رحیم یارخان (ٹی این ایس) ڈریپ ایکٹ 2012 کے تحت فارمیسی سروسز کے نفاذ پر اہم پیش رفت پنجاب فارمیسی کونسل اور پاکستان فارماسسٹس ایسوسی ایشن (سنٹر و پنجاب) کے مابین ڈریپ ایکٹ 2012 کے تحت فارمیسی سروسز کے نفاذ، کمیونٹی فارماسسٹس کو درپیش مسائل اور فارمیسی پروفیشن کے فروغ کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔

 
0
4

رحیم یارخان (ٹی این ایس) ڈریپ ایکٹ 2012 کے تحت فارمیسی سروسز کے نفاذ پر اہم پیش رفت پنجاب فارمیسی کونسل اور پاکستان فارماسسٹس ایسوسی ایشن (سنٹر و پنجاب) کے مابین ڈریپ ایکٹ 2012 کے تحت فارمیسی سروسز کے نفاذ، کمیونٹی فارماسسٹس کو درپیش مسائل اور فارمیسی پروفیشن کے فروغ کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں سیکرٹری پنجاب فارمیسی کونسل پروفیسر ڈاکٹر زکا الرحمٰن، ڈپٹی سیکرٹری ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ و صدر پاکستان فارماسسٹس ایسوسی ایشن ڈاکٹر محمد عالمگیر راؤ، جنرل سیکرٹری پاکستان فارماسسٹس ایسوسی ایشن ڈاکٹر فرقان ہاشمی، صدر پاکستان فارماسسٹس ایسوسی ایشن پنجاب سید عاطف رضا، جنرل سیکرٹری پنجاب ڈاکٹر عمیر اکرام ڈار، ڈپٹی ڈرگ کنٹرولر ڈاکٹر بلال یاسین، ڈرگ انسپیکٹرز، پنجاب فارمیسی کونسل کے معزز اراکین اور پاکستان فارماسسٹس ایسوسی ایشن کے سینئر ممبران نے شرکت کی۔

اجلاس میں DRAP Act 2012 کے مطابق فارمیسی سروسز کے مؤثر نفاذ کے لیے جامع حکمتِ عملی، کمیونٹی فارماسسٹس کو درپیش مسائل، منتخب ادویات اور بیماریوں کے لیے فارماسسٹس کو Limited Independent Prescribing Authority دینے کی تجویز، اور فارماسسٹس کو Vaccination Services میں شامل کرنے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا۔

شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ فارمیسی سروسز کے جلد اور مؤثر نفاذ، فارماسسٹس کے پیشہ ورانہ کردار کو مضبوط بنانے اور عوام کو محفوظ، معیاری اور جدید ادویاتی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے عملی اقدامات کریں گے۔

اجلاس خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوا، جس میں فارمیسی سروسز کے نفاذ کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق کیا گیا اور فارماسسٹ برادری کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون اور عملی پیش رفت کی یقین دہانی کرائی گئی۔

اس موقع پر ڈاکٹر وقاص ظفر نے اجلاس کے تمام معزز شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سینئر قیادت کی جانب سے فارماسسٹ برادری کے مسائل کے حل اور فارمیسی سروسز کے نفاذ کے لیے سنجیدہ اقدامات قابلِ تحسین ہیں، جن کے مثبت نتائج نہ صرف فارماسسٹ برادری بلکہ عوامی صحت کے نظام پر بھی مرتب ہوں گے۔