اسلام آباد (ٹی این ایس) پاکستان بھر سے غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی کاعمل جلد
مِکمل ہونا چاہیے تاکہ مقامی سہولت کاروں کا نیٹ ورک توڑا جا سکے حکومتِ نے “غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی کے پلان” کے اگلے مراحل کے تحت مقررہ ڈیڈ لائنز سے افغان باشندوں کی ملک بدری کے عمل کو تیز کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں ہیومن رائٹس واچ کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، پاکستان نے مختلف شہروں سے دستاویزی اور غیر دستاویزی افغان شہریوں کی گرفتاریاں اور اخراج شروع کر دیا ہے۔
صرف سال 2026 کے ابتدائی مہینوں میں ہی 146,000 سے زائد افغان شہریوں کو پاکستان سے واپس بھیجا جا چکا ہے۔
اس اچانک تیزی اور مقررہ تاریخوں سے پہلے کارروائی کی بنیادی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں:
1۔ مقررہ ڈیڈ لائنز اور ائر فورسڈ ایکشن (Forced Returns)حکومتی پالیسی کے مطابق مختلف کیٹیگریز کے لیے ڈیڈ لائنز طے تھیں، تاہم سیکیورٹی نافذ کرنے والے اداروں نے ہوم منسٹری کی ہدایات پر پہلے ہی کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے:
افغان سٹیزن کارڈ (ACC) ہولڈرز:
اپریل 2025 کی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد ان کے خلاف کارروائیاں جاری تھیں، لیکن مئی 2026 میں ان کے اخراج کی رفتار کو مزید تیز کر دیا گیا ہے۔
پروف آف رجسٹریشن (PoR) کارڈ ہولڈرز:
حکومت نے پی او آر کارڈ ہولڈرز کے لیے قانونی طور پر 30 جون 2025 کی آخری تاریخ دی تھی اور بعد میں اسے ستمبر تک توسیع دی گئی، لیکن زمین پر رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ مقررہ فریم ورک سے قبل ہی ان کے خلاف بھی انتظامی کارروائیاں شروع ہو چکی ہیں۔
تیسرے ملک منتقلی والے افغان:
ایسے افغان باشندے جن کی مغربی ممالک (جیسے امریکہ یا کینیڈا) میں منتقلی کے کیسز زیرِ التوا تھے اور انہیں مارچ/اپریل تک کی مہلت دی گئی تھی، انہیں بھی اب ہولڈنگ سینٹرز منتقل کر کے ڈیپورٹ کیا جا رہا ہے۔
2۔ حالیہ تیزی کی بنیادی وجوہات;
پاکستان کی جانب سے اس عمل میں اچانک تیزی لانے کی تزویراتی اور داخلی وجوہات درج ذیل ہیں:
بارڈر سیکیورٹی اور دہشت گردی میں اضافہ:
حکومتِ پاکستان کا موقف ہے کہ ملک میں ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملوں (بشمول خودکش دھماکوں) کے تانے بانے سرحد پار افغانستان سے ملتے ہیں، اور افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی (Fitna-al-Khawarij) کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر پاکستان نے یہ سخت گیر موقف اپنایا ہے
تورخم بارڈر کا دوبارہ کھلنا:
31 مارچ کو تورخم بارڈر کراسنگ کے باقاعدہ کھلنے کے بعد سے روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں افغان شہریوں کو ٹرکوں کے ذریعے واپس بھیجا جا رہا ہے۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق، ملک بھر میں 38 سے زائد ٹرانزٹ اور ہولڈنگ پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں تاکہ واپسی کے عمل کو سنبھالا جا سکے۔
3۔ عدالتی مداخلت اور اسٹے آرڈرز (Court Stays)حکومت کی اس تیز رفتار مہم کے خلاف پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے انسانی بنیادوں پر کچھ ریلیف بھی جاری کیے ہیں:
