اسلام آباد (ٹی این ایس) قائد (ن) لیگ نواز شریف کی تمام سیاسی جماعتوں کو’میثاقِ معیشت’ کی دعوت

 
0
3

اسلام آباد (ٹی این ایس) ‘”میثاقِ معیشت” (چارٹر آف اکانومی) پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک ایسا تجویزی معاہدہ ہے جس کا مقصد ملکی معیشت کو سیاسی کشمکش اور تنازعات سے بالاتر رکھنا ہے، تاکہ حکومتِ وقت کوئی بھی ہو، بنیادی معاشی پالیسیاں ایک جیسی اور مستحکم رہیں,یہ اصطلاح سنہ 2006 کے میثاقِ جمہوریت (چارٹر آف اکانومی) کی طرز پر بنائی گئی ہے۔معاشی بحران، مہنگائی اور بار بار آئی ایم ایف (آئی ایم ایف) پر انحصار کے بعد پاکستان میں یہ مطالبہ شدت سے کیا جاتا رہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھیں,سیاسی جماعتوں کے درمیان شدید بداعتمادی کے باعث اس پر عملی اتفاق رائے اب تک ایک خواب ہے۔ناقدین اسے محض سیاسی بیانیہ یا وقت گزارنے کی کوشش قرار دیتے ہیں جبکہ حامی اسے پاکستان کی معاشی بقا کے لیے ناگزیر مانتے ہیں,
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے جولائی 2018 ء میں اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے حکومت کو ’میثاقِ معیشت‘ کرنے کی تجویز دی تھی۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ پاکستان کی ڈوبتی ہوئی معیشت کی وجہ سے آج ’میثاقِ معیشت‘ وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ کیا وزیراعظم پاکستان اب ملکی معیشت کو بحران سے نکالنے کیلئے اپوزیشن کی طرف ہاتھ بڑھائیں گے؟
حالات کا تقاضا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کے ساتھ سینگ پھنسانے کی بجائے میثاقِ معیشت بھی کریں اور میثاقِ جمہوریت بھی۔ اگر یہ انہونی ہو جائے تو ملک میں نہ صرف سیاسی اور معاشی استحکام آئیگا بلکہ پاکستان کا ہر شعبہ ترقی اور خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن ہو جائیگا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک بار پھر ‘میثاقِ معیشت’ (Charter of Economy) کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ معاشی پالیسیوں میں تسلسل کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا نواز شریف نے کہا کہ سیاست کا اصل مقصد انتقام یا تصادم نہیں بلکہ عوام کی خدمت، مہنگائی کا خاتمہ اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا ہونا چاہیےسیاسی رواداری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی مخالفت کو دشمنی میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔قائدِ مسلم لیگ (ن) نے ریاستی اداروں کی مضبوطی اور آئین کی بالادستی کو ملکی بقا کے لیے ناگزیر قرار دیا۔انہوں نے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے آئی ٹی (IT)، آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور نوجوانوں کے لیے اسکالرشپ پروگرامز کے اقدامات کو سراہتے ہوئے اسے روشن مستقبل کی نوید قرار دیا۔ نواز شریف نے یہ بات آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) سے پارٹی کے نو منتخب پارلیمانی گروپ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں حکومت سازی، اہم پارلیمانی عہدوں اور خطے کی مستقبل کی سیاسی و انتظامی ترجیحات پر مشاورت کی گئی۔
