اسلام آباد (ٹی این ایس) امریکہ ایران مذاکرات: جنگ کے خاتمے کا معاہدہ

 
0
4

اسلام آباد (ٹی این ایس) امریکی اور ایرانی حکام کے مطابق، آبنائے ہرمز کو دوبارہ تجارتی بحری جہازوں کے لیے کھولنے اور خلیج فارس میں جاری جنگ کے فوری خاتمے کے لیے بالواسطہ مذاکرات حتمی اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔ قطر اور عمان کی ثالثی میں تیار کیے گئے نئے فارمولے کے تحت آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں ایک عارضی جنگ بندی اور بحری آمدورفت کا معاہدہ متوقع ہے، جس کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 5 فیصد تک گر گئی ہیں۔ اس نئے مسودے کے تحت تجارتی جہاز خلیج فارس میں داخلے کے لیے ایرانی کنٹرول والے راستوں اور واپسی کے لیے عمانی سمندری حدود کا استعمال کریں گے، اور ایران بین الاقوامی جہازوں سے کوئی فیس یا ٹیکس وصول کیے بغیر محفوظ گزرگاہ فراہم کرنے کا پابند ہوگا جس کے بدلے میں امریکہ ایران کی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی کو مرحلہ وار ختم کرنا شروع کرے گا۔ مجوزہ معاہدے کے تحت امریکہ، ایران اور ان کے تمام علاقائی اتحادی بشمول لبنان تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری طور پر روک دیں گے، جبکہ دونوں فریقین ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت کا احترام کرنے اور اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنے پر متفق ہو رہے ہیں۔ ایران میں جنگ کے بعد تعمیرِ نو اور معاشی استحکام کے لیے علاقائی شراکت داروں کے تعاون سے 300 ارب ڈالر کے ترقیاتی منصوبے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور تہران کا اصرار ہے کہ مستقل امن کے لیے امریکہ اس کے منجمد اثاثے فوری بحال کرے اور یکطرفہ اقتصادی پابندیاں اٹھائے۔ عارضی معاہدے پر دستخط ہوتے ہی دونوں ممالک کو مستقل اور جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 دن کا وقت ملے گا، اور اس طویل مدتی حتمی معاہدے کو بعد میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک پابند قرارداد کے ذریعے قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدہ آج سامنے آ سکتا ہے، اس سلسلے میں بہت پیش رفت ہوئی ہےایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستے کے جغرافیائی نقاط پر مفاہمت تک پہنچ گئے ہیں اور مشترکہ اعلان کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ تاہم تہران کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی اور امریکی فوجی اقدامات کے باعث محفوظ جہاز رانی کی مکمل ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق طے پانے والی مفاہمت ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم اس سے خود بخود اس اہم بحری گزرگاہ میں مکمل تحفظ یقینی نہیں ہو جاتا۔ قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ٹیلی گرام پیج پر جاری بیان میں اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ پیدا کرنے والے کئی بنیادی عوامل اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے خطے میں کشیدگی کی وجوہات میں امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف اعلان کردہ بحری ناکا بندی، فوجی دباؤ اور دیگر جارحانہ و دھمکی آمیز اقدامات کا حوالہ دیا۔ ایرانی ترجمان کے مطابق جب تک یہ عوامل برقرار رہیں گے، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے مکمل تحفظ کی یقین دہانی نہیں کرائی جا سکتی۔ دوسری جانب ’العربیہ‘ مطابق ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے متعلق بحری راستے کے جغرافیائی نقاط پر اتفاق رائے تک پہنچ گئے ہیں، جب کہ دونوں ممالک کی جانب سے مشترکہ اعلان کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
تہران اور مسقط کے درمیان مذاکرات پیشہ ورانہ انداز میں جاری ہیں اور دونوں فریق زیر غور بحری راستے کے جغرافیائی دائرہ کار پر باہمی مفاہمت تک پہنچ چکے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران پاکستان اور قطر کے ساتھ رابطے اور مشاورت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم وزیر خارجہ عباس عراقچی یا پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے فی الحال دونوں میں سے کسی بھی ملک کے دورے کا کوئی منصوبہ نہیں۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ انتظام کے تحت آبنائے ہرمز سے خلیج میں داخل ہونے والے بحری جہازوں کے راستے کے تعین اور نگرانی میں ایران کو زیادہ اختیار حاصل ہو سکتا ہے۔ تاہم ذرائع کے مطابق معاہدے کے بعض اہم نکات پر مزید بات چیت باقی ہے۔ دوسری طرف امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ سے گفتگو کرنے والے ایک خلیجی عہدیدار نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جمعے کو کسی سمجھوتے تک پہنچنے کے امکانات تقریباً 50 فی صد ہیں۔ اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ بھی کہہ چکے ہیں کہ ایرانی حکام کے ساتھ بات چیت بہت اچھی جاری ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کسی ممکنہ معاہدے سے پیچھے ہٹا تو امریکا سخت کارروائی کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے الگ بیان میں یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق کسی سمجھوتے کا اعلان جلد کیا جا سکتا ہے۔
ایران نے تاہم امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی تردید کی ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ جاری بات چیت صرف عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے معاملات حل کرنے کے لیے ہو رہی ہے
ایران اور عمان کے درمیان ہونے والی حالیہ بات چیت کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے ایک محفوظ راستہ تلاش کرنا ہے، تاہم تہران کا مؤقف ہے کہ علاقائی بحری سلامتی صرف دوطرفہ معاہدوں سے ممکن نہیں بل کہ خطے میں موجود تمام طاقتوں کے اقدامات بھی اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز سے متعلق تین مختلف بحری راستے زیر بحث آئے ہیں، جن میں سے ہر ایک کو مختلف نوعیت کے خطرات کا سامنا ہے۔
پہلا راستہ ایران کی اپنی علاقائی سمندری حدود سے گزرتا ہے۔ ایران نے 19 جون سے تمام تجارتی جہازوں کو اسی راستے کے استعمال کی ہدایت دے رکھی ہے اور اسے آبنائے ہرمز کا واحد محفوظ راستہ قرار دیا ہے۔
تہران اس راستے کو نہ صرف بحری تحفظ کے لیے ضروری قرار دیتا ہے بل کہ اسے مذاکرات میں دباؤ کے ایک اہم ذریعے کے طور پر بھی استعمال کر رہا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ دیگر راستوں کے مقابلے میں اس راستے پر زیادہ نگرانی اور تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے ان بحری جہازوں کے خلاف کارروائیاں کیں جو اس کے مقرر کردہ راستے کے بجائے دیگر گزرگاہوں کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان واقعات کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا اور دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی بھی متاثر ہوئی۔ دوسرا راستہ عمان اور اقوام متحدہ کے بین الاقوامی بحری ادارے کی جانب سے تجویز کیا گیا ہے۔ یہ گزرگاہ آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں عمانی ساحل کے قریب سے گزرتی ہے۔
ایران نے اس راستے پر اعتراض کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اسے امریکی دباؤ کے تحت فعال کیا جا رہا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے آبنائے ہرمز کے معاملات میں بیرونی مداخلت بڑھ سکتی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق عمانی سمندری حدود کے قریب بعض تجارتی جہازوں کو درپیش خطرات ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے منافی ہیں۔ تیسرا راستہ وہ بحری گزرگاہ ہے جو امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی سے پہلے معمول کے مطابق استعمال ہوتی تھی۔ یہ راستہ آبنائے ہرمز کے مرکزی حصے سے گزرتا ہے جہاں سے دنیا بھر کے تجارتی جہاز بلا رکاوٹ آمدورفت کرتے تھے۔ ایران نے اب اس راستے کو خطرناک علاقہ قرار دے رکھا ہے، تاہم سیکیورٹی خدشات کے باوجود بعض بحری جہاز اب بھی اسی راستے کو استعمال کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس گزرگاہ کو درپیش خطرات میں ممکنہ بحری بارودی سرنگیں، فوجی کشیدگی اور اچانک کارروائیوں کا خدشہ شامل ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے جنگ سے پہلے عالمی توانائی کی تقریباً 20 فی صد رسد گزرتی تھی۔ یہ راستہ خلیجی ممالک سے تیل اور گیس کی عالمی منڈیوں تک ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی سلامتی عالمی توانائی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک اہم مسئلہ بن گئی ہے۔پاکستان کی ثالثی میں 17 جون 2026 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی قیادت نے “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” (MoU) پر ڈیجیٹل دستخط کیے تھے۔ اس 14 نکاتی مسودے کے تحت عارضی جنگ بندی، ایران کو تیل کی فروخت کی مشروط اجازت، اور ایران کے منجمد ترقیاتی فنڈز (300 ارب ڈالر) تک رسائی شامل تھی۔ دستخط کے چند ہی دن بعد آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور حتمی شرائط پر دونوں فریقین میں شدید اختلافات پیدا ہوئے، جس سے یہ عارضی معاہدہ کھٹائی میں پڑ گیا۔مذاکرات میں مثبت پیش رفت کی خبروں کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل (برینٹ کروڈ) کی قیمتیں 5 فیصد تک گر کر 80 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی ہیں ,امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں واضح کیا ہے کہ یہ مذاکرات ایران کے لیے ایک “آخری موقع” ہیں۔ انہوں نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک مستقل معاہدہ نہیں ہوتا یا ایران ہتھیار نہیں ڈالتا، تب تک امریکی بحری ناکہ بندی ختم نہیں کی جائے گی۔امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی معاہدوں جیسے جون 2026 میں طے پانے والا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد اس وقت انتہائی نازک دور سے گزر رہی ہیں۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھولنے کا معاہدہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں طے پا سکتا ہے، جبکہ ایران کا اصرار ہے کہ واشنگٹن اپنی ناکہ بندی ختم کرے اور سابقہ وعدوں کا پاس رکھے۔
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے ثالثوں کی جاری کوششوں میں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق، پاکستان تہران اور واشنگٹن کے درمیان بدستور اہم ترین ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ قطر اور عمان بھی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے کیے ہیں، جس کا مقصد تعطل کا شکار 60 روزہ سفارتی روڈ میپ کو بچانا ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے ایران پر مجوزہ فوجی حملے فی الحال منسوخ کر دیے ہیں تاکہ سفارت کاری کو ایک آخری موقع دیا جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے بالواسطہ مذاکرات کی بحالی کا دعویٰ کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ آبنائے ہرمز کو تجارتی آمدورفت کے لیے مستقل طور پر کھول دیا جائے گا۔
واشنگٹن کا اصرار ہے کہ معاہدے کے اگلے مرحلے میں ایران کو اپنے جوہری پروگرام اور یورینیم افزودگی کے حوالے سے سخت شرائط ماننا ہوں گی۔
ثالث کاروں کا ماننا ہے کہ دونوں فریق طویل جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہتے، اس لیے عارضی کشیدگی کے باوجود مفاہمت کی گنجائش موجود ہے۔
قطر، عمان اور پاکستان ثالثی کرنے والے ممالک واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں، مجوزہ معاہدوں کے مسودوں کے تبادلے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے معاونت میں مصروف ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، موجودہ تعطل کے باوجود پاکستان اور قطر کی مخلصانہ ثالثی اور دونوں معاشی و عسکری حریفوں کے درمیان سفارتی پیغامات کی مسلسل ترسیل خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچانے میں اہم ترین ہتھیار ثابت ہو رہی ہے۔
اس ضمن میں ثالث قطر نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکا اور ایران آئندہ چند گھنٹوں میں کسی معاہدے تک پہنچنے سکتے ہیں۔ قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے منگل کو بریفنگ میں کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے جاری ثالثی کی کوششیں انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے تاہم ثالث ایک دوسرے سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے فی الحال امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی تردید کی ہے، تاہم یہ واضح کیا ہے کہ تہران خطے میں ثالثی کے ذریعے سیاسی و سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے مکمل پرعزم ہے۔
ایران اس وقت آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی کے عارضی محفوظ راستوں اور ٹیکسز کے معاملات پر عمان کے ساتھ تکنیکی سطح کی بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔
آبنائے ہرمز کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے قطری ترجمان نے کہا کہ قطر کا مؤقف ہے کہ اس اہم بحری گزرگاہ کو دوبارہ کھلنا چاہیے اور یہاں جہاز رانی اسی طرح جاری رہنی چاہیے جیسے ماضی میں جاری تھی۔ ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس یا ٹیکس وصول کیا جانا چاہیے تاہم امریکا نے اس تجویز کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔قطر کے نزدیک آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات کا فیصلہ علاقائی ممالک کو مل کر کرنا چاہیے تاکہ خطے میں استحکام اور عالمی توانائی کی ترسیل بلا تعطل برقرار رہ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوحہ ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے،
