اسلام آباد (ٹی این ایس) عہدوں سے بڑا نام: شانی شاہ تحریر ثاقب خان کھٹڑ اسلام آباد کی ایک شام تھی۔ مارگلہ کی پہاڑیوں پر سورج اپنی آخری کرنیں بکھیر رہا تھا۔ سڑکوں پر معمول کی چہل پہل تھی، سرکاری دفاتر بند ہو چکے تھے اور لوگ اپنے گھروں کی طرف لوٹ رہے تھے۔ ایسے میں میرے ذہن میں ایک سوال آیا کہ آخر کسی سیاست دان کی اصل پہچان کیا ہوتی ہے؟ کیا وہ اس کی گاڑی پر لگی جھنڈی ہوتی ہے؟ کیا وہ اس کا عہدہ ہوتا ہے؟ یا پھر وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس کے نام پر مسکرا دیتے ہیں؟

 
0
5

اسلام آباد (ٹی این ایس) عہدوں سے بڑا نام: شانی شاہ تحریر ثاقب خان کھٹڑ اسلام آباد کی ایک شام تھی۔ مارگلہ کی پہاڑیوں پر سورج اپنی آخری کرنیں بکھیر رہا تھا۔ سڑکوں پر معمول کی چہل پہل تھی، سرکاری دفاتر بند ہو چکے تھے اور لوگ اپنے گھروں کی طرف لوٹ رہے تھے۔ ایسے میں میرے ذہن میں ایک سوال آیا کہ آخر کسی سیاست دان کی اصل پہچان کیا ہوتی ہے؟ کیا وہ اس کی گاڑی پر لگی جھنڈی ہوتی ہے؟ کیا وہ اس کا عہدہ ہوتا ہے؟ یا پھر وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس کے نام پر مسکرا دیتے ہیں؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ ہماری سیاست میں عہدے بہت ہیں مگر شخصیت کم ہے۔ نام بہت ہیں مگر اعتبار کم ہے۔ دعوے بہت ہیں مگر تعلق کم ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی شخص برسوں بعد بھی لوگوں کی گفتگو میں زندہ رہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے صرف سیاست نہیں کی، اس نے رشتے بنائے ہیں۔
سید ذیشان علی نقوی المعروف شانی شاہ انہی شخصیات میں سے ایک ہیں۔
اسلام آباد کی سیاست عجیب سیاست ہے۔ یہاں ووٹ سے زیادہ تعلق کام آتا ہے۔ یہاں تقریروں سے زیادہ رویے یاد رکھے جاتے ہیں۔ یہاں لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ آپ نے کتنے جلسے کیے بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ آپ نے ان کے دروازے پر کتنی بار دستک دی۔ شانی شاہ کی مقبولیت کا راز بھی شاید یہی ہے۔
میں ہمیشہ یہ محسوس کرتا ہوں کہ بلدیاتی سیاست دراصل جمہوریت کا پہلا مدرسہ ہوتی ہے۔ یہاں نظریات سے زیادہ مسائل ہوتے ہیں۔ یہاں فلسفے سے زیادہ عملی کام کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک نالی بند ہو جائے تو شہری کے لیے وہی سب سے بڑا قومی مسئلہ بن جاتی ہے۔ گلی میں اندھیرا ہو تو اسے عالمی سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں رہتی۔ چنانچہ جو شخص مقامی مسائل کو سمجھ لیتا ہے وہ دراصل عوام کے دلوں تک پہنچ جاتا ہے۔
شانی شاہ نے اپنی سیاسی زندگی میں اسی راستے کا انتخاب کیا۔ انہوں نے اسلام آباد کو صرف ایک دارالحکومت کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ ایک زندہ شہر کے طور پر دیکھا۔ ایک ایسا شہر جس میں خواب بھی بستے ہیں اور مشکلات بھی۔ ایک ایسا شہر جہاں اقتدار کے ایوان بھی ہیں اور کچی آبادیوں کے مسائل بھی۔
ہمارے ہاں اکثر سیاست دان عوام کے درمیان جانے سے پہلے پروٹوکول کا انتظام کرتے ہیں۔ راستے صاف کروائے جاتے ہیں، کرسیاں لگائی جاتی ہیں اور تصویروں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ لیکن عوام کو مصنوعی پن فوراً محسوس ہو جاتا ہے۔ لوگ جان جاتے ہیں کہ کون ان کے درمیان تصویر بنوانے آیا ہے اور کون ان کے مسائل سننے آیا ہے۔