پشاور ہائی کورٹ : عدالتِ عالیہ نے حال ہی میں کینیڈا اور دیگر ممالک میں سیاسی پناہ کے منتظر افغان بہن بھائیوں، افغان موسیقاروں اور ٹرانس جینڈر خواتین کو زبردستی ڈیپورٹ کرنے کے خلاف حکمِ امتناع جاری کیا ہے۔
سندھ ہائی کورٹ اور آزاد کشمیر عدالتیں: ان عدالتوں نے بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پابند کیا ہے کہ وہ جائز دستاویزات رکھنے والے یا پناہ کے عمل سے گزرنے والے افغان باشندوں کو بغیر کسی قانونی چارہ جوئی کے ہراساں یا ڈیپورٹ نہ کریں۔
پاکستان میں اس وقت لاکھوں افغان مہاجرین مقیم ہیں جنہیں تین بنیادی کیٹیگریز میں تقسیم کیا جاتا ہے:
رجسٹرڈ مہاجرین (پی او آر کارڈ ہولڈرز)، افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے افراد، اور غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہری۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے غیر قانونی تارکینِ وطن کی ملک بدری کا سلسلہ جاری ہے
مہاجرین کی آبادی اور رجسٹریشن ;
پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو کئی دہائیوں سے سب سے زیادہ افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق:مجموعی تعداد:
پاکستان میں مجموعی طور پر تقریباً 25 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین رہائش پذیر ہیں۔
رجسٹرڈ مہاجرین: ان میں سے 14 لاکھ سے زائد افراد کے پاس ‘پروف آف رجسٹریشن’ (PoR) کارڈز ہیں۔
افغان سٹیزن کارڈ: اس کے علاوہ تقریباً 8 لاکھ افراد کے پاس افغان سٹیزن کارڈز موجود ہیں۔
مقام: ان مہاجرین کی اکثریت خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے صوبوں میں قائم کیمپوں اور شہروں میں آباد ہے۔
حالیہ پالیسیاں اور بے دخلی کا عمل;
حکومتِ پاکستان نے ملکی سلامتی، معاشی بوجھ اور غیر قانونی تارکینِ وطن کی موجودگی کے باعث سخت پالیسیاں اپنائی ہیں:
غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو نکالنے کا عمل وقتاً فوقتاً جاری ہے، جس میں افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز اور بغیر دستاویزات والے افراد کو واپس بھیجا جا رہا ہے۔
یہ مہم دو مرحلوں میں چلائی گئی جس کے تحت لاکھوں افغان مہاجرین اپنے وطن واپس جا چکے ہیں۔
تاہم، باقاعدہ رجسٹرڈ (PoR کارڈ ہولڈرز) مہاجرین کی قانونی حیثیت برقرار ہے اور ان کے قیام کی مدت میں بین الاقوامی اداروں کی مشاورت سے توسیع کی جاتی رہی ہے۔
سماجی و معاشی صورتحال;
پاکستان میں افغان مہاجرین کی دوسری اور تیسری نسل جوان ہو چکی ہے۔ روزگار کے حصول اور تعلیم کی سطح پر انہیں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ بعض اوقات غیر قانونی رہائش کے باعث انہیں گرفتاری اور ہراسانی کے خدشات بھی درپیش ہوتے ہیں,حکومتِ پاکستان اور عسکری قیادت کے حالیہ سرکاری بیانات اور انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق، پاکستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملوں (بشمول خودکش دھماکوں) کے تانے بانے واضح طور پر سرحد پار افغانستان سے ملتے ہیں۔
انسدادِ دہشت گردی کے محکموں (CTD) اور نیکٹا (NACTA) کی تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ پاکستان میں خونریزی کرنے والے دہشت گرد گروہ، خصوصاً تحریک طالبان پاکستان (TTP/فتنہ الخوارج)، افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے بیس ائیریا کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
