اسلام آباد (ٹی این ایس) جنگ نہیں امن، لیکن امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے—یہ تاریخی جملہ پاکستان کی پرامن اور خودمختار قومی پالیسی کا بنیادی محور ہے
پاکستانی عسکری اور سیاسی قیادت دیرپا امن کی خواہشمند ہے،
پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی (14 اگست 2026) کے موقع پر یادگارِ فتح (H-8 اسلام آباد) اور ملک بھر میں منعقد ہونے والی تقریبات میں عسکری و سیاسی قیادت نے اس قومی عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کا خواہشمند ہے، تاہم اپنی جغرافیائی حدود اور خود مختاری کا دفاع کرنا اچھی طرح جانتا ہے۔
قومی عزم اور امن کی پالیسی کی اہم خصوصیات ;..
دفاعی صلاحیتوں پر اعتماد: یادگارِ فتح کی تقریب میں ملکی دفاعی قوت کا شاندار مظاہرہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔
خطے میں امن کی وکالت: پاکستان ہمیشہ سے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات اور بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیتا آیا ہے۔
قربانیوں کو خراجِ تحسین: معرکہ حق کے شہداء اور غازیوں کی قربانیاں یہ واضح کرتی ہیں کہ امن کا راستہ دفاعی مضبوطی اور قومی یکجہتی سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی (14 اگست 2026) کے موقع پر صدرِ مملکت، وزیرِ اعظم اور سرکردہ عسکری قیادت کی جانب سے قوم کے نام خصوصی تہنیتی اور عزمِ نو کے پیغامات جاری کیے گئے ان سرکاری پیغامات کا بنیادی محور ملکی استحکام، معاشی ترقی، اور قومی یکجہتی ہے۔
صدرِ مملکت نے اپنے پیغام میں زور دیا کہ پاکستان کی ترقی کا راز آئین کی پاسداری، قانون کی بالادستی اور جمہوری اداروں کی مضبوطی میں پنہاں ہے۔اقلیتوں کے حقوق اور مساوات: انہوں نے بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے تمام شہریوں، خصوصاً اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور ملکی تعمیرِ نو میں ان کے کردار کو سراہا قوم سے اپیل کی گئی کہ وہ تمام تر سیاسی و ذاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر یکجت ہو جائیں, وزیرِ اعظم نے اپنے خطاب اور پیغام میں واضح کیا کہ ملک اس وقت معاشی استحکام کی پٹری پر گامزن ہے، اور حکومت مہنگائی میں کمی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سخت اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی ، فری لانسنگ اور جدید ہنر کے میدان میں نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے عزم کو دہرایا ,وزیرِ اعظم نے مظلوم کشمیری اور فلسطینی بھائیوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
عسکری قیادت نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور جنگ کا خواہشمند نہیں، لیکن امن کی اس خواہش کو ہرگز کمزوری نہ سمجھا جائے۔شہداء کو خراجِ عقیدت: وطنِ عزیز کی مٹی کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پاک فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے شہداء کو بھرپور انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا گیا سیکیورٹی فورسز نے ملک سے دہشت گردی اور تخریب کاری کے مکمل خاتمے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر نئی دہلی نے ’’درست راستہ اختیار نہ کیا‘‘ تو پاکستان براہِ راست جواب دے گا، جبکہ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے پانی کا ہر قطرہ ریڈ لائن ہے۔
وزیراعظم نے یومِ آزادی کے موقع پر اسلام آباد میں یادگارِ فتح کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے، تاہم اس کی تحمل کی پالیسی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ’’بھارت کو درست راستے پر آنا ہوگا، بصورتِ دیگر اسے براہِ راست جواب دیا جائے گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے پانی کا ہر قطرہ ریڈ لائن ہے۔
وزیراعظم نے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور مسلح افواج کو معرکۂ حق میں پاکستان کی کامیابی پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ کہا کہ یادگارِ فتح پاکستان کی مسلح افواج کی برتری کی علامت اور ان کی کارکردگی پر قوم کے فخر کی عکاس ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ دنیا نئے تنازعات سے محفوظ رہے، اور امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی میں اسلام آباد کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ترکیہ بھی اس معاہدے کا حصہ بن گیا ہے، جسے انہوں نے مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کی علامت قرار دیا۔ فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر اسلام آباد کا مؤقف واضح اور غیر متزلزل ہے۔ وزیراعظم نے افغان حکومت پر بھی زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔ وزیر اعظم نے زور دیا کہ جنگ کی طرح امن کے وقت میں بھی قوم اتحاد کا مظاہرہ کرے۔ ہم سب پاکستان کے وارث، اختلافات دشمنی میں تبدیل نہیں ہونے چاہئیں۔ صدرمملکت آصف علی زرداری نے خطاب میں کہا کہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان نے بھارت کو عبرتناک شکست دی،یادگار فتح معرکہ حق میں کامیابی، شہدا اور غازیوں کی لازوال داستان ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج نے قوم کو 79ویں یومِ آزادی پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اور تحریکِ آزادی کے تمام اکابرین کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ( آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ایڈمرل نوید اشرف اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے قوم کو یومِ آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح اور بانیانِ پاکستان کا وژن، عزم اور حوصلہ آج بھی پاکستانی قوم کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ مسلح افواج نے پاکستان کی آزادی کو حقیقت کا روپ دینے والے تمام شہداء اور قربانیاں دینے والوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء اور غازیوں کی بے مثال قربانیوں نے ملک کی سلامتی، خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق مسلح افواج نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ملک کے محبِ وطن افراد کی خدمات کا بھی اعتراف کیا اور شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ مسلح افواج نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آئین کی پاسداری اور قوم کی جانب سے سونپی گئی مقدس ذمہ داری کو پوری ذمہ داری کے ساتھ ادا کرتی رہیں گی۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی اصل طاقت اس کی قوم کے اتحاد اور اجتماعی عزم میں ہے۔ یومِ آزادی کے موقع پر ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کے اصولوں سے وابستگی کی تجدید کا عزم کیا گیا ہے۔ مسلح افواج نے کہا کہ پاکستان کی آزادی، سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے پوری قوم متحد ہے اور قومی یکجہتی ہی ملک کی مضبوطی کی بنیاد ہے۔قبل ازیں کراچی تا خیبر پاکستان کا 79واں یومِ آزادی آج ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ یومِ آزادی کے دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 31 جبکہ چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں 21، 21 توپوں کی سلامی سے ہوا۔ مساجد میں نمازِ فجر کے بعد ملک کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔کراچی میں مزارِ قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب منعقد ہوئی، جہاں پاکستان نیول اکیڈمی کے کیڈٹس نے مزارِ قائد کے گارڈز کے فرائض سنبھال لیے۔ تقریب میں قومی جذبے سے سرشار نوجوان کیڈٹس نے اپنے فرائض سنبھالے۔ لاہور، پشاور اور کوئٹہ سمیت مختلف شہروں میں بھی یومِ آزادی کی تقریبات ہو ئی۔ فوجی جوانوں کے پرجوش نعروں سے فضا گونج اٹھی جبکہ سرکاری و نجی عمارتوں، شاہراہوں اور اہم مقامات کو قومی پرچموں اور سبز ہلالی جھنڈیوں سے سجایا گیا
ملک بھر میں یومِ آزادی کے سلسلے میں مختلف تقریبات، ریلیوں، پرچم کشائی کی تقریبات اور دیگر پروگرامز کا انعقاد کیا گیا شہریوں کی بڑی تعداد قومی پرچم تھامے آزادی کی خوشیاں منائیں, یومِ آزادی کی مناسبت سے مختلف شہروں میں گزشتہ رات شاندار آتش بازی بھی کی گئی۔ آسمان رنگ و نور میں نہا گیا جبکہ شہریوں نے پاکستان زندہ باد کے نعروں کے ساتھ جشنِ آزادی منایا۔
ملک کے مختلف حصوں میں سڑکوں، بازاروں اور اہم مقامات پر شہریوں کا جوش و خروش نمایاں رہا بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں نے سبز و سفید لباس پہن کر اور قومی پرچم لہرا کر وطن سے محبت کا اظہار کیا۔ پاکستان بھر میں یومِ آزادی کی تقریبات کا سلسلہ دن بھر جاری رہا، جبکہ شہری ملک کی ترقی، استحکام، امن اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کرتے رہے, اُدھر پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر مزارِ قائد کراچی میں گورنر سندھ نہال ہاشمی اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے حاضری دی اور بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ گورنر سندھ نہال ہاشمی اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مزارِ قائد پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ دونوں رہنماؤں نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی قلمبند کیے۔
قبل ازیں صدر آصف زرداری اور وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی اور کمال فن تعمیر کے شاہکار ’ یادگار فتح‘ کا افتتاح کر کیا گیا ہے، جو آنے والی نسلوں تک معرکہ حق کی داستانیں سناتا رہے گا۔
افتتاح کے موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیربھی موجود تھے جب کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وزیر دفاع خواجہ آصف بھی موجود تھے۔ یادگار فتح میں مستقل طور پر پروجیکشن میپنگ کا جدید نظام نصب کیا گیا ، جو ایک لاکھ 20 ہزار لیومن ٹیکنالوجی پر مشتمل ہے، پروجیکشن میپنگ کے ذریعے یادگار فتح پر روشنی، موسیقی اور فنِ تعمیر کا حسین امتزاج پیش کیاگیا۔ تقریب میں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے مسلح افواج، سول آرمڈ فورسز اور پولیس کے دستوں نے شرکت کی، جبکہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے پولیس دستے بھی شریک ہوئے۔قبل ازیں تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا جس کے بعد یادکارِ فتح کی تعمیر سے متعلق کہانی کی ویڈیو نشر کی گئی۔ یاد گارِ فتح کی تقریب میں اتحاد، یکجہتی اور قومی وحدت کی خوبصورت عکاسی کی جا رہی ہے، باوقار دستے قومی اتحاد اور یگانگت کی علامت ہیں۔ یادگارِ فتح قومی تاریخ، معرکہ حق میں کامیابی، شہدا اور غازیوں کی قربانیوں اور عزمِ صمیم کی علامت ہیں۔ تقریب کے آغاز پر بگل بجا کر صدر مملکت آصف علی زرداری کی آمد کا اعلان کیا گیا، صدر مملکت تقریب کے مہمان خصوصی ہیں جب کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی تقریب میں شریک ہوئے۔













