اسلام آباد (ٹی این ایس) دفاعی معاہدہ مابین پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ

 
0
3

اسلام آباد (ٹی این ایس) پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے ایک تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دینے ہیں، جسے “مکہ ڈیفنس جوائنٹ ایگریمنٹ” (مکہ ڈیفنس جوائنٹ ایگریمنٹ) کا نام دیا گیا ہے,
یہ سہ فریقی معاہدہ ستمبر 2025 میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے باہمی دفاعی معاہدے کی ہی ایک وسیع کڑی ہے، جس میں اب ترکیہ کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔مبصرین کے مطابق، اسرائیل اس معاہدے کو خطے میں اپنے بڑھتے ہوئے عسکری اثر و رسوخ کے خلاف ایک “مخالف سنی بلاک” کے طور پر دیکھ رہا ہے، جس میں نیٹو کی دوسری بڑی فوج (ترکیہ)، دنیا کی بڑی معاشی طاقت (سعودی عرب) اور جوہری صلاحیت کا حامل ملک (پاکستان) یکجا ہو گئے ہیں۔بھارتی وزارتِ خارجہ نے اپنے ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ نئی دہلی اس معاہدے اور اس کی شقوں کی “قریبی نگرانی” (Closely Following) کر رہا ہے۔ بھارت کے لیے پاکستان کا خلیج اور مشرقِ وسطیٰ کے تزویراتی دفاعی مرکز میں شامل ہونا اور نئے اجتماعی دفاعی وعدے حاصل کرنا ایک بڑی جیو پولیٹیکل تشویش کا باعث ہے۔
ترک صدر اور سعودی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں ہے اور امن و استحکام کے خواہاں دیگر برادر ممالک بھی اس کا حصہ بن سکتے ہیں۔
سعودی حکام نے ان قیاس آرائیوں کی تردید کی ہے کہ اس معاہدے کا مقصد کسی قسم کا ہتھیاروں کی دوڑ یا جوہری توسیعی پروگرام شروع کرنا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے ستمبر 2025 میں دوحہ پر کیے گئے فضائی حملوں نے خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کو اپنی سیکیورٹی ترجیحات پر نظرثانی کرنے پر مجبور کیا خلیج میں اس بڑے سیکیورٹی بحران کے وقت امریکہ کی روایتی دفاعی ضمانتوں اور سست ردِعمل نے خطے کے ممالک کے اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچائی اسی تزویراتی خلا اور فوری دفاعی ضرورت کے احساس نے ریاض اور اسلام آباد کو طویل عرصے سے قائم قریبی تعلقات کو ایک باضابطہ اور تحریری “تزویراتی باہمی دفاعی معاہدے” (SMDA) میں تبدیل کرنے پر آمادہ کیا ۔ یہ حملہ اس بات کا واضح ثبوت بن گیا کہ خلیجی ممالک اب خطے کی سلامتی کے لیے صرف مغربی طاقتوں پر انحصار نہیں کر سکتے، بلکہ انہیں پاکستان جیسی مضبوط ترین مسلم فوجی اور جوہری طاقت کے ساتھ باقاعدہ عسکری اتحاد قائم کرنے کی ضرورت ہے
قطر پر حملہ ایک ایسے ملک کی سرزمین پر ہوا جو امریکہ کا باقاعدہ غیر نیٹو اتحادی (Major Non-NATO Ally) ہے اور جہاں خطے کا سب سے بڑا امریکی فوجی بیس (العدید) قائم ہے۔ اس کے باوجود امریکہ اسرائیل کو اس حملے سے نہ روک سکا۔
اس واقعے نے خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کو یہ واضح پیغام دیا کہ وہ اپنی قومی سلامتی کے لیے مکمل طور پر امریکہ پر انحصار نہیں کر سکتے،
جس کے نتیجے میں انہوں نے پاکستان اور ترکیہ جیسی مسلم فوجی طاقتوں کے ساتھ نئے دفاعی اتحاد (جیسے مکہ ڈیفنس ایگریمنٹ) قائم کرنا شروع کیے۔
امریکہ طویل عرصے سے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے لیے کوشاں تھا۔ تاہم، قطر پر براہِ راست اسرائیلی حملے اور بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد سعودی عرب کے لیے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے امن معاہدے پر دستخط کرنا سیاسی طور پر ناممکن ہو گیا۔ سعودی عرب نے اپنے مؤقف کو مزید سخت کرتے ہوئے واضح کیا کہ جب تک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوتی، اسرائیل کے ساتھ کوئی تعلقات قائم نہیں ہو سکتے۔
یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب حماس کا وفد قطر کی ثالثی میں امریکہ کی طرف سے پیش کردہ جنگ بندی (Ceasefire) کی تجویز پر غور کرنے کے لیے دوحہ میں موجود تھا۔ اسرائیل کی اس کارروائی نے جاری امن مذاکرات کو شدید دھچکا پہنچایا اور قطر نے اسے اسرائیل کی جانب سے “ریاستی دہشت گردی” اور پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا۔ اس حملے نے پورے خلیج کو ہلا کر رکھ دیا۔ حملے کے اگلے ہی دن یو اے ای (UAE) کے صدر سمیت دیگر خلیجی رہنماؤں نے دوحہ کا ہنگامی دورہ کیا اور قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل کو خطے کی سلامتی کے لیے ایک براہِ راست خطرہ قرار دیا۔
