اسلام آباد (ٹی این ایس) اسلام آباد وہ شہر تھا جہاں داخل ہوتے ہی خوشگوایت کااحساس ہوتا تھا۔ ہرشاہراہ پر رنگ برنگے پھول، سرسبز درخت اور خوبصورت بیلیں لہراتی تھیں۔ مارگلہ کی پہاڑیاں، قدرتی نالے اور گھنے جنگلات اس شہر کو ایک وادی کا روپ دے دیتے تھے۔ یہاں کے مکینوں کو ایک ہفتے کی لگاتار بارشوں کا بھی ڈر نہیں ہوتا تھا۔ پانی قدرتی طور پر بہہ جاتا، راستے نہیں بند ہوتے اور گاؤں و شہری آبادیوں میں پانی کھڑا ہونے کا خوف ہی نہیں تھا۔ آج کا اسلام آباد محض سڑکوں، پلاٹوں اور کنکریٹ کا جال ہے۔ درخت کاٹے جا چکے، نشیبی گزرگاہیں بند کر دی گئی ہیں اور قدرتی نالوں کی چوڑائی گھٹا دی گئی ہے۔ اب ذرا سی بارش اسلام آباد کو ڈبو دیتی ہے۔ ستمبر 2026 کی حالیہ بارشوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ یہ قدرتی آفت نہیں، بلکہ منصوبہ بندی کی ناکامی اور انتظامی غفلت کا نتیجہ ہے۔ماہرین اور رپورٹس واضح کرتی ہیں کہ اس تباہی کی جڑیں گہری ہیں۔ اسلام آباد کا اصل ماسٹر پلان قدرتی ڈھلوانوں اور پانی کے بہاؤ کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا تھا۔ لیکن نوے کی دہائی میں زون فور کو گرین ایریا سے رہائشی علاقے میں تبدیل کر دیا گیا۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز نے نالوں پر قبضہ کیا، ان کی چوڑائی چالیس فٹ سے اٹھارہ فٹ تک گھٹا دی گئی اور بعض جگہوں پر سی ڈی اے کی اجازت سے نالوں کو ڈھانپ بھی دیا گیا۔ ای-11، ڈی-12، سائیڈ پور اور غوری ٹاؤن جیسے علاقوں میں یہی نالے اب رکاوٹ بن چکے ہیں۔ سیٹلائٹ تصاویر 2005 سے 2026 تک کے موازنے سے ظاہر کرتی ہیں کہ نالوں کا راستہ تبدیل کر دیا گیا اور زمین پر تعمیرات کر دی گئیں۔ درختوں کی کٹائی ایک اور بڑی وجہ ہے۔ گلوبل فوریسٹ واچ کے مطابق 2001 سے 2025 تک اسلام آباد نے چودہ ہیکٹر درختوں کا احاطہ کھو دیا۔ حالیہ برسوں میں ہزاروں درخت کاٹے گئے۔ کچھ کو پیپر ملبری کے نام پر، کچھ کو انفراسٹرکچر اور سڑکوں کے نام پر۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے بھی کہا کہ کٹائی صرف الرجی والے درختوں تک محدود نہیں، بلکہ ترقیاتی منصوبوں سے بھی منسلک ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ پانی زمین میں جذب نہیں ہوتا، بہاؤ تیز ہو جاتا ہے اور شہر سیلاب کی زد میں آ جاتا ہے۔سی ڈی اے کے بڑے افسران اس حوالے سے کیا حکمت عملی اپنا رہے ہیں؟ ہر مون سون سے پہلے ایمرجنسی پلان جاری ہوتے ہیں، نالے صاف کرنے کے دعوے کیے جاتے ہیں، ڈی واٹرنگ مشینیں تعینات کی جاتی ہیں اور ہیلپ لائن نمبرز جاری کر دیے جاتے ہیں۔ چیک ڈیم بنانے، رین واٹر ہارویسٹنگ لازمی کرنے اور نئے نالے بنانے کے اعلانات بھی ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن اصل مسئلہ جوں کا توں رہتا ہے۔ نالوں پر قبضے ہٹانے کے آپریشن تاخیر سے شروع ہوتے ہیں، ماسٹر پلان کی خلاف ورزیاں نظر انداز ہوتی رہتی ہیں اور نئی آبادیوں کے نام پر سبز علاقے مزید ختم کیے جا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سی ڈی اے کے افسران نے اسلام آباد کو “منی میکنگ مشین” بنا دیا ہے۔ پلاٹوں کی قیمتیں آسمان چھوتی ہیں، جبکہ قدرتی ڈرینیج سسٹم، درخت اور ماحولیاتی توازن قربان کر دیے گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پندرہ سے بیس سال میں بیوروکریٹک اور سیاسی فیصلوں نے اس خوبصورت شہر کو کنکریٹ کے جنگل میں بدل دیا۔ پرانے اسلام آباد میں بارش نعمت تھی، آج وہ مصیبت بن چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کب تک صرف عارضی اقدامات پر انحصار کیا جائے گا؟ نالوں کی اصل چوڑائی بحال کیوں نہیں کی جاتی؟ غیر قانونی تعمیرات پر مستقل کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟ درختوں کی کٹائی کے بدلے حقیقی اور پائیدار شجرکاری کیوں نہیں دیکھی جاتی؟ اور سب سے اہم، ماسٹر پلان کی خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کو جوابدہ کیوں نہیں ٹھہرایا جاتا؟ اسلام آباد اب بھی بچایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ سی ڈی اے کے بڑے افسران حقیقی حکمت عملی اپنائیں۔ صرف بیانات اور ایمرجنسی پلان کافی نہیں۔ قدرتی نالوں کو آزاد کیا جائے، درختوں کو تحفظ دیا جائے، غیر منصوبہ بند تعمیرات روکی جائیں اور ماحول کو ترقی پر ترجیح دی جائے۔ ورنہ یہ خوبصورت وادی مکمل طور پر سڑکوں اور پانی کے جال میں تبدیل ہو جائے گی، اور آنے والی نسلیں صرف کہانیوں میں سن پائیں گی کہ کبھی اسلام آباد کتنا سرسبز اور خوشگوار تھا۔ یہ آج کا اسلام آباد نہیں، کل کا خطرہ ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ذمہ داران اپنی ناکامی تسلیم کریں اور اصل حل پر کام کریں۔