اس حساس معاملے کی حالیہ تفصیلات اور پاکستان کا سرکاری موقف درج ذیل ہے:
1۔ خودکش دھماکوں میں افغان شہریوں کا ملوث ہونا;
سیکیورٹی فورسز کی جانب سے جاری کردہ تحقیقاتی رپورٹس سے یہ حقائق سامنے آئے ہیں:
افغان خودکش حملہ آور:
بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ہونے والے کئی حالیہ خودکش حملوں میں ملوث دہشت گردوں کی شناخت افغان شہریوں کے طور پر ہوئی ہے، جو غیر قانونی طور پر سرحد عبور کر کے پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔
جدید ترین امریکی اسلحہ کا استعمال:
دہشت گردوں کے قبضے سے ملنے والا اسلحہ وہی ہے جو امریکی افواج افغانستان سے انخلا کے وقت چھوڑ گئی تھیں، اور یہ اسلحہ اب سرحد پار سے پاکستان اسمگل کیا جا رہا ہے۔
2۔ کابل انٹرم گورنمنٹ (افغان طالبان) کا کردار اور پاکستان کا موقف;
وزارتِ خارجہ (MoFA) کی ترجمان کے مطابق، پاکستان نے متعدد بار افغان عبوری حکومت کے سامنے یہ معاملہ اٹھایا ہے:
دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی:
پاکستان کا موقف ہے کہ افغان طالبان دوحہ معاہدے کے تحت اس بات کے پابند ہیں کہ وہ اپنی سر زمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے، لیکن وہ ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
محفوظ پناہ گاہیں اور فنڈنگ:
انٹیلیجنس رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ فتنہ الخوارج کے اہم کمانڈرز نہ صرف افغانستان میں آزادانہ گھوم رہے ہیں بلکہ انہیں وہاں محفوظ ٹھکانے اور مالی معاونت بھی حاصل ہے۔
3۔ پاکستان کے جوابی اور حفاظتی اقدامات;
اس سرحد پار خطرے سے نمٹنے کے لیے پاکستان نے اپنی حکمتِ عملی میں واضح تبدیلیاں کی ہیں:ٹائیٹ بارڈر مینجمنٹ (سخت سرحدی نظام): تورخم اور چمن بارڈر سمیت تمام کراسنگ پوائنٹس پر “ون ڈاکومنٹ ریجیم” (صرف پاسپورٹ اور ویزا) کو سختی سے نافذ کر دیا گیا ہے، اور بغیر دستاویزات کے آمد و رفت مکمل بند ہے۔
سرجیکل اسٹرائیکس اور انٹیلی جنس آپریشنز:
پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے سرحد کے قریبی علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) تیز کر دیے ہیں، اور عسکری قیادت نے واضح کیا ہے کہ اگر افغان سر زمین سے حملے نہ رکے تو پاکستان اپنی دفاعی حدود کے اندر رہتے ہوئے سرحد پار دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ (FO) اور انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ISPR) کی حالیہ آفیشل انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق، بنوں کے فتح خیل پولیس پوسٹ اور اسلام آباد کی جامع مسجد پر ہونے والے حالیہ تباہ کن خودکش حملوں کے تانے بانے براہِ راست افغانستان میں مقیم خوارج کی کمانڈ اور ماسٹر مائنڈز سے ملتے ہیں۔ ان حملوں کے بعد پاکستان نے شواہد کی روشنی میں افغان ناظم الامور کو دفترِ خارجہ طلب کر کے سخت ترین سفارتی احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔
حالیہ بڑے حملوں کی سیکیورٹی فورسز کی تفصیلی تحقیقاتی رپورٹس کے اہم مندرجات درج ذیل ہیں:
1۔ بنوں (فتح خیل) خودکش حملہ کیس کی رپورٹ ;9 مئی 2026 کو بنوں کے علاقے فتح خیل میں پولیس پوسٹ پر ایک بارود سے بھری گاڑی (VBIED) کے ذریعے خودکش حملہ کیا گیا، جس میں 15 پولیس اہلکار شہید ہوئے۔
