دیا جا رہا ہے۔
افتتاحی تقریب میں دونوں ممالک کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی جن میں مہمانِ خصوصی وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان، نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل محمد عامر جان، پنجاب ٹیویٹا کے چیئرپرسن بریگیڈیئر سجاد محمود کھوکھر، نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی ٹیکنالوجی کے اسکلز ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ڈین ندیم خالد، ہونان آٹو موٹیو انجینئرنگ ووکیشنل یونیورسٹی کے صدر ین وانجیان، ایم جی موٹرز پاکستان کے نارتھ ریجن سروس ڈائریکٹر رافع، آئی ٹی ایم سی ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر وانگ پینگ، یو این آئی انٹرنیشنل کے بانی و سی ای او میکس ما، چائنا میڈیا گروپ کے سی سی ٹی وی نیوز کی سربراہ سوئی رو، سی جی ٹی این اردو کے ڈائریکٹر وانگ لی سمیت چین-پاکستان دوستی کے متعدد حامی شریک تھے۔
پاکستان میں نیو انرجی وہیکل مارکیٹ اس وقت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ چینی برانڈز خصوصاً ایم جی موٹرز کی پاکستان میں بڑھتی ہوئی موجودگی کے باعث الیکٹرک اور نیو انرجی گاڑیوں کی مانگ اور استعمال میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اس تیز رفتار ترقی کے نتیجے میں گاڑیوں کی مرمت، تشخیص اور بعد از فروخت خدمات کے شعبوں میں ہنر مند تکنیکی ماہرین کی شدید کمی پیدا ہو گئی ہے، جو اس صنعت کی پائیدار ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ چین-پاکستان NEV ہائی اسکلڈ ٹیلنٹ ٹریننگ سینٹر آف ایکسی لینس کا قیام اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے عمل میں لایا گیا ہے، جہاں چین کے جدید ووکیشنل ایجوکیشن ماڈل کی مدد سے مقامی سطح پر تربیتی پلیٹ فارم قائم کیا گیا ہے۔
چینی اور پاکستانی اداروں کے مشترکہ تعاون سے قائم ہونے والا یہ مرکز نیو انرجی وہیکل مینٹیننس، ڈائگناسٹکس اور متعلقہ ڈیجیٹل مہارتوں کے لیے چین کے جدید تعلیمی معیار متعارف کرائے گا۔ اس میں پیشہ ورانہ نصاب، مقامی اساتذہ کی تربیت، جدید تدریسی آلات، امتحانی و اسیسمنٹ سافٹ ویئر اور ووکیشنل سرٹیفکیشن سسٹمز شامل ہوں گے۔
یہ مرکز پاکستانی نوجوانوں کو جدید تکنیکی مہارتوں کی منظم تربیت فراہم کرے گا جبکہ پاکستان میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت کام کرنے والی چینی آٹو موٹیو کمپنیوں کو اعلیٰ معیار کے تکنیکی ماہرین بھی فراہم کرے گا۔
یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان میں نیو انرجی وہیکل شعبے کی ووکیشنل تعلیم میں موجود خلا کو پُر کرے گا بلکہ چین اور پاکستان کے عوام کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ اس کے ذریعے پاکستانی نوجوانوں کے لیے معیاری روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور مقامی آٹو موٹیو صنعت کی جدید، ماحول دوست اور پائیدار ترقی کو فروغ ملے گا۔
اس منصوبے کے مرکزی شراکت دار یو این آئی انٹرنیشنل نے کہا کہ “چین کی کہانی کو مؤثر انداز میں دنیا تک پہنچانا، چینی ثقافت کو فروغ دینا اور چین کی ووکیشنل تعلیم کو عظیم سفارتی وژن کے لیے بروئے کار لانا ہماری چین-پاکستان ٹیم کا مشترکہ مشن، ذمہ داری اور عزم ہے۔ ہم ‘دل سے خدمت، مستقبل کی خدمت’ کے فلسفے کے تحت چین-پاکستان ووکیشنل ایجوکیشن تعاون کو مزید فروغ دیتے رہیں گے تاکہ دونوں ممالک کی ہمہ موسمی اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی توانائی فراہم کی جا سکے۔”













