اسلام آباد (ٹی این ایس) گلوبل وارمنگ سے گلوبل بوائلنگ تک کا خطرناک سفر

 
0
6

اسلام آباد (ٹی این ایس) موسمیاتی بحران نے مغربی یورپ کو تندور بنادیا افریقے سے اٹھنے والے شدید ترین گرم ہوا کے طوفان نے 38 کروڑُ سے زائد یورپی شہریوں کو جھلسنے پر مجبور کر دیا برطانیہ میں تاریخ کا گرم ترین دن ریکارڈ ہونے کے ساتھ ساتھ فرانس اور سپین میں ہلاکت خیز تپش نے درجنوں جانیں نگل لیں براعظم یورپ کے کئی حصوں میں اس وقت افریقہ سے بھی زیادہ گرمی پڑ رہی ہے جس نے ٹرانسپورٹ کے نظام سے لے کر ہنگامی امداد تک شعبوں تک متعدد چیلنجز کھڑے کردیئے ہیں تپتی گاڑیوں میں بچوں کی ہلاکتوں اور ہسپتالوں میں دل کے مریضوں کی قطاروں نے ہنگامی صورت حال پیدا کردی ہے اقوام متحدہ نے خبر دار کردیا ہے کہ یہ موسمیاتی تباہی کا واضح ثبوت ہے ہیٹ ویو کا یہ رخ اب مشرقی یورپ کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں کے لئے ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا ہے ماہرین موسمیات کے مطابق اس ہیٹ ویو کی وجہ ایک مخصوص موسمی نظام ہے جسے اومیگا بلاک کہا جاتا ہے یہ نظام یونانی لفاظ اومیگا کی شکل میں گرم ہوا کو ایک خاص خطے میں مقید کردیتا ہے جس سے درجہ حرارت معمول سے 18 ڈگری سیلسئیس تک زیادہ ہوجاتا ہے یورپی یونین کی کو پر ٹیکس کلائمیٹ چینج سروس کی ڈپٹی ڈائریکٹر سمانتھا برجس کا کہنا ہے کہ اس ریکارڈ توڑ گرمی کی وجہ شمالی افریقہ سے آنے والی گرم ہوا کا ایک کم دباؤ کا نظام ہے جس نے گرمی کو ایک ہیٹ ڈروم کی شکل میں منتقل کردیا ہے اور ٹھنڈی ہوا کو اندر نہیں آنے دے رہا دوسری جانب یورپ میں آسمان سے برستی آگ اور ریکارڈ توڑ ہیٹ ویو نے جہاں کروڑوں انسانوں کا جینا محال کردیا ہے وہیں ایشیا کی الیکٹرانکس کمپنیوں کے لئے یہ ہولناک گرمی ایک بڑا بزنس جیک پاٹ ثابت ہورہی ہے روایتی طور پر ٹھنڈے رہنے والے براعظم یورپ میں جہاں کبھی ایئر کنڈیشنر کو ایک غیر ضروری تعیش سمجھا جاتا تھا آج اسی اے سی کو خریدنے کے لئے دکانوں کے باہر لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق چین کی مشہور کمپنی مڈیا کے پورٹیبل اے سیز کی مانگ اس قدر بڑھ چکی ہے کہ مارکیٹ میں نیا سٹاک ختم ہوگیا ہے اور اب استعمال شدہ(سیکنڈ ہینڈ) اے سی اصل قیمت سے بھی مہنگے بک رہے ہیں مئی کے مہینے میں فرانس اور سپین جیسے ممالک میں اے سیز کی سہلائی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 108 فیصد کا ناقابل یقین اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ جرمنی میں آن لائن فروخت 37 فیصد بڑھ گئی ہے انٹر نیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق یورپ میں محض 20 فیصد گھروں میں اے سی نصب ہیں لیکن جس تیزی سے یورپ دنیا کے باقی حصوں کے مقابلے میں دوگنا زیادہ گرم ہو رہا ہے یہ رحجان اب مستقل طور پر بدل رہا ہے معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ گلوبل وارمنگ نے اب یورپی بازاروں کا رخ ہمیشہ کے لئے تبدیل کرکے رکھ دیا ہے دنیا بھر میں رونماء ہونے والی موسمیاتی تبدیلیاں ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہیں زمین کا ماحول ماہرین کے اندازے سے زیادہ تیزی کے ساتھ گرم ہورہا ہے جو شاید پہلے کبھی نہیں ہوا اقوام