شانی شاہ کے بارے میں ان کے جاننے والے ایک بات ضرور کہتے ہیں کہ وہ لوگوں سے ملنے میں تکلف نہیں کرتے۔ ان کے رویے میں وہ سرد مہری نہیں جو اکثر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ کر پیدا ہو جاتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کا حلقۂ احباب صرف سیاسی کارکنوں تک محدود نہیں بلکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگ بھی ان سے تعلق رکھتے ہیں۔
قیادت صرف حکم دینے کا نام نہیں ہوتی۔ قیادت سننے کا فن بھی ہے۔ دنیا کے بڑے رہنما بولنے سے زیادہ سننے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ جو شخص لوگوں کے دکھ سن لیتا ہے، وہ ان کے دل میں جگہ بنا لیتا ہے۔ اور جو دلوں میں جگہ بنا لے، اسے تاریخ سے مٹانا آسان نہیں ہوتا۔
آج جب پاکستان بے شمار چیلنجز سے گزر رہا ہے، مقامی حکومتوں کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ شہری مسائل کا حل اسلام آباد کے ایوانوں میں بیٹھ کر نہیں بلکہ محلوں اور یونین کونسلوں کی سطح پر تلاش کرنا ہوگا۔ دنیا کے کامیاب ممالک نے ترقی کا آغاز مقامی حکومتوں سے کیا۔ انہوں نے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے۔ انہوں نے عوام کو فیصلہ سازی میں شریک کیا۔ یہی جمہوریت کا حسن ہے۔
شانی شاہ کی سیاست کا ایک اہم پہلو یہی رہا کہ انہوں نے بلدیاتی اداروں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ شہری مسائل کا مستقل حل مقامی نمائندوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ یہ سوچ دراصل ایک جدید اور ترقی یافتہ جمہوری نظام کی بنیاد ہے۔
ان کی شخصیت کا ایک اور پہلو نوجوانوں کے ساتھ تعلق ہے۔ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوان اگر مایوس ہو جائیں تو قومیں کمزور ہو جاتی ہیں اور اگر پُرامید ہو جائیں تو تاریخ بدل جاتی ہے۔ شانی شاہ ہمیشہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں، کھیلوں اور سماجی خدمت کی طرف راغب کرنے کی بات کرتے رہے ہیں۔
وقت گزر رہا ہے۔ چہرے بدل رہے ہیں۔ سیاسی جماعتیں بدل رہی ہیں۔ نعرے بدل رہے ہیں۔ لیکن کچھ چیزیں کبھی نہیں بدلتی۔ خلوص کی قدر کبھی کم نہیں ہوتی۔ خدمت کی اہمیت کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اور لوگوں کے دلوں میں بننے والی جگہ کبھی خالی نہیں ہوتی۔
سید ذیشان علی نقوی المعروف شانی شاہ کا سیاسی سفر بھی دراصل اسی حقیقت کی کہانی ہے۔ ایک ایسے شخص کی کہانی جس نے اقتدار کو مقصد نہیں بلکہ ذریعہ سمجھا۔ جس نے تعلقات کو سیاست کا سرمایہ بنایا۔ جس نے لوگوں سے رابطے کو اپنی طاقت سمجھا۔ اور جس نے یہ ثابت کیا کہ سیاست صرف اسمبلیوں اور دفاتر میں نہیں ہوتی، سیاست لوگوں کے درمیان ہوتی ہے۔
آخر میں تاریخ صرف یہ نہیں پوچھتی کہ آپ کیا تھے، تاریخ یہ بھی پوچھتی ہے کہ آپ لوگوں کے لیے کیا تھے۔ اور اس سوال کا جواب کسی سرکاری فائل میں نہیں، لوگوں کے دلوں میں محفوظ ہوتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بعض نام عہدوں کے ساتھ زندہ نہیں رہتے، بلکہ عہدے ان ناموں کے ساتھ زندہ رہتے ہیں۔ شانی شاہ بھی انہی ناموں میں سے ایک ہیں۔