اسلام آباد (ٹی این ایس) امریکی خاندان اپنے حکمرانوں کی مہم جوئی کی قیمت ادا کر رہے ہیں

 
0
5

اسلام آباد (ٹی این ایس) ایران کے رہبرِ انقلاب کے بین الاقوامی امور کے سینئر مشیر علی اکبر ولایتی کا یہ کہنا کہ ’’امریکی خاندان اب اپنے حکمرانوں کی مہم جوئی کی قیمت ادا کر رہے ہیں‘‘ محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ موجودہ عالمی اور علاقائی حالات میں امریکی پالیسیوں کے معاشی اثرات کی جانب ایک اہم اشارہ ہے۔ ایران کے خلاف مسلسل پابندیوں، دباؤ اور محاذ آرائی کی پالیسی کا مقصد تہران کو اقتصادی طور پر کمزور کرنا رہا ہے، لیکن ولایتی کے مطابق اب اس پالیسی کے مالی اثرات خود امریکی عوام تک پہنچنے لگے ہیں۔

ولایتی نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں سے متعلق گفتگو، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بحری ناکہ بندی کے دعوؤں اور سینیٹر جان کارنن کی امریکی خاندانوں کے لیے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اخراجات پر تشویش کو ایک دوسرے کے مقابل رکھ کر یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ واشنگٹن کی قیادت جس پالیسی کو ایران پر دباؤ بڑھانے کی کامیابی کے طور پر پیش کررہی ہے، اس کی ایک قیمت امریکی شہری بھی ادا کررہے ہیں۔

یہی اس معاملے کا سب سے اہم پہلو ہے۔ اقتصادی پابندیاں کاغذ پر کسی ایک ملک کو نشانہ بناتی ہیں، لیکن آج کی باہم مربوط عالمی معیشت میں ان کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہ سکتے۔ ایران دنیا کے ایک ایسے خطے میں واقع ہے جو عالمی توانائی، تیل کی تجارت اور بحری نقل و حمل کے اعتبار سے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ اس خطے میں کشیدگی بڑھنے، بحری تجارت متاثر ہونے یا توانائی کی فراہمی کے بارے میں خدشات پیدا ہونے کا اثر عالمی منڈیوں پر پڑنا ناگزیر ہے۔

اگر تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا نتیجہ صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا۔ نقل و حمل، صنعت، فضائی سفر، خوراک، بجلی، پیداواری لاگت اور روزمرہ استعمال کی اشیا تک مہنگائی کی نئی لہر پہنچ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے خلاف انتہائی دباؤ کی پالیسی کو صرف ایران کی معیشت کے تناظر میں دیکھنا کافی نہیں۔ یہ سوال بھی ضروری ہے کہ اس پالیسی کی بالواسطہ قیمت امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے عام شہریوں کو کتنی ادا کرنا پڑتی ہے۔

تاہم امریکہ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کو صرف ایران کے خلاف پالیسیوں کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ امریکی معیشت پر شرح سود، حکومتی اخراجات، عالمی منڈیوں، تجارتی پالیسیوں، سپلائی چین اور دیگر داخلی و خارجی عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود ولایتی کا بنیادی نکتہ اپنی جگہ اہم ہے کہ دوسرے ممالک پر اقتصادی دباؤ ڈالنے کی پالیسی بالآخر خود پابندیاں لگانے والی طاقت کے لیے بھی مکمل طور پر بے قیمت نہیں رہتی۔

ولایتی نے اپنے بیان کو 19 اگست 1953 کے واقعات کی برسی سے بھی جوڑا ہے، جسے ایران میں 28 مرداد کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ وزیراعظم محمد مصدق کی حکومت کے خاتمے میں امریکی اور برطانوی کردار ایرانی قومی اور سیاسی یادداشت کا مستقل حصہ بن چکا ہے۔ ولایتی کے مطابق 73 برس بعد حالات اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں علاقائی مساوات بنیادی طور پر تبدیل ہوچکی ہیں اور اب امریکی قیادت کی مہم جوئی کا مالی بوجھ امریکی خاندانوں تک پہنچ رہا ہے۔

بلاشبہ آج کا مشرق وسطیٰ 1953 کا مشرق وسطیٰ نہیں۔ دنیا بھی یک قطبی سیاسی ماحول سے بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ چین ایک بڑی عالمی اقتصادی طاقت بن چکا ہے، روس اہم سیاسی و عسکری کردار رکھتا ہے اور مشرق وسطیٰ کے ممالک بھی اپنے قومی مفادات کے مطابق زیادہ متوازن اور متنوع خارجہ تعلقات قائم کررہے ہیں۔ ایران بھی کئی دہائیوں کی پابندیوں کے باوجود علاقائی سیاست میں ایک اہم فریق کے طور پر موجود ہے۔

ایسی صورتحال میں امریکہ کے لیے یہ سوچنا ضروری ہے کہ کیا مسلسل پابندیاں، بحری دباؤ اور فوجی دھمکیاں واقعی طویل المدتی نتائج دے سکتی ہیں؟ اگر کسی پالیسی کے نتیجے میں توانائی مہنگی ہوتی ہے، عالمی تجارت متاثر ہوتی ہے اور عام امریکی خاندانوں کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے تو امریکی عوام بھی یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہوں گے کہ اس محاذ آرائی سے انہیں کیا حاصل ہورہا ہے۔

یہی سوال ایران سمیت تمام متعلقہ فریقوں کے لیے بھی اہم ہے۔ کشیدگی کا مسلسل بڑھنا کسی کے مفاد میں نہیں۔ ایران کو بھی ایسے اقدامات سے گریز اور سفارتی راستوں کو ترجیح دینی چاہیے جو خطے کو مزید خطرناک تصادم کی جانب لے جاسکتے ہیں۔

دنیا کو 1953 کے واقعات سے یہ سبق لینا چاہیے کہ طاقت کے ذریعے دوسرے ممالک کی سیاسی سمت متعین کرنے کی کوششیں طویل المدتی تلخیاں پیدا کرتی ہیں۔ آج ضرورت نئی مداخلتوں، پابندیوں اور محاذ آرائی کی نہیں بلکہ مذاکرات اور باہمی احترام پر مبنی سفارت کاری کی ہے۔

’’امریکی خاندان اپنے حکمرانوں کی مہم جوئی کی قیمت ادا کر رہے ہیں‘‘ کا ولایتی کا بیان اسی لیے ایک وسیع تر حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ عالمی سیاست میں کیے گئے فیصلوں کی قیمت صرف حکومتیں نہیں چکاتیں؛ بالآخر اس کا بوجھ عام شہریوں کے گھریلو بجٹ تک پہنچتا ہے۔ اگر واشنگٹن واقعی اپنے عوام کے معاشی مفادات کا تحفظ چاہتا ہے تو اسے یہ جائزہ ضرور لینا ہوگا کہ ایران کے خلاف دائمی محاذ آرائی کی قیمت کہیں اس کے اپنے شہریوں کے لیے اس کے ممکنہ فوائد سے زیادہ تو نہیں ہوتی جارہی۔