مری میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے قائد نے کہا کہ پارٹی نے ہمیشہ اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ احترام کا برتاؤ کیا ہے اور مخالف جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اپنی شکست کی وجوہات پر غور کریں۔ انہوں نے نو منتخب ارکان کو انتخابی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہیں عوام کے مینڈیٹ پر پورا اترنا اور آزاد کشمیر میں ترقیاتی عمل تیز کرنا چاہیے۔ نواز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں نے انتخابی مہم کے دوران مخالفین کا بھرپور مقابلہ کیا، تاہم اب اصل ذمہ داری ووٹروں کی جانب سے ان پر کیے گئے اعتماد کو پورا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’عوام کے اعتماد سے غداری کی کوئی گنجائش نہیں۔‘‘ آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نواز شریف نے خطے کے لیے زیادہ سے زیادہ ترقیاتی فنڈز مختص کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کو کسان کارڈ جیسی سہولیات اور باعزت روزگار کے مواقع فراہم کیے جانے چاہییں۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں اور ارکان اسمبلی پر بھی زور دیا کہ وہ انفرادی حلقوں میں شکست سے دل برداشتہ نہ ہوں۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد نے ماضی کے دور کے کھوکھلے نعروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گزشتہ حکومت کے دور میں پاکستان کی صورتحال بے مثال حد تک خراب ہوئی۔ نواز شریف نے کہا، ’’جس طرح پنجاب تبدیل ہوا ہے، اسی طرح آزاد کشمیر کو بھی تبدیل ہونا چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیچھے نہیں بلکہ آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے بچے بھی لیپ ٹاپ حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے کے نوجوانوں کو جدید تعلیمی اور تکنیکی سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ نواز شریف نے پنجاب میں ترقی کی بنیاد رکھنے کا کریڈٹ وزیراعظم شہباز شریف کو دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اس عمل کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ انہوں نے آزاد کشمیر میں انتظامی سہولیات بہتر بنانے کی بھی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پہاڑی خطے کے لیے ہیلی کاپٹر ضروری ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ آزاد کشمیر حکومت کو ایک ہیلی کاپٹر فراہم کیا جائے تاکہ انتظامی امور اور ہنگامی حالات سے نمٹنے میں سہولت ہو۔ نواز شریف نے کہا کہ پارٹی جلد خطے کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے اقدامات کرے گی اور آزاد کشمیر کو درپیش مشکلات پر قابو پانے میں مدد دے گی۔ انہوں نے کہا کہ سابق آزاد کشمیر حکومت عوام کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہی، جبکہ نو منتخب ارکان کو اب عملی کارکردگی کے ذریعے عوام کے اعتماد کو درست ثابت کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا، ’’عوام نے جو اعتماد دیا ہے، اسے عملی کارکردگی سے ثابت کرنا ہوگا۔‘‘ نواز شریف نے ارکان اسمبلی پر زور دیا کہ وہ آزاد کشمیر کے عوام کی توقعات پوری کرنے کے لیے محنت اور لگن سے کام کریں۔ پاکستان کی معاشی بقا ء اور مضبوطی کے لیے’’میثاقِ معیشت‘‘ ناگزیر ہو چکا ہےوزیر اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل ملک کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔گزشتہ 26برسوں کے بجٹوں پر نظر ڈالیں، چاہے وہ پرویز مشرف کی فوجی آمریت کے دور کے ہوں یا بعد میں تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کی حکومتوں کے، تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ معاشی پالیسیاں حیرت انگیز حد تک یکساں رہی ہیں: ٹیکس نظام میں موجود غیر منصفانہ، غیر مساوی اور متضاد ڈھانچے میں اصلاحات لانے کے بجائے انہی آسانی سے وصول کیے جانے والے ٹیکسوں سے آمدنی بڑھانے کی مستقل کوشش، اور جاری اخراجات میں مسلسل اضافہ جو اندرونی و بیرونی قرضوں سے پورا کیا جاتا رہا ہے۔