امید ہے کہ امریکا اور ایران آئندہ چند روز یا گھنٹوں میں کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔
اس سے قبل امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایک یا دو روز میں معاہدے کا امکان ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور دونوں فریق آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر مذاکرات کامیاب رہے تو آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران معاہدے کا باضابطہ اعلان سامنے آسکتا ہے۔”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” (Islamabad MoU) کے جن 14 بنیادی نکات کا ذکر کیا ہے، وہ 17 جون 2026 کو امریکہ اور ایران کے درمیان دستخط ہونے والی دستاویز کا اصل متن ہیں۔ تاہم، حالیہ ہفتوں (جولائی اور اگست 2026) میں زمینی صورتحال اور اس معاہدے کی حیثیت ڈرامائی طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔14 نکات پر مشتمل مفاہمتی یادداشت کہا گیا ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور اس میں ملک کی ’تعمیر نو اور اقتصادی ترقی‘ کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈ کا بھی وعدہ کیا گیا
معاہدے میں کہا گیا کہ امریکہ، ایران اور ان کے اتحادی ’تمام محاذوں پر‘ فوجی کارروائیوں کے ’فوری اور مستقل‘ خاتمے کا اعلان کریں گے جن میں لبنان بھی شامل ہےامریکہ اور ایران ایک دوسرے کی ’خودمختاری اور علاقائی سالمیت‘ کا احترام کریں گے اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں گے۔ امریکہ اور ایران 60 دن کی ’زیادہ سے زیادہ‘ مدت میں حتمی معاہدے پر بات چیت اور اسے مکمل کرنے کے لیے پُرعزم ہوں گے تاہم باہمی رضامندی سے اس مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ 60 دن کا وقت شروع ہو چکا کیونکہ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط کر دیے ہیں ,مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنا شروع کرے گا اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد ’کسی بھی رکاوٹ یا پابندی‘ کو ہٹا دے گا۔معاہدے کے ایک حصے میں کہا گیا کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد ایران ’اپنی بھرپور کوششوں کے ساتھ انتظامات کرے گا‘ تاکہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنائی جا سکے، بغیر کسی فیس کے۔دستاویز کے مطابق طویل مدت میں ایران عمان اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے ایک ’وسیع تر‘ معاہدہ تشکیل دے گا۔مفاہمتی یادداشت کے مطابق امریکہ اور علاقائی شراکت دار، ایران میں تعمیرِ نو اور معاشی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر (224 ارب پاؤنڈ) کے ایک ’حتمی، باہمی طور پر طے شدہ منصوبے‘ کو تیار کریں گے۔امریکہ ایران کے خلاف تمام معاشی پابندیاں ختم کرے گا، جن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت عائد پابندیاں اور وہ پابندیاں بھی شامل ہیں جو امریکہ نے یکطرفہ طور پر نافذ کی تھیں۔
ایران اس بات پر متفق ہوا کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور نہ ہی خریدے گا اور دونوں فریق اس بات پر بھی متفق ہوئے ہیں کہ تہران کے پاس پہلے سے موجود افزودہ یورینیئم کے معاملے کو حل کیا جائے گا۔ افزودہ یورینیم کے معاملے سے نمٹنے تک ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ’سٹیٹس کو‘ برقرار رہے گا۔ایران طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ اس کے منجمد اثاثے جاری کیے جائیں تاکہ ملک کو ایک اور معاشی سہارا مل سکے۔دستاویز کے آخری نکات میں کہا گیا کہ امریکہ اور ایران مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد اور مستقبل کے معاہدے کی پاسداری کی نگرانی کے لیے ایک ’طریقۂ کار‘ قائم کریں گے جب دستخط ہو جائیں گے اور اس پر عملدرآمد شروع ہو جائے گا تو امریکہ اور ایران حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کا آغاز کریں گے۔ آخر میں مفاہمتی یادداشت میں واضح کیا گیا کہ حتمی معاہدے کی توثیق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک پابند قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ممکنہ معاہدے کی امید پر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