ماسٹر مائنڈ افغان سر زمین پر: ٹیکنیکل انٹیلیجنس اور جیو فینسنگ کی رپورٹ سے ثابت ہوا ہے کہ اس حملے کی مکمل منصوبہ بندی اور فنڈنگ افغانستان میں مقیم “فتنہ الخوارج” (ٹی ٹی پی) کے کمانڈرز نے کی تھی۔
سرحد پار سے گاڑی کی منتقلی: گاڑی اور دھماکہ خیز مواد کو سرحد پار موجود محفوظ پناہ گاہوں سے منظم نیٹ ورک کے ذریعے بنوں منتقل کیا گیا تھا۔
2۔ اسلام آباد مسجد خودکش حملہ کیس کی رپورٹ;
6 فروری 2026 کو اسلام آباد کے علاقے ترلائی کلاں میں واقع “خدیجہ الکبریٰ” مسجد پر جمعہ کی نماز کے دوران ایک بڑا خودکش حملہ ہوا، جس میں 31 نمازی شہید اور 169 سے زائد زخمی ہوئے۔افغان داعش کا نیٹ ورک: پاک فوج اور انسدادِ دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ (CTD) کی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، اس حملے کا ماسٹر مائنڈ افغانستان میں موجود داعش (ISKP) کا نیٹ ورک تھا۔
تربیت اور برین واشنگ:
آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا کہ حملہ آور (جس کی شناخت یاسر خان شنواری کے نام سے ہوئی) کی ٹریننگ، نظریاتی برین واشنگ اور دھماکہ خیز مواد کی فراہمی افغانستان کے اندر کی گئی تھی۔
سہولت کاروں کی گرفتاری:
سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (IBO) کے دوران وفاقی دارالحکومت سے اس حملے کے 4 مقامی سہولت کاروں (Facilitators) کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر کے ان کا نیٹ ورک توڑ دیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے چونکا دینے والے انکشافات;
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اپنی حالیہ بریفنگ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مشترکہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے اہم تزویراتی حقائق واضح کیے ہیں:
حملہ آوروں کی شہریت: حالیہ ہائی امپیکٹ (High-impact) دہشت گردانہ کارروائیوں اور خودکش دھماکوں میں ملوث زیادہ تر دہشت گردوں کی لاشوں کے ڈی این اے اور دستاویزات سے ثابت ہوا ہے کہ وہ افغان شہری تھے۔
افغانستان “مرکزی مرکز” (Centre Point):
آئی ایس پی آر کے مطابق، شام اور دیگر ممالک سے لگ بھگ 2,500 غیر ملکی دہشت گرد افغانستان منتقل ہوئے ہیں، جہاں افغان طالبان کی سرپرستی میں ان کی تنظیم نو کی جا رہی ہے۔آپریشن “غضبِ لاحق”: پاکستان نے سرحد پار سے بڑھتی ہوئی اس جارحیت کے جواب میں اپنی دفاعی حدود کے تحت افغان سرحد کے قریبی علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی کارروائیوں کا آغاز کیا ہے۔کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) اور حساس اداروں کی جانب سے حالیہ حملوں کے گرفتار سہولت کاروں اور دہشت گردوں کے چونکا دینے والے اعترافی بیانات کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ اعترافی بیانات سے واضح ہوا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا نیٹ ورک کس طرح سرحد پار افغانستان سے مینوئل اور ڈیجیٹل دونوں طریقوں سے آپریٹ کیا جا رہا ہے۔
گرفتار سہولت کاروں اور حملہ آوروں کے باقاعدہ اعترافی بیانات کے اہم مندرجات درج ذیل ہیں:
1۔ اسلام آباد مسجد خودکش حملے کے سہولت کار کا اعتراف;
اسلام آباد کے علاقے ترلائی کلاں میں مسجد پر ہونے والے حملے کے سہولت کار ساجد اللہ نے جج اور تفتیشی ٹیم کے سامنے اعترافِ جرم کرتے ہوئے بتایا:افغانستان سے کمانڈ: “ہمیں اس حملے کی ہدایات براہِ راست افغانستان میں مقیم خوارج (ٹی ٹی پی) کے انٹیلیجنس چیف سعید الرحمن عرف داد اللہ کی طرف سے مل رہی تھیں”۔ٹیلی گرام کا استعمال: “داد اللہ پاکستان میں موجود اپنے کارندوں اور ہم سے رابطے کے لیے ٹیلی گرام (Telegram) ایپ استعمال کرتا تھا تاکہ سیکیورٹی ادارے ٹریس نہ کر سکیں”۔