ہر سال عوام دوست بجٹ کے دعوے کے طور پر ”پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام“ (پی ایس ڈی پی) میں اضافہ ظاہر کیا جاتا ہے، لیکن مالی سال کے اختتام تک اس میں کمی کر دی جاتی ہے تاکہ خسارے کو قابلِ برداشت سطح پر لایا جا سکے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام میں ہو۔ تاہم اس شرط کی بھی اپنی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے، کیونکہ پاکستان اب تک اپنی 78 سالہ تاریخ میں 24 مرتبہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں شامل ہو چکا ہے، جن کی اوسط مدت تقریباً تین سال رہی ہے۔2008 میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے قیام کے بعد سے اس کے بجٹ میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے، اگرچہ مختلف سیاسی جماعتوں نے اس کا نام بدلنے کی کوششیں کیں (2013 سے 2018 کے دوران مسلم لیگ (ن) نے اسے ”انکم سپورٹ پروگرام“ کہا، جبکہ 2018 سے 2022 تک اسے ”احساس“ پروگرام کہا گیا)، لیکن یہ اضافہ غربت کی بڑھتی ہوئی شرح کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہو سکا۔ ورلڈ بینک کے مطابق، آج پاکستان میں غربت کی شرح تشویشناک حد تک 44.7 فیصد ہو چکی ہے۔

پاکستان کی معاشی ترقی اور تنزلی کے چکر ( بوم بسٹ سائیکل) کو ملکی خودمختار ماہرینِ معاشیات کئی دہائیوں سے اجاگر کرتے آ رہے ہیں، اور اسی چیز کا ذکر ستمبر 2024 میں جاری ہونے والی آئی ایم ایف کی ایک دستاویز میں بھی کیا گیا ہے، جس کا عنوان تھا: ”اسٹاف لیول معاہدہ برائے پاکستان کے لیے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کا مطالبہ“۔ اس میں پالیسیوں کے تسلسل میں موجود خامیوں کی جانب بالواسطہ اشارہ کیا گیا: ”وقت کے ساتھ ساتھ معاشی عدم استحکام میں اضافہ ہوا ہے، اور پاکستان کے ترقی و زوال کے معاشی نتائج اور اس کی میکرو اکنامک پالیسیاں ایک دوسرے کے ساتھ گہرے طور پر جڑی ہوئی ہیں۔ مالی اور مانیٹری محرکات کے ذریعے معیشت کو بار بار سہارا دینے کی کوششیں پائیدار ترقی میں تبدیل نہ ہو سکیں، کیونکہ اندرونی طلب پاکستان کی پائیدار استعداد سے تجاوز کر گئی، جس کے نتیجے میں افراطِ زر اور زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی واقع ہوئی، خاص طور پر مستحکم ایکسچینج ریٹ کو برقرار رکھنے کی سیاسی ترجیح کے سبب۔ ہر نیا زوال پاکستان کی پالیسی سازی کی ساکھ اور سرمایہ کاری کے جذبے کو مزید نقصان پہنچاتا ہے۔“ مختلف حکومتوں کے ادوار میں پالیسیوں میں جو تبدیلیاں آئیں، وہ زیادہ تر ایک مخصوص اشرافیہ کے ذیلی شعبے کو دوسرے پر ترجیح دینے تک محدود رہیں، مثلاً برآمدکنندگان، شوگر مل مالکان، دیگر پیداواری شعبے یا امیر زمیندار۔
