اسلام آباد (ٹی این ایس) وفاقی پولیس میں بھرتیوں کے حوالے سے آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کی خصوصی ہدایات پر سینئر افسران ملک بھر کے مختلف ٹیسٹ سنٹرز پر امیدواروں کے جسمانی اور رننگ ٹیسٹ میں میرٹ، شفافیت اور مقررہ ضابطہ کار کے مطابق بھرتی کے تمام مراحل کی نگرانی عمل میں لا رہے ہیں، گزشتہ روز میں ڈی جی سیف سٹی/ڈی آئی جی ٹریفک محمد ہارون جوئیہ، ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز محمد عتیق طاہر، ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق، ڈی آئی جی سکیورٹی رانا عمر فاروق اور دیگر سینئر پولیس افسران نے ٹیسٹ سنٹرز کا دورہ کر کے بھرتی کے مختلف مراحل، سکیورٹی انتظامات، امیدواروں کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور مجموعی انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران سینئر پولیس افسران نے ٹیسٹ سنٹرز پر موجود ڈیوٹی افسران سے بریفنگ لی اور ہدایت کی کہ بھرتی کے ہر مرحلے میں میرٹ، شفافیت اور مقررہ طریقہ کار پر سختی سے عمل درآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی امیدوار کے ساتھ امتیازی سلوک، سفارش یا غیر قانونی مداخلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور ہر امیدوار کو یکساں اور منصفانہ مواقع فراہم کیے جائیں۔انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کے خصوصی احکامات کے مطابق اسلام آباد پولیس کے دیگر سینئر پولیس افسران بھی مختلف شہروں میں قائم ٹیسٹ سنٹرز پر خود موجود ہیں جہاں انہوں نے جسمانی اور رننگ ٹیسٹ، امیدواروں کی جانچ پڑتال، سکیورٹی انتظامات، نظم و ضبط اور مجموعی ریکروٹمنٹ پراسیس کی مسلسل نگرانی کی تاکہ تمام مراحل بلا تعطل، منظم اور شفاف انداز میں مکمل کیے جا سکیں۔امیدواروں کی سہولت کے لیے تمام ٹیسٹ سنٹرز پر جامع انتظامات کیے گئے تھے۔ شدید گرمی کے پیش نظر سایہ دار ٹینٹس، پینے کے صاف پانی، طبی امداد، انتظار گاہوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا، جبکہ سکیورٹی اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے بھی موثر انتظامات کیے گئے تاکہ امیدواروں کو محفوظ، منظم اور سہولت بخش ماحول فراہم کیا جا سکے۔سینئر پولیس افسران نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بھرتی کا پورا عمل مکمل طور پر میرٹ، شفافیت، انصاف اور مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق انجام دیا جا رہا ہے۔ جسمانی اور رننگ ٹیسٹ سمیت تمام مراحل میں امیدواروں کا جائزہ یکساں معیار کے تحت لیا جا رہا ہے تاکہ صرف اہل، باصلاحیت، جسمانی طور پر فٹ اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل نوجوانوں کا انتخاب میرٹ کی بنیاد پر ممکن بنایا جا سکے۔ اس حوالے سے کسی بھی قسم کی سفارش، دباو یا غیر قانونی مداخلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا






