حملہ آور کی منتقلی: “افغان خودکش بمبار (جس کا تعلق ننگرہار، افغانستان کے شنواری قبیلے سے تھا) کو بارڈر پار کروا کر لایا گیا اور میں نے اسے اسلام آباد کے مضافات میں ایک خفیہ محفوظ ٹھکانے (Safehouse) میں ٹھہرایا”۔
خودکش جیکٹ کی فراہمی: “حملے کے روز خودکش جیکٹ پشاور کے اخون بابا قبرستان سے حاصل کی گئی اور میں نے خود جا کر اسے بمبار کے حوالے کی تھی”۔
2۔ بلوچستان (کچلاک) سے گرفتار افغان دہشت گرد (حبیب اللہ) کا اعترافی بیان;
حالیہ دنوں میں بلوچستان کے علاقے کچلاک سے سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں دوبارہ گرفتار ہونے والے افغان شہری حبیب اللہ نے ویڈیو بیان میں سرحد پار گٹھ جوڑ بے نقاب کیا ہے:دوبارہ گرفتاری اور نیٹ ورک: حبیب اللہ کو پہلے شک کی بنیاد پر پکڑا گیا تھا لیکن شہری سمجھ کر چھوڑ دیا گیا، دوبارہ گرفتاری پر ٹھوس شواہد سامنے آئے۔
ٹی ٹی پی اور افغان طالبان گٹھ جوڑ:
ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ پاکستان میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث رہا ہے اور وہ ٹی ٹی پی اور افغان طالبان دونوں کے مشترکہ نیٹ ورک کے لیے کام کر رہا تھا,
کمانڈر کا نام: اس نے انکشاف کیا کہ ان کا پورا گروپ افغانستان کے اندر ایک عسکری کمانڈر، جس کا کوڈ نیم “مسلم” کے ماتحت کام کرتا ہے اور اس کا اپنا بھائی بھی اسی دہشت گرد نیٹ ورک کا حصہ ہے۔
3۔ چمن بارڈر سے گرفتار ہونے والے افغان دہشت گردوں کے بیانات;
اپریل اور مئی 2026 کے دوران چمن بارڈر کے راستے قندھار سے پاکستان میں داخل ہونے والے فتنہ الخوارج کے کارندوں نے بیانات ریکارڈ کروائے ہیں:
افغانستان میں ٹریننگ کیمپس: “ہمیں افغانستان کے اندر قائم خصوصی عسکری کیمپوں (جیسے شونکرا کیمپ) میں مولوی صادق اور کمانڈر رشید جیسے ٹرینرز نے پاکستان کے خلاف جنگ کی باقاعدہ تربیت دی”۔ہدف اور ٹاسک:
اعتراف کے مطابق، انہیں 10، 10 افراد کے گروپوں کی شکل میں بارڈر پار کروایا جاتا ہے اور ان کا واحد ہدف پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں، پولیس چوکیاں اور حساس تنصیبات پر گھات لگا کر حملے کرنا ہے۔
اعترافی بیانات پر پاکستان کا سفارتی ایکشن ;دفترِ خارجہ کے مطابق، ان تمام اعترافی بیانات، ڈی این اے رپورٹس اور جیو فینسنگ کے پختہ شواہد کو ایک باقاعدہ ڈوزئیر کی شکل میں افغان حکومت کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اگر افغان سر زمین پر موجود ان ماسٹر مائنڈز اور کمانڈرز کے خلاف فوری کارروائی نہ کی گئی، تو پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع میں کسی بھی حد تک جانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) اور انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں (ATC) نے مئی 2026 تک فتنہ الخوارج (TTP)، بی ایل اے، اور بیرونی فنڈڈ نیٹ ورکس کے سہولت کاروں کو کڑی سزائیں سنانے اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کا گلا گھونٹنے کے لیے ملک گیر کریک ڈاؤن تیز ترین کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، موثر تفتیش اور پختہ شواہد کی بدولت صرف صوبہ خیبر پختونخوا کی عدالتوں سے اب تک 287 دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو مجرم قرار دے کر سخت سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔حالیہ عدالتی فیصلوں اور ٹیرا فنانسنگ کے خلاف کیے گئے آپریشنز کی مخصوص تفصیلات درج ذیل ہیں:
1۔ گرفتار سہولت کاروں کو دی جانے والی حالیہ عدالتی سزائیںانسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں (ATC) نے سہولت کاروں (Facilitators) کو سخت ترین سزائیں دے کر واضح پیغام دیا ہے کہ دہشت گردوں کی کسی بھی قسم کی مدد ناقابلِ معافی جرم ہے:
سزائے موت اور عمر قید: انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت دہشت گردوں کو پناہ دینے، ریکی (Requie) کرنے اور اسلحہ یا بارود پہنچانے والے 5 ہائی پروفائل سہولت کاروں کو حال ہی میں عمر قید اور ضبطگیِ جائیداد کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔پراسیکیوشن میں بہتری:
سندھ اور پنجاب حکومت کی جانب سے سی ٹی ڈی کیسز کے لیے وقف کردہ خصوصی پراسیکیوٹرز
(Dedicated Prosecutors) کی تعیناتی کے بعد سزا دلوانے کی شرح (Conviction Rate) میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، جس کے تحت کراچی اور حیدرآباد میں بھی متعدد مجرموں کو سزائیں دی گئیں۔
ڈیجیٹل دہشت گردی کے خلاف سخت ایکشن:
جنوری 2026 میں اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ریاستی اداروں کے خلاف ڈیجیٹل دہشت گردی، نفرت انگیزی پھیلانے اور نیٹ ورکس کی آن لائن سہولت کاری کے جرم میں ملوث مفرور ملزمان کو دو دو بار عمر قید کی سزائیں سنائیں۔
2۔ دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خلاف سی ٹی ڈی کا کریک ڈاؤندہشت گردی کی جڑ کاٹنے کے لیے فنانشل انویسٹی گیشن یونٹس (FIU) کے اشتراک سے بڑے پیمانے پر آپریشنز جاری ہیں:بڑے پیمانے پر انٹیلی جنس آپریشنز (IBOs): سی ٹی ڈی پنجاب نے لاہور، گوجرانوالہ، سرگودھا اور ساہیوال سمیت مختلف اضلاع میں حال ہی میں 286 سے زائد آپریشنز کیے، جن میں مالی معاونت فراہم کرنے والے اور فنڈز اکٹھا کرنے والے نیٹ ورکس کو گرفتار کیا گیا۔
غیر قانونی فنڈنگ اور این جی اوز کی مانیٹرنگ:
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کے پائیدار فریم ورک اور نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (NACTA) کے تحت ملک بھر میں مشکوک ٹرانزیکشنز کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔
کالعدم تنظیموں کی فنڈنگ کے لیے استعمال ہونے والی درجنوں غیر فعال یا مشکوک فلاحی تنظیموں (NGOs) کے اثاثے اور بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے ہیں۔
فورتھ شیڈول کے تحت بینک اکاؤنٹس بلاک:
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے تعاون سے فورتھ شیڈول (Fourth Schedule) میں شامل 2,000 سے زائد مشکوک افراد اور ان کے نیٹ ورکس کے اکاؤنٹس کو بلاک کر کے ان کی ہر قسم کی مالیاتی منتقلی روک دی گئی ہے تاکہ وہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے رقم نہ بھیج سکیں۔
غیر ملکی فنڈنگ گٹھ جوڑ کا خاتمہ:
سی ٹی ڈی نے بہاولپور اور دیگر علاقوں سے ایسے گروہ بھی گرفتار کیے ہیں جو سرحد پار اور بھارتی ایجنسیوں ‘را’ (RAW) سے فیس بک آئی ڈیز اور کرپٹو کرنسی/حوالہ ہنڈی کے ذریعے بھاری فنڈز حاصل کر رہے تھے۔
3۔ فنڈز اور اثاثوں کی حکومتی تحویل میں ضبطگی;