آئی ایم ایف نے اپنی اکتوبر 2024 کی دستاویزات میں اس بات کا نوٹس لیا کہ مالیاتی اور مانیٹری مراعات مکمل طور پر ناکام ہوئیں: ”حکومت کی قیمتوں کے تعین میں مداخلت، بشمول زرعی اجناس، ایندھن، بجلی، اور گیس (ہر چھ ماہ بعد)، کے ساتھ ساتھ بلند ٹیرف اور نان-ٹیرف تحفظات نے میدان کو مخصوص گروہوں یا شعبوں کے حق میں جھکا دیا۔ اس تمام امداد کے باوجود، کاروباری شعبہ ترقی کا محرک بننے میں ناکام رہا، اور یہ مراعات بالآخر مسابقت کو کمزور کرتی گئیں اور وسائل کو دائمی طور پر غیر موثر (اور ہمیشہ کے لیے ’نووارد‘) صنعتوں میں جکڑ دیا۔“ایمنسٹی اسکیموں کا استعمال 2023 تک جاری رہا، جب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے زور دیا کہ مزید ایمنسٹی اسکیمیں نہ دی جائیں، بصورتِ دیگر پہلے سے منظور شدہ قرض پروگرام روک دیا جائے گا۔ ذیل میں پیش کی گئی معلومات آئی سی ایم اے (انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس) کی جولائی-اگست 2018 کی اشاعت سے لی گئی ہیں۔ اپریل 2018 میں غیر ملکی اثاثوں کی ایمنسٹی اسکیم کے نتیجے میں 80 ارب روپے کی اضافی وصولی ہوئی، بعد میں عمران خان کی حکومت نے بھی اس اسکیم کو توسیع دی، جس کے تحت غیر ظاہر شدہ اثاثوں پر صرف 4 فیصد ادائیگی کی شرط رکھی گئی تھی۔
حکومت نے سرمایہ کاروں، بالخصوص بلڈرز اور ڈیولپرز، کے لیے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کو مزید چھ ماہ (یعنی 30 جون 2022 تک) بڑھا دیا، اور انہیں مقررہ ٹیکس نظام سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی گئی، جو کیلنڈر سال کے اختتام تک دستیاب تھا۔ بعد ازاں، سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے وضاحت کی کہ یہی وہ اسکیم تھی جس کے ذریعے ان کی اہلیہ کی قریبی دوست فرح گوگی نے ان کے دورِ حکومت میں دولت بنائی۔ آئی سی ایم اے نے ایمنسٹی اسکیموں کا موازنہ بھارت، امریکہ، آسٹریلیا، کینیڈا، بیلجیم، جرمنی، انڈونیشیا، اسپین، اور اٹلی سے کیا ہے، مگر یہ موازنہ درست نہیں کیونکہ ان تمام ممالک کو تینوں بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے موزوں (انوسٹمنٹ گریڈ) درجہ حاصل ہے (زیادہ تر اپر میڈیم یا ہائی گریڈ)، جبکہ پاکستان کو کبھی بھی انوسٹمنٹ گریڈ ریٹنگ حاصل نہیں ہوئی۔ حکومت نے مالی خسارے میں کمی کا ہدف مقرر کیا ہے: 2024-25 میں خسارہ 7444 ارب روپے سے کم کر کے 2025-26 میں 6501 ارب روپے کرنے کا ہدف ہے (یعنی 943 ارب روپے کی کمی)۔ اسی طرح، صوبائی سرپلس 1464 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جو گزشتہ سال کے 1009 ارب روپے کے مقابلے میں زیادہ ہے، اور یوں مجموعی مالی خسارہ 6435 ارب روپے سے گھٹا کر 5037 ارب روپے کیا گیا ہے۔
تاہم یہ تمام اہداف اس بات پر منحصر ہیں کہ آمدنی ویسی ہی حاصل ہو جیسا بجٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے، بغیر کسی پالیسی تبدیلی کے، جبکہ اب بھی 75 سے 80 فیصد انحصار بالواسطہ (ان ڈائریکٹ) ٹیکسوں پر ہے، جن کا بوجھ امیروں کے مقابلے میں غریبوں پر کہیں زیادہ پڑتا ہے۔ مزید یہ کہ حکومت نے یہ ہدف بھی شرحِ سود میں کمی کے ذریعے جاری اخراجات میں کمی پر رکھا ہے، جبکہ ماضی کی طرح دیگر تمام مدات میں اخراجات کو بڑھایا گیا ہے۔ لیکن موجودہ شرح سود میں نمایاں کمی اور اخراجات میں کمی بعید از قیاس ہے۔ ٹیکس کے نظام میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی، اور بجٹ میں دی گئی رقوم بھی ویسی ہی ہیں جیسے پہلے ہوتی رہی ہیں۔
آئیں بیٹھ کر میثاقِ معیشت کریں۔ ملک چلے گا تو سب چلیں گے، یہ نہیں ہے کہ سیاست چلائیں اور ملک کو بھول جائیں۔ مثبت کام کا حصہ بنیں، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ صرف انتشار کی بات کریں گے کہ پہلے یہ ہو، وہ ہو، ایسا نہیں ہوتا۔