متحدہ نے خبردار کر رکھا ہے کہ گلوبل وارمنگ کو 1.5 سینٹی گریڈ تک محدود کرنے کا ہدف جلد ہی دم توڑ دے گا کیونکہ کرہ ارض پر کاربن کے اخراج میں ریکارڈ اضافہ ہوتا جارہا ہے موجودہ صورت حال میں ہمارے پاس صرف دو راستے ہیں یا تو رہنما کاربن کے اخراج میں کمی لائیں یا ہم موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہ کاریوں کو دیکھتے رہیں اقوام متحدہ نے انتباہ جاری کر رکھا ہے کہ دنیا تیزی سے تباہ کن گرمی کے قریب بڑھ رہی ہے حالات گلوبل وارمنگ سے بڑھ کر گلوبل بوائلنگ کی طرف جا رہے ہیں اقوام عالم نے متحد ہو کر فوری اور ٹھوس اقدامات نہ کئے تو کلائمیٹ چینج کنٹرول کرنے کے طے شدہ اہداف کا حصول مشکل ہو جائے گا دنیا کے سینکڑوں سائنسدانوں کا 8 برس کی محنت سے تیار کردہ رپورٹ میں کہنا ہے کہ کلائمیٹ چینج کے باعث فوسل فیول انڈسٹریز میں مرحلہ وار کمی نہ ہونے اور کاربن کا اخراج روکنے میں عزم کی کمی، قحط، خشک سالی، سیلاب، سطح سمندر میں اضافے ماحولیاتی عدم مساوات، غذائی عدم تحفظ، ورلڈ فوڈ مارکیٹ کے بحران، خوراک اور خصوصا زرعی پیداوار میں کمی، آبادیوں کی نقل مکانی پانی اور توانائی کی سپلائی چین متاثر ہونے اور گلیشیئرز پگھلنے سے دنیا کے لئے خطرات بڑھ گئے ہیں متوقع اثرات پہلے سے زیادہ شدید ہیں اور دنیا تیزی سے خطرناک نتائج کی طرف بڑھ رہی ہے غریب اور کمزور ممالک سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں ماحولیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے بحران کے باعث عالمی امن اور سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں غریب یا کم آمدنی والے ممالک تو شاید اس حساسیت کو فی الحال نہ سمجھ سکیں لیکن اپنے عوام کی سکیورٹی فلاح و بہبود اور وسائل کے درست استعمال کو ترجیح بنانے والے ممالک کیلئے یہ سب سے بڑا مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے ان عوامل سے اقوام متحدہ خود بھی فکر مند ہے اسی لئے ہر روز دنیا کو احساس دلایا جا رہا ہے کہ تمام ممالک کو سوچ و بچار کر کے متحد ہو کر آگے بڑھنا ہو گا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بار بار انتباہ کر رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے ہم آہنگ ہونے کی کوششوں کے دوران ماحولیاتی مساوات نظر انداز نہیں ہونی چاہیے ماحولیاتی ماہرین کی بھی یہی رائے ہے کہ ماحولیاتی انصاف یا موافقت کا مسئلہ حل کئے بغیر ہماری معیشتیں، غذائی تحفظ اور عالمی استحکام خطرے میں ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ کلائمیٹ فنانس ناگزیر ہے ان کا کہنا ہے کہ کرہ ارض کوگرم ہوتے معدنیاتی ایندھن سے دور رکھنے میں مدد کرنے شمسی توانائی اور ونڈر انرجی جیسی صاف توانائی کی جانب منتقل ہونے کے لئے کم از کم 10 کھرب ڈالر کی ضرورت ہے موسمی تبدیلیوں کے باعث یکے بعد دیگرے بحرانوں سے ورلڈ فوڈ مارکیٹ میں بحران، خطوں میں خوراک کی عدم دستیابی اور مقامی آبادیوں کی نقل مکانی جیسے پیدا ہونے والے مسائل مستقبل میں امن اور سلامتی کے لئے خطرات بن سکتے ہیں عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں اضافے سے دنیا بھر میں لوگوں کا بے گھر ہونے کا رجحان بھی زیادہ ہو گیا ہے غیر معمولی بارشوں، طویل خشک سالی ماحولیاتی