اقوامِ متحدہ (UN) کے ماہرین اور عالمی رہنماؤں نے اس حملے کو بین الاقوامی قوانین اور قطر کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دے کر شدید مذمت کی۔ یہاں تک کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس یکطرفہ اسرائیلی کارروائی پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ امریکی اور علاقائی مفادات کے خلاف ہے۔ اس واقعے نے عالمی سطح پر اسرائیل کو مزید سفارتی تنہائی کا شکار کر دیا۔ امریکہ نے اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں اس حملے کی مذمت کی کیونکہ اس سے امریکہ کی خلیج میں پوزیشن کمزور ہوئی۔
امریکی حکام کا ماننا ہے کہ خلیجی شراکت دار امریکہ سے مکمل ناتا توڑنے کے بجائے اپنی سیکیورٹی کے متبادل آپشنز تلاش کر رہے ہیں۔
امریکی دفاعی ماہرین کے مطابق، 2026 میں امریکہ-اسرائیل اور ایران جنگ کے دوران خلیج میں امریکی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان اور اس نئے مسلم اتحاد کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کا تزویراتی کردار اور اثر و رسوخ نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔
چین کی وزارتِ خارجہ نے قطر پر اسرائیلی حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی تھی۔ بیجنگ نے واضح کیا کہ یہ حملہ مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے ایک مخصوص غیر علاقائی ملک (امریکہ) کی یکطرفہ اور غیر متوازن پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔چین اس نئے دفاعی اتحاد (پاک-سعودی-ترک پیکٹ) کے سب سے بڑے پسِ پردہ فائدہ اٹھانے والے ملک کے طور پر ابھرا ہے۔ چین کی تیل اور گیس (LNG) کی سپلائی کا بڑا حصہ خلیج فارس سے آتا ہے۔ اب بغیر کسی بحری بیڑے یا سرمایہ کاری کے، چین کی توانائی کی لائف لائن کو پاکستان اور ترکیہ جیسی بڑی عسکری طاقتوں کا تحفظ مل گیا ہے۔ یہ معاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ خلیجی ممالک کا مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران امریکی دفاعی ضمانتوں (US Security Umbrella) پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے اور وہ اپنے دفاع کے لیے متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں۔یہ فوری طور پر کوئی “آپریشنل ملٹری الائنس” نہیں ہے بلکہ ایک “اسٹرٹیجک سگنل” ہے، کیونکہ ایک مربوط مشترکہ فوجی کمانڈ بنانے میں ابھی کئی سال لگ سکتے ہیں۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ریاض کے قصر یمامہ میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دستخطوں سے ہونے والا تزویراتی دفاعی معاہدہ اسلامی دنیا کی تاریخ کا ایک اہم ترین موڑ ثابت ہوا ہے۔ اس تاریخی معاہدے نے دنیا کی واحد مسلم جوہری طاقت اور خلیج کے سب سے بااثر ملک کے درمیان ایک مستقل فوجی اور سیکیورٹی اتحاد کی بنیاد رکھی جس کے تحت دونوں ممالک میں سے کسی ایک پر بھی ہونے والے بیرونی حملے کو دونوں ممالک پر حملہ تصور کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔ اس معاہدے کی عملی ضرورت اس وقت پیش آئی جب خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سعودی عرب نے اس دفاعی پیکٹ کو نافذ کیا اور پاکستان نے اپنی عسکری ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے ہزاروں ہنر مند فوجی دستے، جدید ترین جے ایف-17 جنگی طیارے، ڈرون اسکواڈرنز اور فضا کو محفوظ بنانے کے لیے فضائی دفاعی نظام سعودی عرب روانہ کیے۔
یہ تعاون صرف فوجیوں کی روایتی تعیناتی تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں انٹیلیجنس شیئرنگ، بیلسٹک میزائل ڈیفنس اور بحری سیکیورٹی کے شعبوں میں مشترکہ حکمتِ عملی بھی شامل تھی۔
بعد ازاں مکہ مکرمہ کے قصر الصفا میں منعقدہ سربراہی اجلاس کے دوران اس باہمی اتحاد کو مزید وسعت دیتے ہوئے اس میں ترکیہ کو بھی شامل کر لیا گیا جس سے یہ “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” کی صورت میں ایک طاقتور سہ فریقی اتحاد بن گیا۔
اس تزویراتی پیش رفت نے ترکیہ کی جدید دفاعی صنعت اور نیٹو معیار کی ٹیکنالوجی کو پاکستان کی افرادی عسکری قوت اور سعودی عرب کے مالی و جغرافیائی وسائل کے ساتھ یکجا کر دیا۔