عدالتی احکامات کے تحت، دہشت گردی کے مقاصد اور ٹیرر فنانسنگ کے لیے استعمال ہونے والی تمام منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادوں کو قانون کے مطابق بحقِ سرکار (ریاست کے حق میں) ضبط کیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی اداروں کو جدید ترین اینٹی ڈرون یونٹس، اے آئی بیسڈ سافٹ ویئر اور جی پی ایس مانیٹرنگ آلات سے لیس کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے اربوں روپے کے اضافی فنڈز جاری کیے جا رہے ہیں تاکہ اس نیٹ ورک کو مستقل طور پر کچلا جا سکے۔
پاکستان اور عسکری قیادت کا اصولی موقف یہی ہے کہ افغان طالبان فروری 2020 میں طے پانے والے “دوحہ معاہدے” اور بین الاقوامی قوانین کے تحت اس بات کے پابند ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں، لیکن وہ ٹی ٹی پی (فتنہ الخوارج) کو لگام دینے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔اس اہم سفارتی اور تزویراتی (Strategic) معاملے پر پاکستان کے موقف اور زمینی حقائق کے بنیادی نکات مندرجہ ذیل ہیں:
1۔ دوحہ معاہدے اور بین الاقوامی وعدوں کی خلاف ورزی;
دفترِ خارجہ پاکستان مسلسل عالمی برادری اور افغان عبوری حکومت پر یہ واضح کر رہا ہے کہ:حتمی ذمہ داری کابل پر ہے: افغان طالبان نے دنیا (خصوصاً امریکہ اور ہمسایہ ممالک) سے وعدہ کیا تھا کہ افغان مٹی دہشت گردی کے لیے بیس ایریا نہیں بنے گی۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹس کی توثیق:
اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیموں کی رپورٹس بھی پاکستان کے اس موقف کی تائید کرتی ہیں کہ کابل میں حکومت کی تبدیلی کے بعد سے تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کو افغانستان میں زیادہ آزادی، جدید ترین امریکی اسلحہ اور محفوظ ٹھکانے میسر آئے ہیں۔
2۔ پاکستان کا سفارتی اور عسکری صبر جواب دے گیا;
ماضی میں پاکستان نے افغان طالبان کی ثالثی میں ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کا راستہ بھی اپنانے کی کوشش کی، لیکن خوارج نے اس مہلت کا فائدہ اٹھا کر پاکستان میں دوبارہ نیٹ ورک قائم کیا اور حملے تیز کر دیے۔
حالیہ سخت موقف: اب پاکستان نے “مذاکرات کا باب مکمل بند” کر دیا ہے اور عسکری قیادت نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردوں سے صرف بندوق کی زبان میں بات ہوگی۔
سرجیکل اسٹرائیکس کا حق:
پاکستان نے یہ تزویراتی لائن کھینچ دی ہے کہ اگر افغان حکومت اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے کیمپوں کو ختم نہیں کرتی، تو پاکستان بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی دفاعی حدود میں رہتے ہوئے سرحد پار ان ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا پورا حق محفوظ رکھتا ہے۔
3۔ دباؤ بڑھانے کے لیے دیگر اقداما;
تصرف سفارتی بیانات تک محدود رہنے کے بجائے پاکستان نے افغان حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے کثیر الجہتی حکمتِ عملی اپنائی ہے:
غیر قانونی افغان باشندوں کا اخراج:
ملک بھر سے غیر قانونی تارکینِ وطن کی واپسی کے عمل کو تیز کیا گیا ہے تاکہ مقامی سہولت کاروں کا نیٹ ورک توڑا جا سکے۔
سخت سرحدی قوانین , بارڈر کراسنگز پر بغیر ویزا اور پاسپورٹ کے آمد و رفت کو مکمل طور پر ممنوع قرار دے دیا گیا ہے تاکہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکی جا سکے۔












