کراچی (ٹی این ایس) کراچی قومی ادارا صحت برائے اطفال میں سیکیورٹی صورتحال کے بدترین بحران کے خلاف ینگ ڈاکٹرز ایسوسیئیشن کا احتجاج چوتھے روز بھی جاری رہا۔ احتجاج کے چوتھے دن اسپیشل ہیلتھ سیکریٹری شہریار میمن کی ہسپتال انتظامیا اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسیئشن کے نمائندوں سے ملاقات ہوئی اس ملاقات میں ایکزیکیوٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ناصر سلیم سڈل، وائی ڈی اے سندھ کے چیئرمین ڈاکٹر محبوب علی نوناری، وائی ڈی اے این آئی سی ایچھ کے صدر ڈاکٹر فیاض بٹ اور جنرل سیکریٹری ڈاکٹر ثناگر نے اپنے ڈاکٹروں کی ٹیم کے ہمراہ شرکت کی میٹنگ کے دوران اسپیشل سیکریٹری کو انتظامیا اور وائی ڈے اے کے نمائندوں نے ہسپتال میں بدترین سیکیورٹی بحران اور تشدد کے واقعات کی تفصیل پیش کی ینگ ڈاکٹرز ایسوسیئشن کے نمائندوں نے خصوصاً این آئی سی ایچھ کےحوالے سے اور سندھ میں میں ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے اپنے مطالبات پیش کئےاس موقعے پر ہسپتال انتظامیا اور اسپیشل سیکریٹری نے ڈاکٹروںکے تمام مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے اتفاق کا اظہار کیا۔ اسپیشل سیکریٹری نے ان مطالبات کو اعلی حکام تک لے جانے اور منظور کروانے کی بات رکھی۔ لیکن انتظامیا کی طرف سے اور نہ ہی ہیلتھ سیکریٹریٹ کی طرف سے کوئی واضح اقدامات اور انتظامات واضح کئے گئے جن کا فوری بنیادوں نفاض ہوسکے اور ڈاکٹروں اور مریضوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جاسکےاس طرح کے زبانی وعدے پچھلے پانچ سالوں سے ڈاکٹرز سنتے آرہے ہیں لیکن ان پر عمل در آمد نہیں کیا جاتا۔ یہاں تک کے انتظامیا اور ہیلتھ سیکریٹیریٹ کی جانب سے کسی طرح کے تحریری اور دستاویزی نوٹیفیکیشنز سامنے نہیں آئے۔ بات صرف بیوروکریٹک جارگن اور ذمیداری سے بری ذمہ ہونے کے لئے کھوکلے وعدوں تک محدود کردی جاتی ہےاس تشویشناک صورتحال اور فوری بنیادوں پر عملی اقدامات اور انتظامات کرنے میں ناکامی پر ینگ ڈاکٹرز ایسوسیئیشن پانچویں روز بھی اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔ مریضوں، ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کی جانوں کو خطرے کی وجہ سے او پی ڈیز اور وارڈ میں نئے داخلوں کا بائکاٹ بدستور جاری رہے گا جب تک سیکیورٹی بحران کو ختم نہیں کیا جاتا۔ جب کے تمام آئی سی یوز، ایمرجنسی سروسز، سرجیکل آپریشن تھیٹرز، کینسر وارڈ کے داخلے سروسز اور دیگر وارڈز کی ایمرجنسیز کھلی رہینگی جہاں ڈاکٹرز اپنی ذمیداری کے ساتھ ڈیوٹیز سرانجام دینگے