انحطاط سطح سمندر میں اضافہ کے نتیجے میں ہونے والے خطرات اور طوفانوں سے متاثر ہو کر سالانہ 20 ملین سے زیادہ لوگ اپنے ملک چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جانے پر مجبور ہیں انہی وجوہات کے سبب عالمی سطح پر سکیورٹی خدشات بھی پیدا ہو رہے ہیں مستقبل میں کلائمیٹ چینج کے نیتجے میں خوراک، پانی اور توانائی کی فراہمی متاثر ہو گی قدرتی وسائل کے حصول کے لئے ممالک اور خطوں کے درمیان مقابلہ شروع ہو جائے گا معیشتیں شدید خسارے میں چلی جائیں گی قدرتی آفات کے تسلسل سے مختلف خطوں اور علاقوں کے لوگ ہجرت پر مجبور ہوں گے یہ مہاجرین غریب ممالک سے ہجرت کرتے ہیں اور قریبی غریب ملکوں میں ہی جاتے ہیں کم آمدنی والے معاشروں میں وسائل کی کمی کے باعث مناسب ڈیٹا مرتب نہیں ہو پاتا اسی وجہ سے مہاجرین کی آڑ میں ایسے عناصر بھی دوسرے ملکوں میں چلے جاتے ہیں جو بعد میں ان ممالک کی سکیورٹی کے مسائل پیدا کر دیتے ہیں ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کے مطابق کرہ ارض پر دستیاب 0.5 فیصد قابل استعمال پانی کے معاملے پر بھی مختلف خطوں کا تناؤہے موسمیاتی تبدیلی سے عالمی سطح پراس کی فراہمی شدید متاثر ہو رہی ہے غیر متوقع بارشیں ہو رہی ہیں برف کی تہہ سکڑتی جا رہی ہے سطح سمندر میں اضافہ ہو رہا ہے اور سیلاب و خشک سالی بڑھ رہی ہے ماہرین وسائل کی تیزی سے کمی کے باعث سماجی اقتصادی اور ماحولیاتی عوامل کے بگاڑ کے بارے میں فکر مند ہیں گزشتہ بیس سال میں پانی کے ذخائر بشمول مٹی کی نمی، آسمان سے گرنے والی برف اور کرہ ارض پر جمی برف میں سالانہ ایک سینٹی میٹر کی شرح سے کمی آئی ہے اسی طرح شدید موسمی اثرات خوراک کی پیداوارکے سلسلہ میں بھی ممالک کے درمیان تناؤ پیدا کر رہے ہیں غریب ترین ممالک کی آبادی کا بڑا حصہ براہ راست کلائمیٹ چینج سے متاثر ہو رہا ہے دنیا بھر میں تقریبا پونے 8 کروڑ افراد بھوک و افلاس کا شکار ہیں اگر ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات کو کنٹرول اور عالمی درجہ حرارت میں اضافہ نہ روکا گیا تو مزید تقریبا 2 کروڑ لوگ بھوک کی وادی میں چلے جائیں گے ماہرین اور سائنسدان دنیا پر زور دے رہے ہیں کہ اب ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات روکنے کے لئے محض کاربن کا اخراج کم کرنا ہی کافی نہیں بلکہ کلائمیٹ چینج سے نمٹنے کے لئے حقیقی عمل کا وقت آن پہنچا ہے دنیا ماحولیاتی و موسمیاتی تبدیلیوں کے عالمگیر مسئلے سے صرف متحد ہوکر ہی نمٹ سکتی ہے موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کو 2030 تک 6 ہزار 800 ارب ڈالر کی ضرورت ہے اس ضمن میں عالمی موسمیاتی فنڈ کو ازسر نو ترتیب دینے کی ضرورت ہے تاکہ خطرے سے دوچار کمزور اقوام کی ضروریات کو موثر انداز میں پورا کیا جاسکے ماحولیاتی تبدیلیوں نے موجودہ اور آئندہ نسلوں کے لیے جو مسائل پیدا کر دئیے ہیں اس کا حل اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہے چنا ماحولیاتی وموسمیاتی تبدیلیاں انسانی بقاء کے لئے ایک بڑا خطرہ بنتی جارہی ہیں تاہم اگر اقوام متحدہ کے رکن ممالک انسانی بقاء کے لئے سنگین خطرہ بننے والی ماحولیاتی تبدیلی پر قابو پانے کے لئے جلد اقدامات کرلیں تو دنیا کو ایک بڑی تباہی سے بچایا جاسکتا ہے**