اسلام آباد (ٹی این ایس) ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے اور مذاکراتی عمل میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اسلام آباد کی سفارتی کوششوں پر تشکر کا اظہارِ کیا ہے۔ ایرانی صدر کا یہ دورہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچے ,جہاں صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے ان کا پُرتپاک استقبال کیا۔مزید یہ کہ وزیراعظم پاکستان , امریکا ,ایران مذاکرات سے امن کے لیے پرامیدہیں, وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات سے امن اور استحکام کی نئی امید پیدا ہوئی ہے۔آج ایک تاریخی اور اہم دن ہے، کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان اہم تکنیکی مذاکرات ہوئے، جن میں دونوں ممالک نے مختلف امور پر تفصیلی بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات میں تاریخی پیش رفت ہوئی ہے جو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے خوش آئند ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن، مذاکرات اور سفارت کاری کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے اور امریکا و ایران کے درمیان بات چیت کی بحالی میں بھی پاکستان نے مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششوں کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ممکن ہو سکے۔ امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت انتہائی اہمیت کی حامل ہے، جو مستقبل میں دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری اور باہمی اعتماد کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگی۔ شہباز شریف نے خطاب میں کہا کہ آئندہ 60 روز کے دوران ایک جامع امن معاہدے کی راہ ہموار ہوگی، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر کشیدگی میں کمی اور امن و استحکام کو فروغ ملے گا۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی ہو چکی ہے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے اور اس سے مذاکراتی عمل کو مزید تقویت ملے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک اپنے اختلافات کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ اپنے خطاب کے دوران وزیراعظم نے ملکی سیاسی صورتحال کا بھی ذکر کیا اور اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن اختلافی معاملات اٹھانے کا نہیں تھا بلکہ قومی اور بین الاقوامی اہمیت کے معاملات پر یکجہتی کا اظہار کرنا چاہیے تھا۔ شہباز شریف نے کہا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کو تحقیقات کا اتنا ہی شوق ہے تو پھر تحقیقات کا آغاز 2018 سے کیا جانا چاہیے تاکہ تمام معاملات قوم کے سامنے آسکیں,وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کے تحت امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات کا پہلا دور کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گیا ہے۔ صلح صفائی کے اس تاریخی عمل میں پاکستان اور قطر نے ثالث کا اہم کردار ادا کیا ہے، جس کی کامیابی پر پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے گہرے اطمینان کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے خاص طور پر آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک کوششوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ”ان کی لگن، عزم اور استقامت واقعی قابلِ تعریف ہیں جن کے بغیر اس عمل میں کوئی پیش رفت ممکن نہیں تھی۔“ انہوں نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، دفترِ خارجہ کی ٹیم اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی سفارتی و سیاسی محنت کی بھی دل کھول کر تعریف کی۔مذاکرات کے اس پہلے مرحلے میں امریکا اور ایران کے درمیان اگلے ساٹھ دنوں کے اندر ایک حتمی امن معاہدہ طے کرنے کے لیے ایک باقاعدہ نقشہ یعنی روڈ میپ منظور کر لیا گیا ہے۔ اس پورے عمل کی سیاسی نگرانی کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنائی گئی ہے، جس کے ماتحت کام کرنے والے خصوصی گروپس ایران کے ایٹمی پروگرام اور اس پر لگی امریکی اقتصادی پابندیوں جیسے بڑے اور پیچیدہ مسائل کا حل نکالیں گے۔ ان گروپس کے بڑے مذاکرات کار باقاعدگی سے اپنی رپورٹیں اس اعلیٰ کمیٹی کو پیش کریں گے تاکہ پرانے تنازعات کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔ خطے میں جاری کشیدگی اور سمندری تجارت کو محفوظ بنانے کے لیے بھی دونوں ملکوں کے درمیان بڑے فیصلے ہوئے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں کے پرامن راستے کو یقینی بنانے اور کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا حادثے سے بچنے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان ایک براہِ راست رابطہ لائن قائم کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، لبنان میں فوجی کارروائیوں اور جنگ کو مکمل طور پر روکنے کے لیے ایک خاص ڈی کنفلیکشن سیل یعنی امن کمیٹی بنانے پر بھی اتفاق ہوا ہے تاکہ وہاں امن و امان کی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔ دوسری طرف، ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ان مذاکرات کے نتائج پر بات کرتے ہوئے الگ سے ایک بڑا دعویٰ کیا ہے کہ لبنان میں جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایک بہت بڑی پیش رفت ہو چکی ہے۔ انہوں نے ایران کو ملنے والے بڑے معاشی فائدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ”امریکا نے ایران کے تیل کی برآمدات پر لگی سخت پابندیاں ہٹا دی ہیں اور دنیا بھر میں روکے گئے ایران کے کچھ منجمد اثاثے اور اربوں روپے کے فنڈز بھی بحال کر دیے گئے ہیں۔“ مزید بتایا کہ اس بڑی کامیابی کے بعد اب ایران کی تعمیرِ نو اور ترقی کے لیے ایک بہت بڑے منصوبے کا آغاز بھی کیا جائے گا۔ اگرچہ کچھ باریک بین اور تکنیکی باتوں پر بحث کا عمل اب بھی جاری ہے، لیکن پاکستان اور قطر نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اس تعمیری ماحول کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھیں گے ایرانی صدر مسعود پزشکیان ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ بطور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا جنگ کے بعد کسی بھی ملک کا پہلا جب کہ پاکستان کا دوسرا دورہ ہے۔خطے میں امن کے قیام اور ثالثی کی کوششوں میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا انتہائی اہم کردار رہا، جس کی ایران اور امریکا سمیت پوری دنیا تعریف کر رہی ہے۔ ایرانی صدر نے پاکستان پہنچنے کے بعد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور اس کے بعد صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کی۔ اس وقت ایرانی وفد کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات جاری ہے۔ ایرانی وفد میں صدر مسعود پزشکیان، وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سمیت دیگر حکام شامل ہیں۔ جب کہ پاکستانی رہنماؤں میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے علاوہ ڈپٹی وزیرِاعظم اسحاق ڈار اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی شریک ہیں۔ وزیرِاعظم ہاؤس کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس ملاقات کے بعد پاکستان اور ایران کے مابین وفود کی سطح پر ملاقات ہوگی۔ اس سے قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بھی ملاقات کی تھی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق اس ملاقات میں علاقائی صورت حال اور خطے میں امن و استحکام سے متعلق بات چیت ہوئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں دونوں جانب سے خطے میں قیام امن اور باہمی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ ایرانی صدر نے علاقائی کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان منگل کے روز ایک روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے تھے۔ ان کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا ایک وفد بھی پاکستان آیا ہے۔ اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی اسلام آباد پہنچ چکے تھے، جو ایرانی صدر کے استقبال کے موقع پر پاکستانی حکام کے ہمراہ موجود تھے۔ نور خان ایئربیس پر ایرانی صدر کے اعزاز میں خصوصی استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی، جہاں پاک فضائیہ کے جے ایف-17 طیاروں نے معزز مہمان کو سلامی دی۔ اس موقع پر ایرانی صدر کو 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔ اس موقع پر وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے علاوہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری بھی موجود تھے۔ بطور صدرِ ایران مسعود پزشکیان کا حالیہ جنگ کے خاتمے کے بعد کسی بھی ملک کا پہلا ملکی دورہ ہے، جسے دونوں ممالک کے قریبی تعلقات اور باہمی اعتماد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ایرانی صدر کی صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بھی ملاقات ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر صدر زرداری نے ایرانی ہم منصب کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مبارک باد بھی دی۔ اسلام آباد میں ایرانی صدر کے دورے کے پیش نظر ریڈ زون میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے جب کہ شہر بھر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ایرانی صدر کے استقبال کے لیے شاہراہوں کو پاک ایران پرچموں سے سجایا گیا ہے اور سرکاری سطح پر خصوصی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ صدر پزشکیان کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح رابطوں کے تسلسل، جاری تعاون کو مزید وسعت دینے اور پہلے سے طے شدہ اقتصادی و تجارتی معاہدوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے بھی اہم ہے۔ دونوں ممالک کی قیادت باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی غور کرے گی۔ مبصرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مفاہمت کے بعد ایرانی صدر کا پہلے غیر ملکی دورے لیے پاکستان کا انتخاب دونوں ملکوں کے قریبی تعلقات اور خطے میں اسلام آباد کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ خیال رہے کہ ایرانی صدر کے دورۂ پاکستان سے قبل سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ایران اور امریکا کے درمیان اہم امن مذاکرات ہوئے تھے۔ ’لیک لوسرن سمٹ‘ کے نام سے ہونے والے اس اجلاس میں ایران، امریکا، پاکستان اور قطر کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی تھی۔ مذاکرات کے دوران خطے میں کشیدگی کم کرنے، جنگی صورتِ حال کے خاتمے اور امن عمل کو آگے بڑھانے کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی تھی، جس کے بعد پاکستان کے سفارتی کردار کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا۔