اگرچہ بین الاقوامی مبصرین اس معاہدے کی سخت دفاعی شقوں کو نیٹو کے اجتماعی دفاعی اصولوں سے تشبیہ دیتے ہیں، تاہم تینوں ممالک کی حکومتوں نے واضح کیا ہے کہ یہ اتحاد خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد خطے میں کسی قسم کا جارحانہ فوجی یا فرقہ وارانہ بلاک بنانا نہیں ہے بلکہ اس کا دروازہ امن کے خواہاں دیگر برادر ممالک کے لیے بھی کھلا ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں بیرونی مداخلت کا راستہ روک کر مستقل امن قائم کیا جا سکے۔
مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی جیو پولیٹکس، بیرونی سیکیورٹی ضمانتوں پر عدم اعتماد اور خطے کے اہم ترین مسلم ممالک کے مشترکہ مفادات نے ان تینوں بڑی فوجی اور معاشی طاقتوں کو اس تاریخی اتحاد پر مجبور کیا ہے
مکہ مکرمہ کے قصر الصفا میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی سربراہی اجلاس کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس تزویراتی (Strategic) معاہدے پر دستخط کیے ہیں:
معاہدے کی سب سے اہم شق کے مطابق، اگر تینوں برادر ممالک میں سے کسی بھی ایک ملک پر مسلح حملہ ہوتا ہے، تو اسے تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
ماہرین اس شق کو نیٹو (NATO) کے آرٹیکل 5 سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف تینوں ممالک مل کر اجتماعی دفاعی صلاحیت کو بروئے کار لائیں گے
مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے تناظر میں، اس معاہدے کا مقصد خطے میں امن، سلامتی اور تزویراتی توازن (Strategic Autonomy) کو برقرار رکھنا ہے۔
ترکیہ کی جدید دفاعی صنعت (بشمول ڈرونز اور نیٹو معیار کی ٹیکنالوجی)، پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اور مضبوط فوج، اور سعودی عرب کے مالی و جغرافیائی وسائل کو یکجا کر کے باہمی دفاعی مینوفیکچرنگ اور انٹیلیجنس شیئرنگ کو فروغ دیا جائے گا۔یہ معاہدہ گذشتہ برسوں میں ہونے والے پاک-سعودی اور پاک-ترک باہمی فوجی تعاون کو مزید وسعت دے گا۔
سعودی وزارتِ خارجہ اور متعلقہ حکام کے مطابق، یہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے۔ اس کا مقصد کوئی “فرقہ وارانہ بلاک” یا مخصوص “ملٹری ایکسس” بنانا نہیں ہے۔دیگر ممالک کے لیے کھلا ہے:
7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی “مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ” (Makkah Joint Defence Agreement) پر عالمی اور علاقائی سطح پر انتہائی اہم، نپے تلے اور متنوع ردِعمل سامنے آئے ہیں۔ اس معاہدے کے نیٹو طرز کے “اجتماعی دفاع” (ایک پر حملہ، سب پر حملہ) کے اصول نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے
۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اسے خطے کے لیے “امن کی ڈھال” (Shield of Peace) قرار دیا اور اس معاہدے کی کامیابی کے لیے پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو سراہا۔ ترک صدر رجب طیب اردوان اور ترک حکام نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، یہ کسی بھی تیسرے ملک کو نشانہ نہیں بناتا اور امن کے خواہاوں دیگر برادر ممالک کے لیے بھی اس کے دروازے کھلے ہیں,عودی نائب وزیرِ خارجہ رائد قرملي نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ کسی قسم کا عسکری بلاک، فرقہ وارانہ اتحاد یا ہتھیاروں کی دوڑ شروع کرنے کے لیے نہیں ہے، اور نہ ہی یہ سعودی عرب کے دیگر عالمی اتحادیوں (جیسے امریکہ) کے ساتھ تعلقات کی قیمت پر کیا گیا ہے۔ایران کی حکومت نے اگرچہ ابھی تک کوئی باقاعدہ سرکاری ردِعمل نہیں دیا، لیکن ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے اہم رکن ابراہیم رضائی نے ایکس (X) پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے اسے ایک “کاغذی معاہدہ” قرار دیا۔ ایرانی رہنما نے کہا کہ “سعودی عرب کو معلوم ہونا چاہیے کہ ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ کاغذی معاہدے انہیں سیکیورٹی فراہم نہیں کر سکتے، بالکل اسی طرح جیسے امریکیوں کے یکطرفہ استحصالی تحفظ نے انہیں سیکیورٹی نہیں دی”۔اسرائیل نے اس معاہدے پر تاحال مکمل سرکاری خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